قومی

Datia Bypoll: ’ہاتھ جوڑنا بھی آتا ہے اور…‘، دتیا میں جیتو پٹواری کے تیور سخت، پولیس اور انتظامیہ پر بھی اٹھائے سوال

دتیا ضمنی انتخاب سے متعلق مدھیہ پردیش کی سیاست میں بیان بازی کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ انتخابی میدان میں کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان الزام تراشی عروج پر ہے۔ اسی سلسلے میں کانگریس کے ریاستی صدر جیتو پٹواری نے بی جے پی پر کئی سنگین الزامات عائد کیے اور انتظامیہ کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔جیتو پٹواری دتیا کے راوری گاؤں میں منعقدہ ایک عوامی جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ اس دوران انہوں نے انتظامیہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب پہلے جیسی نہیں رہی اور پارٹی کارکنوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ’نئی کانگریس‘ ہے، جو ضرورت پڑنے پر جواب دینا بھی جانتی ہے۔ تاہم بعد میں جب ان کے اس بیان کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔ ان کے اس مؤقف کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ بی جے پی بھی اس پر اپنا ردِعمل دے گی۔

پولیس اہلکاروں کے تبادلوں پر بھی اعتراض

جیتو پٹواری نے دتیا میں پولیس افسران کے تبادلوں کے معاملے پر بھی ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ضمنی انتخاب کے دوران پولیس اہلکاروں کا تبادلہ اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ بی جے پی کو اپنے پرانے حمایتی پولیس اہلکاروں پر بھی اعتماد نہیں رہا۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ نئے تعینات ہونے والے پولیس اہلکار بی جے پی کے حق میں کام کر سکتے ہیں۔ پٹواری نے کانگریس کارکنوں اور دیہی عوام سے اپیل کی کہ وہ پولنگ بوتھوں پر پوری مضبوطی کے ساتھ موجود رہیں اور اگر کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا دھاندلی کی کوشش ہو تو اس کی بھرپور مخالفت کریں۔

بی جے پی پر ووٹ خریدنے کا الزام

کانگریس کے ریاستی صدر نے بی جے پی پر انتخاب میں پیسے کے استعمال کا بھی الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے اس ضمنی انتخاب میں 25 وزراء کو انتخابی مہم میں اتارا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر حکومت نے واقعی بہتر کام کیا ہے اور ترقی کی ہے تو پھر اتنے زیادہ وزراء کو انتخابی مہم میں اتارنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ پٹواری نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی تقریباً 50 کروڑ روپے کے ساتھ میدان میں اتری ہے اور ووٹروں کو رقم دے کر ووٹ خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دیہی عوام سے کہا کہ اگر کوئی انہیں 2,000 روپے دینے آئے تو اس سے پوچھیں کہ باقی 3,000 روپے کہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ انتخاب اب صرف کانگریس اور بی جے پی کے درمیان نہیں رہا، بلکہ ایک طرف حکومت، اس کے وزراء اور پورا سرکاری نظام ہے، جبکہ دوسری جانب عام عوام کھڑی ہے۔جلسے کے دوران جیتو پٹواری نے دیہی عوام سے کانگریس کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی، جبکہ وہاں موجود لوگوں نے بھی انہیں کامیاب بنانے کا یقین دلایا۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ دتیا ضمنی انتخاب میں عوام کس کے حق میں فیصلہ سناتی ہے اور یہ سیاسی الزامات انتخابی نتائج پر کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Suchika Tariyal Makes History: ایشین گیمز 2026 میں سوچکا تاریال نے رقم کی تاریخ، ایم ایم اے میں تمغہ جیتنے والی پہلی ہندوستانی کھلاڑی

مکسڈ مارشل آرٹس ان چھ نئے کھیلوں میں شامل ہے جنہیں آیچی-ناگویا ایشین گیمز میں…

11 minutes ago

Jio Home Customers: جیو ہوم کے صارفین کو ملے گا ایمزون پر ائم لائٹ ایک سال مفت

3 ان 1 ٹی وی، او ٹی ٹی اور وائی فائی پلان کے نئے اور…

21 minutes ago