نئی دہلی: اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) اور الیکشن کمیشن کے خلاف جاری احتجاج کے درمیان سینئر وکیل پرشانت بھوشن اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (اے آئی ایس اے) کی صدر نیہا بورا کے بیانات نے سیاسی تنازع کو نئی سمت دے دی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور پریس کانفرنس میں دیے گئے بیانات کو لے کر حکمراں پارٹی بی جے پی نے اپوزیشن اور اس سے وابستہ حلقوں پر بنگلہ دیش ماڈل کی بنیاد پر ’رجیم چینج‘ کی سازش کرنے کا الزام لگایا ہے۔
بی جے پی کے حامی نیل کانت بخشی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے کارکن اور وکیل پرشانت بھوشن اور اپوزیشن لیڈروں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے بھارت میں ’اقتدار کی تبدیلی‘ کا مطالبہ کرنے پر ان سے سوالات اٹھائے ہیں۔ اس پوسٹ میں ایک ویڈیو بھی شامل ہے، جس میں پرشانت بھوشن اور سماجی کارکن نیہا بورا کے بیانات موجود ہیں۔ دونوں نے بنگلہ دیش میں 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کو سیاسی تبدیلی کے ایک ماڈل کے طور پر پیش کیا تھا۔
70-yr-old “Gen-Z” Prashant Bhushan has openly confirmed it “the entire circus of the Cockroach Party + opposition is purely for regime change.” They know they cannot defeat the public’s mandate for @BJP4India under @narendramodi’s leadership at the ballot box so now the viciousness is out . The ravenousness to get power by any means is so desperate that u can feel it tangibly..
Yesterday they got exposed for following Bangladesh model..
listen carefully When the ballot box becomes the battleground they cannot win, the opposition’s focus shifts to regime change. Prashant Bhushan’s alleged remarks have reignited this debate. In a democracy, power must come through the people’s mandate not political manoeuvres that undermine public trust or national interests. 🇮🇳 https://t.co/lArAdvPgH9— Neelkant Bakshi 🇮🇳 (@neelkantbakshi) October 15, 2026
نیہا بورا نے بنگلہ دیش کے سوشلسٹ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’ہم جانتے ہیں کہ اس ملک میں جگہ جگہ جو جنریشن زی کی تحریکیں دیکھ رہے ہیں، ان کی شروعات سب سے پہلے بنگلہ دیش میں ہوئی تھی۔ آپ کو مبارک باد کہ آپ نے ہمیں راستہ دکھایا اور اس ملک کے نوجوانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش کی تحریک جمہوری حقوق اور ووٹ دینے کے حق کے لیے تھی، جبکہ بھارت میں نوجوان بھی اسی طرح جمہوریت اور حق رائے دہی کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ انہوں نے بنگلہ دیشی طلبہ کو ’ریڈ سلیوٹ‘ بھی پیش کیا۔
پرشانت بھوشن، نیہا بورا اور کاکروچ جنتا پارٹی کا موقف
اس کے اگلے روز دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں پرشانت بھوشن، نیہا بورا اور کاکروچ جنتا پارٹی کے ابھیجیت دیپکے ایک ساتھ موجود تھے۔ پرشانت بھوشن نے کہا، ’’اقتدار کی تبدیلی ضرور ہوگی۔ ہم سب اقتدار کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ اس میں غلط کیا ہے؟ رجیم چینج ہر شہری کا جمہوری حق ہے۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت انتخابی جمہوریت کو کچلنے پر تلی ہوئی ہے۔
بنگلہ دیش ماڈل کا ذکر، بحث مزید تیز
سوشل میڈیا پر ان بیانات کو لے کر سخت ردعمل سامنے آرہا ہے۔ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اور کاکروچ جنتا پارٹی کو معلوم ہے کہ وہ ووٹ کے ذریعے عوام کا مینڈیٹ حاصل نہیں کرسکتے، اس لیے اب اقتدار حاصل کرنے کے لیے دوسرے طریقے اپنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بنگلہ دیش ماڈل کا ذکر سامنے آنے کے بعد یہ بحث مزید تیز ہوگئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب بیلٹ باکس کے ذریعے کامیابی مشکل دکھائی دیتی ہے تو توجہ رجیم چینج کی طرف منتقل کردی جاتی ہے۔ بی جے پی لیڈروں نے ان بیانات کو راہل گاندھی اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے ’افراتفری‘ پھیلانے کی نیت سے جوڑا ہے، جبکہ احتجاج کرنے والے حلقے اسے جمہوریت بچانے کی لڑائی قرار دے رہے ہیں۔ اس تنازع کے درمیان جمہوریت میں اقتدار عوام کے مینڈیٹ کے ذریعے حاصل کرنے کے طریقے پر بحث جاری ہے اور دونوں فریق اپنے اپنے دلائل پیش کررہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
547 مقدمات درج، 182 کروڑ روپے سے زائد کی منشیات ضبط ہوئی ہیں اور منشیات…
آئی ٹی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ بھارت تجارتی یا سوشل…
وزیر اعظم نریندر مودی کی عوامی زندگی اور حکمرانی کے 25 سال مکمل ہونے پر…
ویسٹ انڈیز کے خلاف چوتھے ٹی 20 میں ایک چھکا لگاتے ہی ابھیشیک شرما نے…
کانگریس لیڈر نے صدر دروپدی مرمو سے دشیانت گوتم کی تقرری پر دوبارہ غور کرنے…
وزیر اعظم نے ملک کا نام روشن کرنے والی بیٹیوں کی خصوصی طور پر تعریف…