قومی

Taslima Nasreen in Kolkata: ’’اظہارِ رائے کی آزادی پر یقین رکھتی ہے موجودہ بھارتی حکومت‘‘ کولکاتا واپسی پر جلاوطن بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین نے کیا کہا ؟

کولکاتا: بنگلہ دیشی مصنفہ اور سماجی کارکن تسلیمہ نسرین، جو تقریباً دو دہائیوں بعد کولکاتا واپس پہنچیں، نے اتوار کو کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ بھارت کی موجودہ حکومت اظہارِ رائے کی آزادی پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے مغربی بنگال میں مختلف ادوار کی حکومتوں کے دوران اپنے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تسلیمہ نسرین نے کہا ’’ایک حکومت نے مجھے یہاں سے جانے پر مجبور کیا، دوسری حکومت نے واپس آنے کی اجازت نہیں دی، جبکہ موجودہ حکومت نے میرا خیرمقدم کیا۔ میں خوش ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ بھارت کی موجودہ حکومت اظہارِ رائے کی آزادی پر یقین رکھتی ہے۔‘‘

سکیورٹی فراہم کرنے پر اظہار تشکر

تسلیمہ نسرین نے اپنی کولکاتا آمد کے دوران سکیورٹی انتظامات پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مناسب تحفظ فراہم کیا گیا۔ انہوں نے کہا ’’میرے پروگرام میں کسی قسم کی سیاست شامل نہیں تھی۔ میں وزیراعلیٰ سوویندو ادھیکاری کا شکریہ ادا کرتی ہوں کیونکہ انہوں نے میری حفاظت اور سکیورٹی کو یقینی بنایا۔ میں نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ میں کولکاتا میں قیام کروں گی یا نہیں۔‘‘ تسلیمہ نسرین نے امید ظاہر کی کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات خوشگوار رہیں گے۔ انہوں نے 1971 کی بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ میں ہندوستان کے کردار کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کے عوام اس تعاون کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ہم ہمیشہ تسلیم کرتے ہیں کہ 1971 میں ہندوستان نے ہمارے لیے کیا کیا، تاہم کچھ پاکستانی جہادی ہندوستان کے خلاف ہیں۔‘‘

میں سیاست نہیں، خواتین کی آزادی کے لیے آئی ہوں

ہفتہ کو سیکولر مشن، ہیومن رائٹس اینڈ بنگلہ دیش فریڈم فائٹرز فاؤنڈیشن (HRBFF) اور پچھم بونگر جونوو کی جانب سے منعقدہ استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تسلیمہ نسرین نے کہا کہ کسی مصنف کو تحفظ فراہم کرنا دراصل اظہارِ رائے اور آزادیٔ اظہار کا تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا ’’میں کسی سیاسی جماعت کے لیے یہاں نہیں آئی ہوں اور نہ ہی کسی سیاسی مقصد کے لیے خطاب کر رہی ہوں۔ میں صرف خواتین کی آزادی کی بات کرنے آئی ہوں۔‘‘ تسلیمہ نسرین نے مغربی بنگال سے اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 1978 سے ریاست کے رسائل میں لکھتی رہی ہیں اور 1980 کی دہائی سے باقاعدگی سے کولکاتا آتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1990 کی دہائی میں ان کی ایک کتاب بھی کولکاتا میں شائع ہوئی تھی۔ انہوں نے 2007 کے واقعات کو یاد کرتے ہوئے کہا ’’مجھے کولکاتا چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔ میرا جرم کیا تھا؟ میں نے کسی کا قتل نہیں کیا تھا۔ بنگلہ دیش نے بھی میرے ملک میں داخلے پر پابندی لگا دی۔ اگر آپ کسی سے اختلاف رکھتے ہیں تو اس کے خلاف آواز اٹھائیں، لیکن کسی کی آزادی پر پابندی لگانا درست نہیں ہے۔‘‘ واضح رہے کہ تسلیمہ نسرین 1994 سے جلاوطنی کی زندگی گزاررہی ہیں اور ان کے مطابق انہیں کولکاتا آنے کی دعوت ’’سیکولر مشن‘‘ نامی تنظیم نے دی تھی، جس کے سربراہ عثمان غنی ملک ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Bad Touch 3 Accused Arrested: جموئی میں نابالغ لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کا معاملہ، 3 ملزمان گرفتار

سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس کی کارروائی، مرکزی ملزم سمیت 5…

7 minutes ago

Amit Shah Pays Tribute to Lakshmanrao Inamdar: امت شاہ نےوکیل صاحب لکشمن راؤانمادار کو کیا یاد، کون تھے راؤانمادار؟

امت شاہ نے کہا کہ گجرات میں تعاون کی تحریک کو نئی سمت اور رفتار…

48 minutes ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026میں  بھارتی خواتین ہاکی ٹیم کی شاندار جیت، انڈونیشیا کو 17-1 سے شکست

تیسرے کوارٹر میں انڈونیشیا نے ایک گول کیا، لیکن بھارت نے اس کے جواب میں…

2 hours ago

Suchika Tariyal Makes History: ایشین گیمز 2026 میں سوچکا تاریال نے رقم کی تاریخ، ایم ایم اے میں تمغہ جیتنے والی پہلی ہندوستانی کھلاڑی

مکسڈ مارشل آرٹس ان چھ نئے کھیلوں میں شامل ہے جنہیں آیچی-ناگویا ایشین گیمز میں…

2 hours ago

Jio Home Customers: جیو ہوم کے صارفین کو ملے گا ایمزون پر ائم لائٹ ایک سال مفت

3 ان 1 ٹی وی، او ٹی ٹی اور وائی فائی پلان کے نئے اور…

3 hours ago