قومی

Congress to focus on Pahalgam terror attack: مانسون سیشن میں پہلگام حملے پر زبردست انداز میں حکومت کو گھیرے گی کانگریس،آپریشن سندور اور سیزفائر پر بھی ہنگامے کے آثار

انڈین نیشنل کانگریس نے پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے پہلے ہفتے میں 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کو اہم ایجنڈے کے طور پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حملے میں 26 افراد، جن میں زیادہ تر سیاح تھے، ہلاک ہوئے تھے۔ کانگریس نے اسے سیکیورٹی کی ناکامی قرار دیتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ پارٹی کے رہنما پرمود تیواری نے کہا کہ وہ اس بات پر زور دیں گے کہ اس حملے کے ذمہ داروں کو اب تک کیوں نہیں پکڑا گیا اور اس کی تحقیقات کیوں مکمل نہیں ہوئیں۔ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن 21 جولائی سے 21 اگست تک جاری رہے گا، جو اس حملے کے بعد پہلا سیشن ہوگا۔

کانگریس کی قیادت نے انڈین نیشنل ڈیولپمنٹل انکلوسیو الائنس (انڈیا) بلاک کے دیگر اتحادیوں سے رابطہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ 19 یا 20 جولائی کو ایک میٹنگ منعقد کی جائے۔ اس میٹنگ کا مقصد سیشن کے لیے ایک مشترکہ ایجنڈا تیار کرنا ہے۔ اس میٹنگ میں پہلگام حملے کے علاوہ آپریشن سندور، بہار میں الیکشن کمیشن کی خصوصی انتخابی فہرست کی نظرثانی (ایس آئی آر)، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ثالثی کے دعوؤں سمیت خارجہ پالیسی کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ تمام مسائل قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی سے متعلق ہیں، جن پر پارلیمنٹ میں کھل کر بحث ہونی چاہیے۔

پہلگام حملے کے بعد کانگریس سمیت انڈیا بلاک نے ایک خصوصی پارلیمانی سیشن کا مطالبہ کیا تھا، لیکن حکومت نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ حکومت نے مانسون سیشن کی تاریخیں 47 دن پہلے اعلان کرکے خصوصی سیشن سے بچنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ غیر معمولی ہے کہ سیشن کی تاریخیں اتنی پیشگی اعلان کی جائیں، اور اس کا مقصد پہلگام حملے اور آپریشن سندور سے متعلق سوالات سے بچنا ہے۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ مانسون سیشن میں یہ مسائل غالب رہیں گے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو مشکل سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس سیشن میں کانگریس دیگر اہم مسائل جیسے کہ بہار میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی، معیشت کی حالت، مہنگائی، اور بے روزگاری کو بھی اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پارٹی کی صدر سونیا گاندھی 15 جولائی کو ایک اسٹریٹجی میٹنگ کی صدارت کر چکی ہیں، جس میں پارلیمانی حکمت عملی کو حتمی شکل دی گئی۔ کانگریس نے بہار کے ایس آئی آر کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، الزام لگاتے ہوئے کہ یہ دو کروڑ ووٹروں کے حقوق کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، پارٹی آپریشن سندور کے دوران مبینہ سیکیورٹی ناکامیوں اور اس کے بعد کے سفارتی نتائج پر بھی بحث کا مطالبہ کر رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

2 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

2 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

3 hours ago