کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے۔ (تصویر: اے این آئی)
کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے منگل کو وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر لوک سبھا کے ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا عمل شروع کرنے کی درخواست کی۔ اپنے خط میں کھڑگے نے کہا کہ ’’آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار یہ عہدہ لگاتار دو لوک سبھا میعاد کے لیے خالی رہا ہے۔ سترہویں لوک سبھا کے دوران کوئی ڈپٹی اسپیکر منتخب نہیں ہوا اور یہ نظیر جاری اٹھارہویں لوک سبھا میں بھی برقرار ہے۔ یہ ہندوستان کی جمہوری سیاست کے لیے اچھی بات نہیں ہے۔‘‘
کانگریس صدر نے مزید لکھا کہ ’’میں آپ کی توجہ لوک سبھا میں ڈپٹی اسپیکر کی خالی جگہ کے معاملہ کی طرف توجہ دلانے کے لیے لکھ رہا ہوں۔ آئین ہند کا آرٹیکل 93 عوام کے ایوان کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر دونوں کے انتخاب کو لازمی قرار دیتا ہے۔۔۔مذکورہ بالا باتوں کے پیش نظر اور ایوان کی باوقار روایات اور ہماری پارلیمنٹ کی جمہوری اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے، میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ لوک سبھا کے ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے عمل کو مزید تاخیر کے بغیر شروع کریں۔‘‘
مودی حکومت کے گیارہ برس پورے ہونے پر کہا-حکومت نے آئینی اداروں کو کیا ہے کمزور
اس سے پہلے پیر کے روز کھڑگے نے وزیر اعظم مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ مودی حکومت کے گیارہ برسوں میں ہندوستان کے جمہوری اداروں، معیشت اور سماجی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بی جے پی حکومت نے آئینی اداروں کو ’کمزور‘ کیا ہے اور ان کی خود مختاری پر ’حملہ‘ کیا ہے۔ کانگریس صدر نے حکومت پر سماج میں ’’نفرت، دھمکی اور خوف‘‘ کا ماحول پیدا کرنے کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ اس حکومت کے دوران دلتوں، قبائلیوں، پس ماندہ طبقات، اقلیتوں اور کمزور طبقات کے استحصال میں اضافہ ہوا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سید احمد خاں نے کہا کہ…
اس حساب سے اگر تقریباً 5 سیکنڈ کی اے آئی ویڈیو تیار کی جائے تو…
تمل ناڈو حکومت نے پیروُنتھلایور کامراج ناشتہ اسکیم کے بہتر نفاذ کے لیے حکام کو…
ساحل کے والد نے صرف استاد کے خلاف ہی نہیں بلکہ فیکلٹی کے سینئر افسران…
اویسی نے حال ہی میں بھوپال میں منعقد اپنے پروگرام کا بھی ذکر کیا۔ وہاں…
واقعے کے بعد سرکاری طبی مرکز میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر بھی سوال…