قومی

BJP Leader Dushyant Kumar Gautam: دہلی ہائی کورٹ نے دشینت گوتم کو دی عبوری راحت، سوشل میڈیا پوسٹ 24 گھنٹوں میں ہٹانے کا حکم

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کے روز بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری دشینت گوتم کی جانب سے دائر کی گئی ہتکِ عزت کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے انہیں عبوری راحت فراہم کی ہے۔ عدالت نے واضح ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر دشینت گوتم کے خلاف اپ لوڈ کی گئی تمام پوسٹ اور ویڈیوز کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔ ہائی کورٹ نے عام آدمی پارٹی، کانگریس اور دیگر فریقین کو حکم دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موجود متنازعہ مواد کو 24 گھنٹوں کے اندر ہٹا دیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر مقررہ وقت کے اندر سیاسی جماعتیں مواد نہیں ہٹاتی ہیں، تو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو خود بخود اس مواد کو ڈیلیٹ کرنے کا حکم دیا جائے گا۔

عدالت نے اپنے حکم میں مزید کہا کہ سیاسی جماعتیں اور ان کے ایجنٹس آئندہ دشینت گوتم کو مبینہ طور پر ”وی وی آئی پی“ بتاتے ہوئے نشانہ بنانے والی کوئی بھی پوسٹ یا ویڈیو اپ لوڈ نہیں کریں گے اور نہ ہی پہلے سے ہٹائے گئے مواد کو دوبارہ شیئر کیا جائے گا۔ عدالت کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا پر لگائے گئے الزامات ابتدائی طور پر ہتکِ عزت کے زمرے میں آتے ہیں اور اس سے درخواست گزار کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 4 مئی کی تاریخ مقرر کی ہے۔ آئندہ سماعت کے دوران عدالت یہ جائزہ لے گی کہ آیا فریقین نے عدالت کے حکم کی مکمل تعمیل کی ہے یا نہیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ یہ معاملہ اتراکھنڈ کے مشہور انکیتا بھنڈاری قتل کیس سے جڑا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس کیس کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں اور پوسٹس میں مبینہ طور پر دشینت گوتم کا نام غلط طریقے سے شامل کیا گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے ہتکِ عزت کی درخواست دائر کی۔

انکیتا بھنڈاری قتل کیس اتراکھنڈ کے سب سے زیادہ زیرِ بحث مقدمات میں شمار ہوتا ہے۔ ستمبر 2022 میں 19 سالہ انکیتا، جو ایک نجی ہوٹل میں ریسپشنسٹ کے طور پر کام کرتی تھی، کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں بی جے پی کے سابق لیڈر کے بیٹے پلکت آریہ کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا تھا۔ نچلی عدالت نے پلکت آریہ سمیت تین ملزمان کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ اسی کیس سے جڑی افواہوں اور سوشل میڈیا مہم کے باعث دشینت گوتم کو نشانہ بنایا گیا، جس پر انہوں نے قانونی کارروائی کا راستہ اختیار کیا۔ اب دہلی ہائی کورٹ کے اس حکم کو سوشل میڈیا پر بے لگام الزامات کے خلاف ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

1 hour ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

2 hours ago