قومی

False POCSO case: فرضی POCSO کیس میں عدالت نے کی سخت کارروائی، لڑکی کے والد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا

دہلی کی ایک عدالت نے جمعرات کو POCSO ایکٹ کیس میں ایک کلوزر رپورٹ کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ شکایت جھوٹی تھی اور لڑکی نے اپنے خاندان کے دباؤ میں یہ شکایت کی تھی۔ 3 اپریل کو اپنے حکم میں ساکیت کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج انو اگروال نے کہا ’’یہ کیس اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح ایک باپ نے اپنے رشتہ داروں سے بدلہ لینے کے لیے قانون کا غلط استعمال کیا۔‘‘ جج نے یہ بھی کہا کہ متاثرہ کے والد نے ایک وکیل کو بھی ملوث کیا جو صرف پیشہ ورانہ طور پر ان رشتہ داروں کی مدد کر رہا تھا۔

عدالت نے لڑکی کے باپ کے خلاف POCSO ایکٹ کی دفعہ 22(1) کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا

اس معاملے میں سخت رخ اپناتے ہوئے عدالت نے حکم دیا کہ شکایت کنندہ کے والد کے خلاف POCSO ایکٹ کی دفعہ 22(1) کے تحت ایف آئی آر درج کی جائے۔ واضح رہے کہ یہ دفعہ غلط شکایت یا غلط معلومات دینے پر سزا کی فراہمی سے متعلق ہے۔ عدالت نے کہا کہ قانون کا غلط استعمال ناقابل قبول ہے۔ عدالت نے کہا کہ وکلاء کے لیے بے خوف ہو کر کام کرنا ضروری ہے کیوں کہ نظام انصاف کا توازن اسی پر منحصر ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ’’جب ایک وکیل کو جھوٹے الزام میں پھنسایا جاتا ہے، خاص طور پر POCSO جیسے سنگین معاملات میں، تو یہ دوسرے وکلاء کو خوفزدہ کرتا ہے اور وہ متاثرین کی مدد کرنے سے کتراتے ہیں۔ اگر وکلاء خوف کی وجہ سے غیر جانبداری سے اپنی خدمات فراہم کرنے سے قاصر ہوں تو پورا نظامِ انصاف خطرے میں پڑ سکتا ہے‘‘۔

واضح رہے کہ یہ مقدمہ ستمبر 2023 میں درج کیا گیا تھا۔ شکایت کنندہ نے اپنے ماموں، خالہ، ان کی بیٹی اور ایک رشتہ دار پر جنسی استحصال کا الزام لگایا تھا۔ پولیس نے تفتیش کے بعد کلوزر رپورٹ درج کر لی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان پہلے سے ہی دیوانی مقدمات زیر التوا تھے۔ اس کے علاوہ کچھ آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ بھی ثبوت کے طور پر پیش کی گئیں۔ ان ریکارڈنگز میں شکایت کنندہ کو اپنی ماں اور بہن سے بات کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ مقدمہ اس کے والد کے کہنے پر درج کیا گیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ ایسے واقعات افسوس ناک ہیں

عدالت نے کہا ’’ریکارڈ سے واضح ہے کہ لڑکی نے اپنے والد کے کہنے پر جھوٹا مقدمہ درج کرایا۔ اس نے اپنے ماموں، دادی، خالہ اور یہاں تک کہ ایک وکیل کو بھی اس کیس میں گھسیٹا۔ کئی بار والدین اپنے بچوں کو ذاتی معاملات طے کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ بچوں کو جھوٹے الزامات لگانے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف معاشرے کے لیے خطرہ ہے، بلکہ پورے عدالتی نظام پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

Minor gang-raped near Kalkaji Temple: کالکاجی مندر کے قریب نابالغ لڑکی سے اجتماعی زیادتی، انکاؤنٹر کے بعد ایک ملزم گرفتار

ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے دہلی پولیس پارک اور اس کے آس پاس…

2 hours ago

Jain Acharya Lokesh Ji: سکندرآباد میں وکست بھارت 2047 سیمینار، آچاریہ لوکیش بولے- سناتن روایت کا اقدار ہی ترقی یافتہ بھارت کی فکری بنیاد

آچاریہ لوکیش کے خطاب نے سیمینار میں موجود سیکڑوں نوجوانوں، فوجیوں اور دانشوروں میں نیا…

3 hours ago