قومی

No-Confidence Motion Notice: کانگریس نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا نوٹس جمع کرایا، 118 ارکان پارلیمنٹ کے دستخط

نئی دہلی: کانگریس نے منگل کے روز لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا نوٹس پارلیمنٹ میں جمع کرا دیا۔ کانگریس ذرائع کے مطابق اس نوٹس پر کل 118 ارکان پارلیمنٹ کے دستخط ہیں۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے کہا: ’’آج دوپہر 1 بج کر 14 منٹ پر ہم نے قواعد و ضوابط کے رول 94-سی کے تحت اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا نوٹس جمع کرایا۔‘‘ ذرائع کے مطابق اپوزیشن ارکان نے اسپیکر کے ’کھلے طور پر جانبدارانہ‘ رویے کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو ایوان میں بولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

نوٹس میں شامل چار بڑے واقعات

ذرائع کے مطابق عدم اعتماد کی تحریک کے نوٹس میں اسپیکر کے خلاف چار اہم واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے، جن میں ’صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو بولنے کی اجازت نہ دینا۔ راہل گاندھی نے چین کے ساتھ 2020 کے سرحدی تعطل پر بحث کے لیے جنرل ایم ایم نرونے کی غیر شائع شدہ یادداشت کا حوالہ دیا تھا۔ آٹھ ارکان پارلیمنٹ کی معطلی۔ بی جے پی ایم پی نشی کانت دوبے کی جانب سے سابق وزرائےاعظم پر قابل اعتراض اور ذاتی نوعیت کے حملے۔ اسپیکر اوم برلا کا وہ بیان، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کچھ کانگریس ارکان کے وزیر اعظم کی نشست تک پہنچ کر غیر معمولی واقعہ انجام دینے کے خدشے کے پیش نظر انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے ایوان میں نہ آنے کی درخواست کی تھی‘ شامل ہیں۔

ترنمول کانگریس کا موقف

ادھر ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے کانگریس سے کہا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک لانے سے پہلے اسپیکر اوم برلا کو تحریری اپیل دی جائے۔ ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ اگر دو سے تین دن میں اسپیکر نے اپوزیشن کی اپیل پر کوئی کارروائی نہیں کی تو ان کی پارٹی عدم اعتماد کی تحریک پر دستخط کرے گی۔ ابھیشیک بنرجی نے کہا: ’’ہم نے کل بھی واضح کیا تھا کہ تمام ٹی ایم سی ایم پیز عدم اعتماد کی تحریک پر دستخط کریں گے، لیکن ہماری تجویز یہ تھی کہ پہلے اسپیکر کو ایک احتجاجی خط دیا جائے، جس پر تمام اپوزیشن ارکان کے دستخط ہوں۔ اگر دو سے تین دن میں اسپیکر کوئی کارروائی نہیں کرتے تو پھر عدم اعتماد کی تحریک لانے میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’کل ایوان کو دوپہر دو بجے پورے دن کے لیے ملتوی کر دیا گیا، حالانکہ اسے ایک یا دو گھنٹے کے لیے بھی ملتوی کیا جا سکتا تھا۔ اگر واقعی ایوان چلانا ہے تو یہ عمل میں نظر آنا چاہیے، صرف باتوں میں نہیں۔ ٹی ایم سی چاہتی ہے کہ ایوان کی کارروائی چلے، لیکن یہ ذمہ داری اسپیکر کی ہے۔ اگر بی جے پی کے رکن کو بولنے کی اجازت دی جا سکتی ہے تو اپوزیشن کو بھی یہ حق ملنا چاہیے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

9 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

9 hours ago