دہلی ہائی کورٹ نے پیر کے روز مرکزی انفارمیشن کمیشن (CIC) کے اس حکم کو کالعدم قرار دے دیا جس میں وزیراعظم نریندر مودی کی بیچلرز ڈگری کی معلومات ظاہر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ جسٹس سچن دتہ نے دہلی یونیورسٹی کی اس اپیل پر یہ فیصلہ سنایا، جس میں CIC کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں عدالت نے 27 فروری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ واضح رہے کہ نیرج نامی شخص کی RTI درخواست پر CIC نے 21 دسمبر 2016 کو 1978 میں BA امتحان پاس کرنے والے تمام طلبہ کے ریکارڈ کی جانچ کی اجازت دی تھی، جس سال وزیراعظم مودی نے بھی یہ امتحان پاس کیا تھا۔
اس کے خلاف دہلی یونیورسٹی نے عرضی داخل کی تھی اور دہلی ہائی کورٹ نے 23 جنوری 2017 کو CIC کے اس حکم پر عارضی روک لگا دی تھی۔ دہلی یونیورسٹی کی نمائندگی کرنے والے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ CIC کا حکم کالعدم قرار دیا جانا چاہیے، تاہم انھوں نے عدالت کو بتایا کہ یونیورسٹی کو ریکارڈ دکھانے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’یونیورسٹی کو عدالت کے سامنے ریکارڈ پیش کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ 1978 کی بیچلر آف آرٹس کی ڈگری موجود ہے۔‘‘
دہلی یونیورسٹی نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ طلبہ کا ریکارڈ ایک اعتماد کی حیثیت رکھتا ہے اور عوامی مفاد کے بغیر محض تجسس کی بنیاد پر کوئی بھی ذاتی معلومات RTI قانون کے تحت حاصل نہیں کر سکتا۔ دوسری جانب RTI درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں موقف اپنایا کہ RTI قانون کے تحت وزیراعظم کی تعلیمی معلومات عوامی مفاد کے لیے ظاہر کی جا سکتی ہیں۔ یہ مقدمہ تعلیمی شفافیت اور پرائیویسی کے درمیان تنازع کی نمائندگی کرتا ہے جس میں عدالت نے طلبہ کی ذاتی معلومات کے تحفظ کو مقدم رکھا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
ملک بھر میں اڈانی فاؤنڈیشن 19 سے زائد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں…
اسمت مچھار کی بہادری کے اعتراف میں گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے اعلان…
نودیپ سنگھ نے اپنے ہاسپیٹیلٹی کیریئر کا آغاز ہندوستان سے کیا۔ امرتسر سے لندن تک…
کاک پٹ میں پیش آنے والی جھڑپ کے دوران شریک پائلٹ نے پائلٹ پر چاقو…
پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ آئین ہند کا آرٹیکل مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین…
چھتیس گڑھ اور مہاراشٹر میں ہتھیار چھوڑ کر مرکزی دھارے میں واپس آنے والے 210…