کولکاتا: وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز کولکاتا کے تاریخی بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مغربی بنگال کی موجودہ حکومت پر شدید تنقید کی اور ریاست میں سیاسی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔ جلسے میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کو انہوں نے بنگال کے عوام کی بدلتی سوچ اور سیاسی خواہشات کی علامت قرار دیا۔اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی بنگال نے ملک کو نئی سمت دی ہے تو یہی میدان عوام کی آواز بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی میدان سے برطانوی حکومت کے خلاف اٹھنے والی آواز پورے ہندوستان میں ایک تحریک میں تبدیل ہوئی تھی اور بالآخر انگریزوں کی حکمرانی کا خاتمہ ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ آج ایک بار پھر اسی تاریخی مقام سے ایک نئے بنگال کی جدوجہد کا آغاز ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق ریاست کے عوام اب تبدیلی چاہتے ہیں اور اس کی جھلک ہر جگہ صاف نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں تبدیلی کی خواہش اب صرف باتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ عوام کے دلوں اور دیواروں دونوں پر لکھی جا چکی ہے۔ وزیر اعظم نے اپنی تقریر کے دوران ریاست کی حکمران جماعت آل انڈیا ترنمول کانگریس پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں ریاست میں بدعنوانی اور بدانتظامی بڑھی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اقتدار کھونے کے خوف سے حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاستی حکومت نے جلسے کو ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ ان کے مطابق جلسے میں آنے والے لوگوں کو روکنے کے لیے کئی انتظامی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر ٹریفک روکا گیا، پل بند کیے گئے اور جلسے کی طرف آنے والی گاڑیوں کو راستے میں روکنے کی کوشش کی گئی۔ وزیر اعظم نے یہ بھی الزام لگایا کہ جلسے میں شریک ہونے والے افراد کو حکمراں جماعت کی جانب سے توہین آمیز الفاظ سے پکارا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو چور کہہ کر بدنام کیا گیا، لیکن بنگال کے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اصل بدعنوان کون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتنی رکاوٹوں کے باوجود عوام کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست کے لوگ تبدیلی کے لیے پرعزم ہیں اور اب کسی دباؤ یا رکاوٹ سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔
اپنے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ بنگال میں مبینہ طور پر ”مہاجنگل راج“ قائم کرنے والوں کے دن گنے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق ریاست میں قانون کی حکمرانی بحال ہوگی اور جو بھی قانون توڑے گا یا ظلم کرے گا اسے کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں ہر ناانصافی اور زیادتی کا حساب لیا جائے گا اور عوام کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق بنگال میں تبدیلی کی لہر اب اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ اسے روکنا ممکن نہیں۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ریاست میں آنے والی سیاسی تبدیلی عوام کی طاقت سے ممکن ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ماں درگا کی آشیرواد بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ ہے اور یہی طاقت بنگال میں ایک نئے دور کی شروعات کرے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اندور میں اسٹیٹ پریس کلب کے زیرِ اہتمام منعقدہ تین روزہ اٹھارویں ’انڈین جرنلزم فیسٹیول‘…
دہلی کے جنتر منتر پر 3 اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف…
اڈانی گروپ کی اسکل ڈیولپمنٹ اور صلاحیت سازی کی اکائی اڈانی اسکلز اینڈ ایجوکیشن (ASE)…
پولیس کی ابتدائی تفتیش میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایمبولینس ڈرائیور کو…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے عظیم انقلابی اور مجاہد آزادی شیام جی کرشن ورما…
نیتا امبانی نے کہا ’’ایشین گیمز 2026 میں ہمارے ہندوستانی دستے کو دلی مبارکباد، جس…