قومی

Mallikarjun Kharge CWC Meeting: ’منریگا ختم کرنا غریبوں پرحملہ…‘، سی ڈبلیوسی کی میٹنگ میں کھڑگے کا بڑا دعویٰ، مرکزی حکومت پرکی تنقید

کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیوسی) کی اہم میٹنگ میں پارٹی صدرملیکا ارجن کھڑگے نے مرکزکی مودی حکومت کے خلاف جارحانہ رخ اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت ایسے دور سے گزررہا ہے، جہاں جمہوری ادارے کمزورکئے جا رہے ہیں۔ آئین کی روح کوپامال کیا جا رہا ہے اورعام شہریوں کے حقوق کومسلسل سلب کیا جا رہا ہے۔ کھڑگے کے مطابق، یہ صرف صورت حال کا جائزہ لینے کا وقت نہیں ہے، بلکہ آنے والی جدوجہد کے راستے کوتشکیل دینے میں ایک فیصلہ کن موڑہے۔

ملیکا ارجن کھڑگے نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے منریگا جیسی تاریخی اسکیم کوکمزورکرکے کروڑوں غریبوں، مزدوروں اوردیہی خاندانوں کی روزی-روٹی پرسیدھا حملہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے غریبوں کے پیٹ پرلات مارنے اورپیٹھ میں چھرا گھونپنے جیسا بتایا۔ کھڑگے کے الفاظ میں منریگا کوختم کرنا صرف ایک اسکیم کا خاتمہ نہیں، بلکہ مہاتما گاندھی کے خیالات اوران کے احترام پرحملہ ہے۔

سونیا گاندھی کے خیالات کا ذکر

کانگریس صدرکھڑگے نے سونیا گاندھی کے حالیہ مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ منریگا نے گاندھی جی کے سرودیہ کے خوابوں کوزمین پراتارنے کا کام کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم کا خاتمہ ایک اجتماعی اخلاقی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے، جس کے سماجی اورمعاشی نتائج طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ کام کرنے کا حق آئین کے ہدایتی اصولوں کے مرکزمیں ہے، جسے یوپی اے حکومت نے تعلیم، خوراک، صحت اورروزگارکے حقوق کی شکل میں مضبوط کیا تھا۔

حکومت  کوغریبوں سے زیادہ سرمایہ داروں کی فکر

ملیکا ارجن کھڑگے نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت کی پالیسیاں عام عوام کے مفاد میں نہیں بنائی جا رہی ہیں، بلکہ چند بڑے صنعت کاروں کوفائدہ پہنچانے کے لیے بنائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے استحقاق اوراجارہ داری پرمہاتما گاندھی کے خیالات کودہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نظام جومعاشرے کے ساتھ اشتراک نہ ہو وہ اخلاقی طورپرناقابل قبول ہے۔

منریگا کا آغازاورعالمی پذیرائی
وزیرمحنت کے طورپراپنے دورکو یاد کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ہندوستان کی اسکیم کی بین الاقوامی سطح پرستائش کی گئی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سونیا گاندھی اورڈاکٹرمنموہن سنگھ نے 2006 میں آندھرا پردیش کے ایک گاؤں سے اسکیم کا آغازکیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ، یہ دنیا کی سب سے بڑی روزگارکی ضمانت کی اسکیم بن گئی، جس نے دیہی ہندوستان کو بااختیاربنایا، نقل مکانی کوروکا اوردلتوں، قبائلیوں، خواتین اوربے زمین مزدوروں کے لیے حفاظتی جال فراہم کیا۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی کے مطالبے کی حمایت، سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے طلباء کے دھرنے اور بھوک ہڑتال کو حق بجانب قرار دیا

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدراورسپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان…

5 hours ago

Slap Case Delhi: ’یہ دیش تمہارے پِتا جی کا نہیں…‘ پرویش ورما پر برسے اروند کیجریوال، گرفتاری کا کیا مطالبہ

عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے پرویش ورما کی گرفتاری کا مطالبہ…

6 hours ago

Iran IRGC Warns US: ایران کے آئی آر جی سی کا امریکی صدر ٹرمپ کو انتباہ، جنگ ہوئی تو تباہی بحر ہند تک پھیلے گی

ایران امریکہ کشیدگی: آئی آر جی سی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے…

7 hours ago