نئی دہلی: قومی دارالحکومت کی ایک مقامی عدالت نے پیر کے روز جے این یو کے سابق اسکالر شرجیل امام کو اپنے چھوٹے بھائی کی شادی میں شرکت کرنے اور اپنی علیل والدہ کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے 10 دن کی عبوری ضمانت دے دی۔ شرجیل امام 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق مبینہ ’بڑی سازش‘ کے مقدمے میں ملزمان میں شامل ہیں۔ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں بھڑکنے والے فسادات میں 50 سے زائد افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ دہلی پولیس کے مطابق یہ فسادات شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف ہونے والے احتجاج کے پس منظر میں ایک پہلے سے منصوبہ بند اور منظم سازش کا نتیجہ تھے۔
عدالت کا فیصلہ اور ضمانت کی شرائط
کرکڑڈوما عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپئی نے حکم دیا کہ شرجیل امام کو 20 مارچ سے 30 مارچ 2026 تک عبوری ضمانت پر رہا کیا جائے گا۔ اس کے لیے انہیں 50 ہزار روپے کے ذاتی مچلکے کے ساتھ اتنی ہی رقم کے دو ضامن پیش کرنے ہوں گے اور عدالت کی جانب سے مقرر کردہ چند شرائط کی پابندی کرنا ہوگی۔ شرجیل امام نے عدالت میں چھ ہفتوں کی عبوری ضمانت کی درخواست دی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے چھوٹے بھائی مزمّل امام کی شادی 25 مارچ کو طے ہے اور انہیں شادی کی تیاریوں اور تقریبات میں شرکت کے لیے گھر پر موجود رہنا ضروری ہے۔ ان کے وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ شرجیل امام پانچ سال سے زائد عرصے سے جیل میں قید ہیں اور اس دوران انہیں کبھی بھی عارضی طور پر ضمانت نہیں ملی۔
دفاع کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ شرجیل امام دولہا کے اکلوتے بڑے بھائی ہیں اور شادی کی مختلف تقریبات جیسے مہندی، ہلدی، نکاح اور استقبالیہ 22 مارچ سے 28 مارچ کے درمیان منعقد ہوں گی۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ امام کی والدہ علیل ہیں اور ان کے چھوٹے بھائی، جو اس وقت ان کی دیکھ بھال کر رہے ہیں، شادی کی تیاریوں میں مصروف رہیں گے۔ اس لیے درخواست گزار نے خاندان کی مدد اور والدہ کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے اجازت مانگی۔ یہ بھی بتایا گیا کہ شادی کا زمانہ عید الفطر کے قریب ہونے کا امکان ہے۔ استغاثہ نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ شادی کی رسومات کے لیے ملزم کی موجودگی ضروری نہیں ہے اور شادی کی زیادہ تر تیاریاں پہلے ہی خاندان کے افراد کر چکے ہیں۔ استغاثہ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ شرجیل امام کی باقاعدہ ضمانت کی درخواست پہلے ہی ٹرائل کورٹ، دہلی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے مسترد ہو چکی ہے اور ان کے خلاف الزامات سنگین نوعیت کے ہیں۔ مزید یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا کہ عبوری رہائی سے ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ یا گواہوں کو متاثر کرنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
عدالت کی ہدایات
عدالت نے فریقین کے دلائل اور پیش کیے گئے دستاویزات، جن میں شادی کی تقریبات کی تصدیق بھی شامل تھی، کا جائزہ لینے کے بعد محدود عبوری راحت دینا مناسب سمجھا۔ تاہم چھ ہفتوں کے بجائے صرف 10 دن کی ضمانت منظور کی گئی۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ عبوری ضمانت کے دوران شرجیل امام مقدمے سے وابستہ کسی گواہ یا شخص سے رابطہ نہیں کریں گے۔ اپنا موبائل نمبر تفتیشی افسر کو فراہم کریں گے اور اسے فعال رکھیں گے۔ میڈیا سے گفتگو یا سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کریں گے۔ صرف خاندان کے افراد سے ملاقات کریں گے اور زیادہ تر اپنے گھر یا شادی کی تقریبات کے مقامات تک محدود رہیں گے۔ عدالت نے مزید ہدایت دی کہ عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے پر 30 مارچ کی شام تک شرجیل امام کو جیل سپرنٹنڈنٹ کے سامنے خود کو حوالے کرنا ہوگا اور اس کی تعمیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…
عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…