نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ 9 مارچ کو مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) کی جانب سے دائر اس عرضی پر سماعت کرے گی جس میں 2022 کی دہلی ایکسائز پالیسی معاملے میں عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال، سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا اور دیگر 21 ملزمان کو بری کرنے کے نچلی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری کاز لسٹ کے مطابق یہ معاملہ 9 مارچ کو جسٹس سورن کانت شرما کی سنگل بنچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔
CBI نے نچلی عدالت کے فیصلے کو کیا چیلنج
سی بی آئی نے راؤز ایونیو کورٹ کے تفصیلی حکم کے خلاف فوجداری نظرثانی درخواست دائر کی ہے، جس میں تمام 23 ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ استغاثہ ابتدائی سطح پر بھی مقدمہ چلانے کے لیے خاطر خواہ شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔ 27 فروری کو خصوصی جج (پی سی ایکٹ) جتیندر سنگھ نے 1100 سے زائد پیراگراف پر مشتمل اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ سی بی آئی کا مقدمہ ’عدالتی جانچ میں مکمل طور پر ناکام تھا‘ اور ’مکمل طور پر بے بنیاد‘ تھا۔
شواہد کی کمی پر عدالت نے ملزمان کو دی راحت
عدالت نے تقریباً 300 استغاثہ گواہوں کے بیانات اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد پایا کہ ملزمان کے خلاف ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جو سنگین شبہ پیدا کرے۔ عدالت کے مطابق قانونی طور پر قابلِ قبول شواہد کے بغیر ملزمان کو مکمل ٹرائل کا سامنا کرنے پر مجبور کرنا انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوگا۔ یہ معاملہ دہلی حکومت کی 2021-22 کی ایکسائز پالیسی سے متعلق ہے، جسے بعد میں بدعنوانی اور رشوت ستانی کے الزامات کے درمیان منسوخ کر دیا گیا تھا۔
سی بی آئی کے الزامات اور کیجریوال کا ردعمل
سی بی آئی کا الزام تھا کہ مذکورہ پالیسی کچھ نجی شراب کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے تیار کی گئی تھی اور اس کے بدلے مبینہ طور پر انتخابی مقاصد کے لیے رشوت لی گئی۔ حالانکہ، نچلی عدالت نے ایجنسی کے ’وسیع سازش‘ کے نظریے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی مشاورت اور طے شدہ طریقہ کار کے مطابق تیار کی گئی تھی۔ رہائی کے فیصلے کے بعد اروند کیجریوال نے مقدمے کو ’جھوٹا اور من گھڑت‘ قرار دیتے ہوئے عدلیہ پر اعتماد کا اظہار کیا اور ’ستیہ میو جیتے‘ کہا، جبکہ منیش سسودیا کو عدالت کے باہر پارٹی کارکنوں کے درمیان دیکھا گیا۔
ادھر دہلی بی جے پی کے سابق صدر اور رکن پارلیمنٹ منوج تیواری نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عام آدمی پارٹی کی خوشی عارضی ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ ہائی کورٹ میں سی بی آئی کی اپیل نچلی عدالت کے فیصلے کو بدل سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ معاملے سے متعلق کئی سم کارڈ اور موبائل فون تباہ کیے گئے اور سوال اٹھایا کہ اگر ایکسائز پالیسی قانونی طور پر درست تھی تو اسے واپس کیوں لیا گیا۔
بھارت ایکسپریس۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…
عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…
AFSPA کے تحت یکم اکتوبر سے نافذ ہوگا حکم، 5 اضلاع کے 13 پولیس تھانوں…