نئی دہلی: سی پی آئی (ایم ایل) نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کو لے کر مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ مودی حکومت اپنی خارجہ اور اقتصادی پالیسیوں کی ناکامیوں کا بوجھ عام لوگوں پر ڈال رہی ہے۔
حکومت پر معاشی بحران چھپانے کا الزام
سی پی آئی (ایم ایل) کی مرکزی کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حکومت طویل عرصے سے معاشی بحران کے وجود سے انکار کرتی رہی، لیکن 2026 اسمبلی انتخابات کے نتائج اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ’ایندھن بچاؤ‘ بیان کے چند دن بعد ہی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تین روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی خارجہ پالیسی اور تجارتی مفادات کو امریکہ-اسرائیل اتحاد کے قریب لے جانے سے معاشی بحران مزید گہرا ہوا ہے، اور اب اس بحران کا بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔
کووڈ دور کا حوالہ
پارٹی نے کووڈ کے دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی عوام کو مشکل حالات میں اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا تھا، اور اب ایک بار پھر حکومت جوابدہی سے بچتے ہوئے لوگوں پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ عوام سے ایندھن بچانے، سونا کم خریدنے اور بیرون ملک سفر محدود کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے، جبکہ اصل بحران حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
عالمی منڈی میں کمی کا فائدہ عوام کو نہ ملنے کا الزام
سی پی آئی (ایم ایل) نے کہا کہ حکومت ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو عالمی سطح پر خام تیل کی بڑھتی قیمتوں اور مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی سے جوڑ رہی ہے، لیکن جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوئیں تو اس کا فائدہ عام لوگوں تک نہیں پہنچایا گیا۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ تیل کمپنیوں کے منافع کو محفوظ رکھنے کے لیے عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
مہنگائی میں اضافے کا خدشہ
پارٹی کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی مزید بڑھے گی اور ضروری اشیاء کی قیمتوں پر بھی اس کا براہِ راست اثر پڑے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ اس کا اثر زراعت، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں پر بھی پڑے گا، جس سے عام آدمی کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔
بے روزگاری اور معاشی دباؤ کا ذکر
سی پی آئی (ایم ایل) نے دعویٰ کیا کہ معاشی بحران کے آثار پہلے ہی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ بیان میں ایل پی جی کی قلت، ریسٹورنٹس کی بندش، مزدوروں کی نقل مکانی اور بڑھتی بے روزگاری جیسے مسائل کا حوالہ بھی دیا گیا۔
حکومت سے قیمتیں واپس لینے کا مطالبہ
پارٹی نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرول اور ڈیزل کی بڑھائی گئی قیمتیں فوری طور پر واپس لی جائیں، بازار پر مبنی قیمت طے کرنے کی پالیسی ختم کی جائے اور ایندھن کی قیمتوں کو سرکاری کنٹرول میں لایا جائے۔
بھارت ایکسپریس۔
ووشو میں روشیبینا دیوی نے سلور جبکہ روئنگ کے مینز ڈبل اسکلز مقابلے میں ستنم…
’اڈانی آروگیہ مندر‘ میں جدید میڈیکل کالج، جدید تحقیق اور طبی نگہداشت کی سہولیات ہوں…
پی ایچ ڈی سی سی آئی کے سیمینار میں لیبر کوڈز کے عملی نفاذ، اجرت،…
اپوزیشن کی جانب سے گرفتاری کا مطالبہ، 2023 کے قانون کی دفعہ 16 میں انتخابی…
’ڈِس بیٹل‘ کے دوران ریتی تیواری اور قاضی توقیر کے درمیان شدید جھڑپ، ریتی کی…
کنّوا کے قریب تین بلڈوزر کھڑے کرکے اکھلیش یادو کے رتھ پر کی گئی پھولوں…