نئی دہلی: آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی صدر نیہا بورا کی جانب سے دائر عرضی پر تمام فریقوں کے دلائل تفصیل سے سننے کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ جسٹس سبرامنیم پرساد کی عدالت اس معاملے میں 23 اکتوبر کو شام 6 بجے فیصلہ سنائے گی۔ آئیسا کی صدر کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل گوپال شنکرنارائن نے عدالت کو بتایا کہ 15 اکتوبر کو دہلی کے کئی مختلف علاقوں میں بھارتی شہری تحفظ سنہتا (BNSS) کی دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کیے گئے تھے۔ بورا نے اسی دن پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کی تھی اور 16 اکتوبر کو شام 4 بجے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی تھی۔ وکیل نے واضح کیا کہ اس پوسٹ میں صرف لوگوں سے منڈی ہاؤس میں جمع ہونے کی اپیل کی گئی تھی، نہ کہ کسی جرم کو انجام دینے کے لیے کہا گیا تھا۔ دلیل دی گئی کہ اس معاملے میں تشدد بھڑکانے، قانون توڑنے یا امن و امان خراب کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔ بورا کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں جاری احتجاج سے وابستہ نہیں تھیں، بلکہ انہوں نے منڈی ہاؤس میں ایک الگ احتجاج کا اہتمام کیا تھا۔ جب وہ 16 اکتوبر کو منڈی ہاؤس پہنچیں تو محض 10 سے 15 منٹ بعد ہی انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے صرف نعرے لگائے تھے۔
دہلی پولیس کا موقف
دہلی پولیس کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (ASG) چیتن شرما نے عدالت کو بتایا کہ علاقے میں امتناعی احکامات نافذ تھے اور امن و امان خراب ہونے کے خدشے کے پیش نظر احتیاطی طور پر بورا کو گرفتار کیا گیا تھا۔ دہلی پولیس نے نیہا بورا کی جانب سے دائر عرضی کے قابل سماعت ہونے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اس عرضی پر سماعت نہیں کی جانی چاہیے۔
عرضی میں کیا مطالبہ کیا گیا ہے؟
نیہا بورا نے اپنی عرضی میں الزام لگایا ہے کہ 16 اکتوبر کو حراست سے رہائی کے بعد سے سادہ لباس میں دہلی پولیس کے اہلکار ان کا پیچھا کر رہے ہیں اور انہیں ڈرانے دھمکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بورا نے BNSS کی دفعات 126 اور 130 کے تحت جاری کیے گئے نوٹس پر روک لگانے اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ دہلی پولیس نے 18 اکتوبر کو نوٹس جاری کرکے انہیں اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت دی تھی۔ اس نوٹس میں تحقیقات کی مدت کے دوران امن برقرار رکھنے کے لیے 10 ہزار روپے کا ذاتی مچلکہ اور ایک ضمانتی پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔ بورا کے وکلا نے واضح کیا ہے کہ وہ اس مچلکے پر دستخط نہیں کریں گی۔ آئیسا کا کہنا ہے کہ یہ نوٹس مبہم، حقائق کے برعکس اور آئین کے آرٹیکل 19 (اظہار رائے کی آزادی) اور آرٹیکل 21 (شخصی آزادی) کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ موجودہ عالمی نظام آج کے چیلنجز کا حل پیش…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی طویل عمر اور صحت مند زندگی کے لیے نیک…
پولیس نے حضرت گنج تھانے میں شردھا دوبے سے تقریباً 6 گھنٹے تک پوچھ گچھ…
دوارکا میں 8,941 کروڑ روپے کے یمنا پروجیکٹس کا افتتاح کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ…
اسرائیلی وزیر اعظم نے کیپٹن اسمت مچھار کو ’بھارت کا بہادر پائلٹ‘ قرار دیا۔ دونوں…
کانگریس لیڈر عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ ہم سب جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بھوک…