قومی

Congress Working Committee Meeting: ’بی جے پی حکومت نے معاشی عدم مساوات کو غلامی کی سطح تک پہنچا دیا‘، سی ڈبلیو سی میٹنگ میں قرارداد منظور

’’باپو (مہاتما گاندھی) کے اصولوں اور سردار پٹیل کے عزائم کو ساتھ لیے ہم اپنے ہدف کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں۔ کانگریس کا ہر کارکن ملک کے تئیں اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے اور اسے نبھانے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ کنونشن کانگریس سے منسلک انصاف کے جنگجوؤں میں نئی توانائی اور طاقت بھرے گا۔ عزم، خدمت اور لگن کے جذبہ کو مضبوط کر انصاف کے راستے پر آگے بڑھائے گا۔‘‘ کانگریس نے یہ رائے گجرات کے احمد آباد میں منعقد کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی میٹنگ میں ظاہر کی۔ احمد آباد واقع سردار ولبھ بھائی پٹیل کے نیشنل میموریل میں منعقد اس میٹنگ میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی، لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی سمیت کئی سرکردہ پارٹی لیڈران موجود تھے۔

کانگریس کی توسیعی سی ای سی میٹنگ میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کے نظریات پر گہرائی کے ساتھ تبادلہ خیال ہوا اور ان سے منسلک قرارداد بھی پاس کیا گیا۔ اس قرارداد میں پارٹی نے کچھ اہم شعبوں کی طرف خصوصی توجہ کا فیصلہ کیا ہے، مثلاً پارٹی

کسانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کو تیار ہے

’نفرت چھوڑو-بھارت جوڑو‘ کی راہ پر بڑھنے کو تیار ہے

آئین میں موجود بنیادی حقوق، ملک کے محنت کش مزدوروں اور کامگاروں کے حقوق کی لڑائی لڑنے کو تیار ہے

وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے نئی جنگ کو تیار ہے

فرقہ وارانہ اشتعال کو روکنے کے لیے جدوجہد کو تیار ہے

نفرت اور تخریب کاری کو شکست دینے کے لیے جنگ کرنے کو تیار ہے

کانگریس کے کارکنان ہندوستان کی جمہوریت اور آئین کی آزادی سے متعلق اس جنگ کو دھاردار بنانے کے لیے انصاف کی راہ پر چلنے کے لیے پرعزم ہیں۔

کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر سی ڈبلیو سی میٹنگ میں پاس قرارداد کی تفصیل شیئر کی ہے۔ اس قرارداد میں برطانوی حکومت کے دوران ملک کے حالات اور موجودہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت میں پیدا حالات کو آمنے سامنے رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ 1918 میں خطہ جنگ گجرات کے کھیڑا میں انگریز حکومت کے ذریعہ کسانوں سے ٹیکس وصولی کی مخالفت میں گاندھی جی کی ترغیب سے سردار پٹیل نے آزدای کی جنگ میں قدم رکھا۔ پھر ولبھ بھائی پٹیل نے 1928 میں انگریز حکومت کے ذریعہ کسانوں سے لگان وصولی کے خلاف باردولی ستیاگرہ کی قیادت کی۔ ان کی اثردار اور توانائی سے بھرپور قیادت کے سبب وہ باردولی تحریک سے ’سردار‘ کہلائے۔ آج کی بی جے پی حکومت بھی انگریزوں کی طرح کسانوں کی زمین کے مناسب معاوضہ سے متعلق قانون کو ختم کرنے کا آرڈیننس لاتی ہے، زراعت کے تین سیاہ قوانین بناتی ہے، کسانوں کی راہوں میں کیل اور کانٹے بچھاتی ہے، کسانوں کو آمدنی دوگنی اور ایم ایس پی گارنٹی کا وعدہ کر صاف پیچھے ہٹ جاتی ہے اور انصاف مانگنے پر لکھیم پور کھیری میں بی جے پی لیڈران کی جیپوں سے کسانوں کو کچلواتی ہے۔ اس لیے ایک بار پھر سردار پٹیل کی راہ پر کانگریس کسان کے حقوق کے لیے نتیجہ خیز جنگ کو تیار ہے۔

قرارداد میں آگے مذکور ہے کہ انگریزوں نے ہندوستان کے مزدوروں اور کامگاروں کے حقوق ختم کرنے کی سازش پر مبنی پالیسی اختیار کی تھی۔ کانگریس کے کراچی کنونشن میں قومی صدر کی شکل میں سردار پٹیل نے انگریزوں کے خلاف مزدوروں و کامگاروں کے حقوق کی پُرزور آواز اٹھائی تھی۔ یہی نہیں، مذہب و ذات اور جنس کی بنیاد پر تفریق نہ کرنے کے لیے بنیادی حقوق بنانے کا خاکہ اسی کنونشن میں تیار کیا گیا۔ موجودہ حالات کو دیکھیں تو بی جے پی حکومت نے محنت کش مزدوروں اور کامگاروں کے حقوق پر لگاتار حملہ کیا ہے، چاہے وہ مہاتما گاندھی نریگا کو کمزور کرنا ہو یا پھر قوانین و مزدوروں کے حقوق پر حملے ہوں۔ یہاں تک کہ بنیادی حقوق کو بلڈوزر سے روندنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی لیے ایک بار پھر سردار پٹیل کے راستے پر چل کر کانگریس آئین کے مطابق بنیادی حقوق اور ملک کے محنت کش مزدوروں و کامگاروں کے حقوق کی جنگ لڑنے کو تیار ہے۔

ملک میں بڑھتے معاشی عدم مساوات کا تذکرہ بھی قرارداد میں موجود ہے۔ اس میں لکھا گیا ہے کہ انگریز حکومت نے ہندوستان کے خزانے کو لوٹ کر ملک میں غریبی و معاشی عدم مساوات کو عروج پر پہنچا دیا تھا۔ سردار پٹیل کا نظریہ تھا کہ بھرپور پروڈکشن، وسائل کی یکساں تقسیم اور پروڈیوسرز کے ساتھ منصفانہ سلوک ہی دور رَس معاشی پالیسی کا حصہ ہیں۔ اب موجودہ حالات کو دیکھیں تو آج کی بی جے پی حکومت نے جہاں 3 دہائیوں سے گجرات کو لوٹا، وہیں ملک کے خزانے کا منھ مٹھی بھر دوستوں کی طرف موڑ کر ’معاشی عدم مساوات‘ کو غلامی کی سطح تک پہنچا دیا ہے۔ اسی لیے ایک بار پھر ملک کو معاشی غلامی کی طرف دھکیلنے والے چند دولت مندوں کے سکّوں کی کھنک کے خلاف سردار پٹیل کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے کانگریس نئی جنگ کو تیار ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

INDIA Alliance Rally: ’عوامی مواخذے‘ کے بعد اتوار کو رام لیلا میدان میں ’انڈیا‘ اتحاد کی عظیم ریلی

چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی جانب…

7 hours ago

نیشنل کانفرنس میں بغاوت کے آثار، عمرعبداللہ کے لئے بڑا جھٹکا، 15 سے زائد اراکین اسمبلی کی خفیہ میٹنگ

خفیہ میٹنگ کی اطلاعات کے بعد کوئی بھی رکن اسمبلی کھل کرکیمرے کے سامنے قیادت کے…

9 hours ago

جو ہمیں دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتے ہیں، وہ دراصل ملک کے دشمن ہیں: مولانا محمود مدنی نے کیوں کہی یہ بڑی بات؟

جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ منتظمہ کے دو روزہ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورت…

9 hours ago

Guwahati GMCH: کیا کینسر کے علاج میں آئے گی بڑی پیش رفت؟ آسام میں ملک کا پہلا سرکاری پروٹون بیم تھراپی مرکز قائم کرنے کی تیاری

آسام کے گوہاٹی میڈیکل کالج (جی ایم سی ایچ) میں ہندوستان کا پہلا سرکاری اور…

9 hours ago

Gold-Silver Rate: سونا اور چاندی کی قیمتیں 12 ماہ کی کم ترین سطح پر، بڑی گراوٹ سے بازار میں ہلچل،کیا یہی ہے خریداری کا صحیح وقت؟

کموڈیٹی مارکیٹ میں زبردست فروخت کے دباؤ کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں…

10 hours ago