قومی

CJP Protest Against ‘Vote Chori’: ووٹ چوری کے خلاف نہیں تھم رہا طلبہ کا احتجاج، کناٹ پلیس پر نعرے بازی کرنے والے مظاہرین کو پولیس نے گھسیٹ گھسیٹ کر ہٹایا

نئی دہلی: قومی دارالحکومت دہلی میں چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے سے متعلق’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) اور مختلف طلبہ تنظیموں کا احتجاج اتوار کو دوسرے دن بھی جاری رہا۔ مظاہرین نے جنتر منتر کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس مظاہرین کو زبردستی حراست میں لیا۔ اس کے ساتھ ہی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سی پی آئی (ایم) کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ جان برٹاس سمیت 200 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔

کنوٹ پلیس پر دوبارہ جمع ہوئے مظاہرین

اتوار کو مظاہرین نے نئی حکمت عملی کے تحت کناٹ پلیس کے اندرونی دائرے اور راجیو چوک کے آس پاس جمع ہونا شروع کر دیا۔ ہاتھوں میں تختیاں اٹھائے مظاہرین ’’گیانیش کمار استعفیٰ دو‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے علاقے میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے۔دہلی میں بھارتی شہری تحفظ سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 نافذ ہونے کے باعث عوامی مقامات پر لوگوں کے گروپ کی شکل میں جمع ہونے پر پابندی ہے۔ اس کے پیش نظر پولیس نے فوری طور پر کارروائی شروع کی۔ پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو خبردار کرتے ہوئے وہاں سے ہٹنے کی ہدایت دی اور بھیڑ کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ جن لوگوں نے وہاں سے ہٹنے سے انکار کیا، انہیں پولیس اہلکار زبردستی کھینچ کر یا ہاتھ پکڑ کر وہاں کھڑی بسوں میں بٹھاتے ہوئے تھانے لے گئے۔

طلبہ تنظیموں کا احتجاج، پولیس سے دھکا مکی

احتجاج کے دوران بائیں بازو سے وابستہ طلبہ تنظیموں ایس ایف آئی، آئسا اور انقلابی یوا سنگٹھن (کے وائی ایس) کے کارکن بھی بڑی تعداد میں سڑکوں پر اتر آئے۔ کناٹ پلیس اور وجے چوک کے قریب پولیس اور مظاہرین کے درمیان جم کر دھکا مکی ہوئی۔ایس ایف آئی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ اس کے متعدد کارکنوں اور عہدیداروں کو حراست میں لے کر نانگلوئی کے سورج مل اسٹیڈیم منتقل کیا گیا۔ اس دوران آئشی گھوش سمیت کئی خواتین کارکن پولیس کی بسوں کے سامنے دھرنے پر بیٹھ گئیں اور کچھ خواتین نے بسوں کی اگلی شیشے پر چڑھ کر احتجاج کیا۔وہیں، کچھ مظاہرین نے کناٹ پلیس میٹرو اسٹیشن اور گردوارہ بنگلہ صاحب کے قریب انسانی زنجیر بنانے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں بھی حراست میں لے لیا۔

جنتر منتر کے اطراف بھاری پولیس فورس تعینات

انتظامیہ کی جانب سے جنتر منتر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں کسی بھی بڑے اجتماع کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ اس کے پیش نظر پورے علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔پولیس مسلسل گشت کر رہی ہے تاکہ دارالحکومت میں امن و امان کی صورت حال قابو میں رکھی جا سکے۔ دوسری جانب، چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے کو لے کر سی جے پی اور طلبہ تنظیموں کا احتجاج جاری ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Russia Ukraine Energy Ceasefire: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا بڑا اعلان، روس اور یوکرین کے درمیان ’انرجی سیز فائر‘ نافذ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان توانائی…

6 minutes ago

Rahul Gandhi Announces Supreme Court March: راہل گاندھی کی سپریم کورٹ تک مارچ کی اپیل، چیف جسٹس کو سونپا جائے گا میمورنڈم

سی ای سی گیانیش کمار کے استعفے اور مبینہ ووٹ چوری کے خلاف 12 اکتوبر…

15 minutes ago

PM Modi Fishermen Project: وزیر اعظم مودی کا ماہی گیروں کو بڑا تحفہ، ہزاروں کروڑ روپے کے منصوبوں کو منظوری، چنئی فشنگ ہاربر ہوگا جدید

پی ایم متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت مچھلی کی پیداوار، کولڈ اسٹوریج اور سمندری خوراک…

33 minutes ago

Students in Chennai welcomed PM Modi: چنئی میں طلبہ نے کیا وزیر اعظم نریندر مودی کا استقبال، ترقی یافتہ ہندوستان بنانے کا لیا عزم

وزیر اعظم نریندر مودی جے گوپال گاروڈیا ہندو ودیالیہ کی گولڈن جوبلی تقریب میں ہوئے…

1 hour ago

Delhi-NCR Weather Update: دہلی-این سی آر میں موسم کا بدلا مزاج، تیز ہواؤں سے ملی راحت، جلد دستک دے سکتی ہے سردی

بادلوں کی آمد و رفت اور تیز ہواؤں سے گرمی اور حبس میں کمی، 15…

2 hours ago