قومی

Congress new political strategy in UP: اتر پردیش میں کانگریس کی نئی سیاسی تیاری، نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی ریاست میں 17 بڑی ریلیاں

اتر پردیش کی سیاست میں کانگریس ایک بار پھر خود کو مضبوط کرنے کی کوششوں میں مصروف ہو گئی ہے۔ آنے والے پنچایت انتخابات اور 2027 کے اسمبلی انتخابات کو سامنے رکھتے ہوئے پارٹی نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ ذرائع سے ملی معلومات کے مطابق، نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی کانگریس ریاست کے مختلف حصوں میں 17 بڑی ریلیاں کرنے جا رہی ہے۔ کانگریس کی منصوبہ بندی جنوری 2026 سے ان ریلیوں کے آغاز کی ہے۔ یہ ریلیاں ان علاقوں میں ہوں گی جہاں پارٹی نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی یا جہاں وہ بہت کم فرق سے ہاری تھی۔ وارانسی اور غازی آباد جیسے بڑے سیاسی مراکز بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ ان ریلیوں کا اختتام فروری میں لکھنؤ میں کیا جائے گا۔

2024 کی کامیابی سے بڑھا حوصلہ

2024 کے لوک سبھا انتخابات کانگریس کے لیے خاصے اہم ثابت ہوئے۔ اتر پردیش میں پارٹی نے 17 نشستوں پر انتخاب لڑا اور 6 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ امیٹھی اور رائے بریلی کے علاوہ سیتاپور، بارہ بنکی، الہ آباد اور سہارنپور جیسی نشستوں پر کانگریس کو تقریباً 40 سال بعد فتح ملی۔ اس کے علاوہ کئی سیٹوں پر پارٹی معمولی فرق سے ہار گئی۔ اس کارکردگی نے کانگریس کے کارکنوں اور لیڈروں میں نیا جوش بھر دیا ہے۔ پارٹی کو اب لگنے لگا ہے کہ اگر درست حکمتِ عملی بنائی جائے تو یوپی میں دوبارہ مضبوط واپسی ممکن ہے۔

’شکریہ ریلی‘ کے ذریعے زمینی تیاری

کانگریس نے جن 17 سیٹوں پر انتخاب لڑا تھا، انہی علاقوں میں ’شکریہ ریلی‘ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان ریلیوں کا مقصد کارکنوں میں جوش پیدا کرنا، عوام کے اعتماد کو مضبوط کرنا اور زمینی حالات کو بہتر طور پر سمجھنا ہے۔ پارٹی نے پنچایت انتخابات اپنے بل بوتے پر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، اسی لیے تنظیم کو مضبوط کرنا اس کی اولین ترجیح ہے۔ سہارنپور سے رکنِ پارلیمنٹ عمران مسعود کی دہلی واقع رہائش گاہ پر ہونے والی میٹنگ میں یوپی کے تمام کانگریس ایم پیز اور سینئر لیڈر شریک ہوئے، جہاں جنوری سے فروری کے درمیان 17 ریلیوں کا خاکہ طے کیا گیا۔

2027 کی بڑی تیاری

کانگریس کا ماننا ہے کہ سماج وادی پارٹی کے ساتھ اتحاد اور مسلم و دلت ووٹ بینک کی حمایت سے 2027 کے اسمبلی انتخابات میں اسے بڑا موقع مل سکتا ہے۔ راہل گاندھی رائے بریلی کو مرکز بنا کر یوپی کی سیاست میں مسلسل سرگرم ہیں۔ 2024 کے بعد سے ان کے مسلسل یوپی دورے اسی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں۔

سماج وادی پارٹی پر دباؤ کی حکمتِ عملی

تقریباً 35 برس سے اقتدار سے باہر چل رہی کانگریس اب ’پریشر پالیٹکس‘ کے ذریعے خود کو مضبوط پوزیشن میں لانا چاہتی ہے۔ پارٹی چاہتی ہے کہ 2027 میں سماج وادی پارٹی کے ساتھ سیٹوں کی تقسیم میں اسے بہتر حصہ ملے۔ اس کے لیے تنظیم کو فعال رکھنا اور عوام کے درمیان مسلسل موجود رہنا ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر، کانگریس کی 17 ریلیوں کی یہ حکمتِ عملی اتر پردیش میں پارٹی کو دوبارہ کھڑا کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ سیاسی مشق 2027 کے انتخابات میں کانگریس کے لیے کتنی کامیاب ثابت ہوتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

INDIA Alliance Rally: ’عوامی مواخذے‘ کے بعد اتوار کو رام لیلا میدان میں ’انڈیا‘ اتحاد کی عظیم ریلی

چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی جانب…

2 hours ago

نیشنل کانفرنس میں بغاوت کے آثار، عمرعبداللہ کے لئے بڑا جھٹکا، 15 سے زائد اراکین اسمبلی کی خفیہ میٹنگ

خفیہ میٹنگ کی اطلاعات کے بعد کوئی بھی رکن اسمبلی کھل کرکیمرے کے سامنے قیادت کے…

4 hours ago

جو ہمیں دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتے ہیں، وہ دراصل ملک کے دشمن ہیں: مولانا محمود مدنی نے کیوں کہی یہ بڑی بات؟

جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ منتظمہ کے دو روزہ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورت…

4 hours ago

Guwahati GMCH: کیا کینسر کے علاج میں آئے گی بڑی پیش رفت؟ آسام میں ملک کا پہلا سرکاری پروٹون بیم تھراپی مرکز قائم کرنے کی تیاری

آسام کے گوہاٹی میڈیکل کالج (جی ایم سی ایچ) میں ہندوستان کا پہلا سرکاری اور…

5 hours ago

Gold-Silver Rate: سونا اور چاندی کی قیمتیں 12 ماہ کی کم ترین سطح پر، بڑی گراوٹ سے بازار میں ہلچل،کیا یہی ہے خریداری کا صحیح وقت؟

کموڈیٹی مارکیٹ میں زبردست فروخت کے دباؤ کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں…

5 hours ago