نئی دہلی: بھارتیہ نیشنل کانگریس نے وینزویلا میں امریکہ کی جانب سے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران اختیار کیے گئے یکطرفہ اقدامات پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ امریکہ کی یہ کارروائیاں اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور مختلف بین الاقوامی معاہدوں میں درج بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی سراسر خلاف ورزی ہیں۔
کانگریس کے شعبۂ خارجہ امور کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والا قوانین پر مبنی عالمی نظام قومی خودمختاری کے احترام اور پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر ٹکا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی واضح منظوری کے بغیر کسی بھی قسم کی فوجی یا طاقت کے استعمال سے متعلق کارروائی نہ صرف ان بنیادی اصولوں کو کمزور کرتی ہے بلکہ اس سے طاقت کی سیاست کے پرانے اور خطرناک طریقوں کی واپسی کا خدشہ بھی پیدا ہوتا ہے، جو عالمی استحکام کو کمزور کر سکتا ہے۔
کانگریس نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ وینزویلا کے عوام کی خواہشات کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ وینزویلا کے قدرتی وسائل کا استعمال وہیں کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہی ہونا چاہیے، جیسا کہ قدرتی وسائل پر مستقل خودمختاری کے اصولوں میں ضمانت دی گئی ہے۔ پارٹی نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ وینزویلا کے معاملے میں بین الاقوامی قانون، قومی خودمختاری اور عوام کے جمہوری حقوق کے احترام کو یقینی بنائے۔
مادورو کی گرفتاری کے بعد ملک کی قیادت پر سوال
ادھر، وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ آئندہ ملک کی قیادت کون کرے گا اور اقتدار کی منتقلی کس طرح ہوگی۔ خود امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے اب بھی خاصی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا کہ امریکہ نہ تو مادورو کو اور نہ ہی ان کے جانشینوں کو جائز تسلیم کرتا ہے۔ پھر بھی زمینی حقائق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ان لوگوں سے نمٹنا ہوگا جن کے پاس بندوقیں ہیں: روبیو
این بی سی کے پروگرام ’میٹ دی پریس‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں روبیو نے کہا، ’’ہمیں ان لوگوں سے نمٹنا ہوگا جن کے پاس بندوقیں ہیں۔‘‘ ان کا اشارہ وینزویلا کی سکیورٹی ایجنسیوں اور سرکاری ڈھانچے کی جانب تھا، جو اب بھی سرگرم ہیں۔
روبیو نے نائب صدر ڈیلسے رودریگز سے کی بات چیت
روبیو نے اے بی سی نیوز اور سی بی ایس نیوز کو دیے گئے انٹرویوز میں اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے نائب صدر ڈیلسے رودریگز سے بات چیت کی ہے، جنہوں نے مادورو کی گرفتاری کے بعد قیادت کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔ حالانکہ، انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس گفتگو میں کن نکات پر اتفاق ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ آگے وہ کون سے اقدامات اٹھاتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، کیرالا ہائی کورٹ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ…
راہل گاندھی نے انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات اور الیکشن کمیشن کے خلاف جاری احتجاج…
آن لائن کلاسوں سے متعلق جاری ہدایت میں یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبا سے کیمپس نہ…
راجیو گوبا نے کہا کہ پہلے بنیادی ڈھانچے کی ترقی مختلف محکموں اور وزارتوں کی…
دو روزہ 12ویں برکس پارلیمانی فورم کی میزبانی ہندوستانی پارلیمنٹ کررہی ہے۔ اس میں برکس…
سلطان پور کی خصوصی ایم پی-ایم ایل اے عدالت میں راہل گاندھی کارروائی شروع ہونے…