قومی

Parliament March, Police Lathicharge: دہلی میں نیٹ پیپر لیک کے خلاف ہو رہے پارلیمنٹ مارچ کو  پولیس نے روکا، ہزاروں مظاہرین پر کر دی لاٹھی چارج

ملک کے مختلف مقامات سے پارلیمنٹ مارچ میں شامل ہونے آئے طلبہ و نوجوانوں کو پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے پولیس نے سخت کارروائی کی۔ جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والی ہزاروں کی  بھیڑ کو پولیس نے راستے میں روک دیا اور لاٹھی چارج کرتے ہوئے منتشر کر دیا۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے ریلوے پروٹیکشن فورس (RPF) اور دہلی پولیس نے مشترکہ کارروائی کی۔

پہلے ہی سخت کر دی گئی تھی سکیورٹی

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس اور سی جے پی کے اعلان کردہ مارچ کے پیش نظر دارالحکومت میں پہلے ہی چپے چپے پر پولیس تعینات تھی۔ نئی دہلی میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (BNSS) کی دفعہ 163  بھی نافذ  کر دی گئی تھی۔ اس احتجاج میں مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈران بھی شریک ہوئے۔

سیاسی لیڈروں اور معروف شخصیات کی شرکت

احتجاج میں عام آدمی پارٹی کے لیڈر منیش سسودیا اور سنجے سنگھ، آزاد سماج پارٹی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد، معروف اداکار پرکاش راج اور سماجی کارکن سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی بھی شریک ہوئیں۔ سی جے پی نے 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

’’نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے‘‘

چندر شیکھر آزاد نے کہا کہ حکومت اور پولیس اپنا کام کر رہی ہیں، جبکہ وہ نوجوانوں کی آواز بننے کے لیے اس جدوجہد کا حصہ بنے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نوجوانوں کے ساتھ مسلسل ناانصافی ہو رہی ہے اور حکومت اسے روکنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔

میٹرو اسٹیشنوں پر بھی پابندیاں

احتجاج کے پیش نظر دہلی میٹرو نے راجیو چوک، جن پتھ، پٹیل چوک، سینٹرل سیکریٹریٹ اور سیوا تیرتھ میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے عارضی طور پر بند کر دیے تھے۔

اجازت نہ ہونے کے باوجود بڑی تعداد میں مظاہرین جمع

سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے اس مارچ کی اپیل کی تھی، تاہم دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔ اس کے باوجود بڑی تعداد میں حامی جنتر منتر پر جمع ہوئے اور پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی۔ یہ احتجاج پرچہ لیک، بے روزگاری اور نوجوانوں سے متعلق مسائل پر مرکوز تھا۔

وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ

مظاہرین نے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بڑے پیمانے پر پرچے لیک ہو رہے ہیں، طلبہ خودکشی کرنے پر مجبور ہیں، لیکن ان واقعات کی کوئی ذمہ داری قبول نہیں کی جا رہی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Asian Games 2026: بھارتی خواتین کبڈی ٹیم کی شاندار کارکردگی جاری، ایران کو 37-23 سے شکست

بھارت اور ایران کے درمیان مقابلے کے پہلے ہاف میں زبردست کشمکش دیکھنے کو ملی۔…

2 hours ago

Delhi NCRWeather Update: این سی آر میں گرمی سے ملے گی معمولی راحت، لیکن بڑھتی فضائی آلودگی سے سانس کے مریضوں کو خطرہ

25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…

4 hours ago