قومی

Delhi High Court rejects BJP leader Kapil Mishra’s plea: دہلی ہائی کورٹ نے مسترد کی بی جے پی لیڈر کپل مشرا کی فرقہ وارانہ تبصروں سے متعلق کیس میں ٹرائل روکنے کی درخواست

دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو بھارتیہ جنتا پارٹی لیڈر کپل مشرا کی اس درخواست کو مسترد کر دیا جس میں انھوں نے قومی دارالحکومت میں 2020 کے اسمبلی انتخابات سے قبل فرقہ وارانہ دشمنی کو فروغ دینے کے معاملے کے سلسلے میں ان کے خلاف ٹرائل کورٹ کی کارروائی پر روک لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ جسٹس رویندر دودیجا نے 7 مارچ کو خصوصی عدالت کے حکم کو چیلنج کرنے والی مشرا کی درخواست پر یہ نوٹس جاری کیا۔

واضح رہے کہ راؤز ایونیو کورٹ کے خصوصی جج جتیندر سنگھ نے فی الحال دہلی حکومت کے وزیر کپل مشرا کی عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت 2020 کیس کے سلسلے میں سمن کے خلاف نظرثانی کی درخواست کو خارج کر دیا تھا۔ کپل مشرا پر دہلی میں اسمبلی انتخابات کی تشہیر کے دوران 23 جنوری 2020 کو الیکٹرانک میڈیا پر مبینہ طور پر قابل اعتراض تبصرہ پوسٹ کرنے کا الزام ہے۔ یہ مقدمہ ریٹرننگ افسر کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔

کیا ہے معاملہ؟

یہ معاملہ بی جے پی رہنما کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ سے بھی متعلق ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 8 فروری 2020 کو ’’دہلی کی سڑکوں پر بھارت بمقابلہ پاکستان‘‘ انتخاب ہوگا۔ یاد رہے کہ دہلی میں اسی دن ووٹنگ ہونی تھی۔ اس بیان کی بنیاد پر کپل مشرا کے خلاف عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 125 کے تحت انتخابات میں طبقات کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں ایک چارج شیٹ نومبر 2023 میں داخل کی گئی تھی۔

مشرا کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ مہیش جیٹھ ملانی نے منگل کو ہائی کورٹ کو بتایا کہ بی جے پی لیڈر کی سوشل میڈیا پوسٹس میں ’’کسی برادری یا گروہ کا کوئی حوالہ نہیں ہے‘‘۔ جیٹھ ملانی نے کہا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 125 کے تحت مقدمہ درج کرنے کے لیے ایسا ہونا ضروری ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ کے مطابق مشرا کی پوسٹس کا مقصد دشمنی یا نفرت کو فروغ دینا نہیں تھا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان بیانات سے ایسی کوئی صورت حال پیدا نہیں ہوئی۔ جیٹھ ملانی نے یہ بھی کہا کہ مشرا کی پوسٹس انتخابات کے دوران ان لوگوں پر تنقید کرنے کے لیے کی گئی تھیں جو ’’شہریت ترمیمی قانون مخالف تحریک کی آڑ میں ماحول کو خراب کرنا چاہتے تھے۔‘‘ تاہم اپنے فیصلے میں جسٹس سنگھ نے 7 مارچ کو کہا تھا کہ مشرا نے 2020 میں جو بیانات دیے تھے وہ ’’بالواسطہ طور پر ایک ایسے ملک کا حوالہ دے کر مذہب کی بنیاد پر دشمنی کو فروغ دینے کی واضح کوشش لگتے ہیں جو بدقسمتی سے عوامی زبان میں اکثر ایک خاص مذہب کے ارکان کی طرف اشارے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔‘‘

ہائی کورٹ میں دہلی پولیس نے مشرا کی درخواست کی مخالفت کی اور کہا کہ جیٹھ ملانی کی طرف سے دی گئی دلائل پر الزامات طے کرنے کے مرحلے پر بات ہو سکتی ہے۔ تاہم جیٹھ ملانی نے دلیل دی ’’اگر الزامات لگائے گئے تو ان کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا‘‘۔ تاہم ہائی کورٹ نے کہا کہ کارروائی جاری رہنے دیں۔ ’’اگر کل کو ایک سازگار نتیجہ آتا ہے تو تمام کارروائی ختم ہو جائے گی۔ مقدمے کی سماعت کے جاری رہنے کی وجہ سے آپ کو پریشانی نہیں ہوگی۔ اگر کل درخواست منظور ہو جاتی ہے، تو سب کچھ ختم ہو جائے گا…‘‘۔ اس کے بعد عدالت نے اس مقدمے کی سماعت کے لیے بدھ کا دن مقرر کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Ghulam Mohammad

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

6 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

6 hours ago