نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے منی لانڈرنگ کے معاملے میں گرفتار الفلاح گروپ کے چیئرمین جواد احمد صدیقی کو دو ہفتوں کی عبوری ضمانت دے دی ہے۔ عدالت نے یہ راحت انسانی بنیادوں پر فراہم کی ہے تاکہ وہ اپنی شدید بیمار اہلیہ کی دیکھ بھال کر سکیں، جو اس وقت اسٹیج 4 اووریئن کینسر کے علاج سے گزر رہی ہیں۔ عدالت کے اس فیصلے کو طبی اور خاندانی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ہمدردانہ قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ جسٹس شیتل چودھری کی بنچ نے ہفتہ کے روز یہ حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ صدیقی کی اہلیہ اس وقت کیموتھراپی کے عمل سے گزر رہی ہیں اور انہیں اس مشکل مرحلے میں قریبی نگہداشت اور ذہنی سہارا درکار ہے۔ عدالت نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں شوہر کی موجودگی مریضہ کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے ملزم کو محدود مدت کے لیے عبوری ضمانت دینا مناسب سمجھا گیا ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی واضح کیا کہ صدیقی کی اہلیہ دہلی کے ایک نجی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں جہاں ان کا باقاعدہ علاج اور کیموتھراپی جاری ہے۔ اس حوالے سے عدالت کے سامنے پیش کیے گئے طبی دستاویزات کو معتبر قرار دیا گیا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ان دستاویزات پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے کسی قسم کا اعتراض نہیں اٹھایا گیا۔ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ جاوید صدیقی اور ان کی اہلیہ کے تینوں بچے متحدہ عرب امارات میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور موجودہ حالات میں فوری طور پر بھارت نہیں آ سکتے۔ عدالت نے کہا کہ ایسے میں بیمار خاتون کے پاس خاندان کا کوئی قریبی فرد موجود نہیں ہے جو ان کی دیکھ بھال کر سکے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے قرار دیا کہ شوہر کے طور پر جواد احمد صدیقی کا ان کے ساتھ رہنا ضروری ہے۔
اس کے ساتھ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ عبوری ضمانت محدود مدت کے لیے دی جا رہی ہے اور اس کے دوران صدیقی کو عدالت کی مقرر کردہ تمام شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔ عدالت نے انہیں ایک ایک لاکھ روپے کے ذاتی مچلکوں اور ضامن کے ساتھ دو ہفتوں کے لیے عبوری ضمانت فراہم کی ہے۔ واضح رہے کہ جواد احمد صدیقی کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے 18 نومبر 2025 کو گرفتار کیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے الفلاح چیریٹیبل ٹرسٹ کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ سے مبینہ طور پر مالی بے ضابطگی اور دھوکہ دہی کے ذریعے رقم حاصل کی۔ اسی بنیاد پر ان کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کی تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے عدالت میں ضمانت کی درخواست کی مخالفت کی تھی۔ ای ڈی کے وکیل کا مؤقف تھا کہ صدیقی سنگین مالی جرائم میں ملوث ہیں اور اگر انہیں ضمانت دی گئی تو وہ تفتیش کو متاثر کرنے یا شواہد پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اب تک کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدیقی نے تفتیشی عمل میں تعاون کیا ہے اور ان کی جانب سے فرار ہونے یا قانون سے بچنے کی کوئی کوشش سامنے نہیں آئی۔ عدالت نے کہا کہ انسانی بنیادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے محدود مدت کے لیے عبوری ضمانت دی جا سکتی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ فیصلہ اس بات کی مثال ہے کہ عدالتی نظام میں انسانی ہمدردی اور طبی حالات کو بھی اہمیت دی جاتی ہے، خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں خاندان کا کوئی فرد شدید بیماری سے دوچار ہو۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سید احمد خاں نے کہا کہ…
اس حساب سے اگر تقریباً 5 سیکنڈ کی اے آئی ویڈیو تیار کی جائے تو…
تمل ناڈو حکومت نے پیروُنتھلایور کامراج ناشتہ اسکیم کے بہتر نفاذ کے لیے حکام کو…
ساحل کے والد نے صرف استاد کے خلاف ہی نہیں بلکہ فیکلٹی کے سینئر افسران…
اویسی نے حال ہی میں بھوپال میں منعقد اپنے پروگرام کا بھی ذکر کیا۔ وہاں…
واقعے کے بعد سرکاری طبی مرکز میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر بھی سوال…