کانگریس نے مہنگائی، بے روزگاری اور پیپر لیک جیسے اہم عوامی مسائل کو لے کر مرکزی حکومت کے خلاف ملک گیر مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ ایسے مسائل ہیں جو براہِ راست عام شہریوں، نوجوانوں اور طلبہ کی زندگیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ کانگریس قیادت کے مطابق مسلسل بڑھتی مہنگائی، روزگار کے مواقع میں کمی اور مختلف مسابقتی امتحانات میں پیپر لیک کے واقعات نے کروڑوں لوگوں کو متاثر کیا ہے، اسی لیے پارٹی اب سڑک سے لے کر پارلیمنٹ تک اپنی جدوجہد تیز کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
کھڑگے کی صدارت میں اہم اجلاس
دہلی میں واقع کانگریس ہیڈکوارٹر میں پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے کی صدارت میں جنرل سیکریٹریز، ریاستی انچارجز اور ریاستی صدور کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی بھی موجود تھے۔تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں تنظیمی معاملات کے ساتھ ساتھ ملک کی سیاسی اور اقتصادی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
راہل گاندھی کا حکومت پر حملہ
ذرائع کے مطابق راہل گاندھی نے اجلاس کے دوران مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پیپر لیک کے واقعات نے لاکھوں طلبہ کے خواب توڑ دیے ہیں، جبکہ مہنگائی نے عام لوگوں کی زندگی کو دشوار بنا دیا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ان سنگین مسائل پر جوابدہی سے بچ رہی ہے، جبکہ سب سے زیادہ نقصان نوجوانوں اور متوسط طبقے کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
قومی سطح پر عوامی مہم
اجلاس کے بعد کانگریس کے جنرل سیکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پارٹی جلد ہی قومی سطح پر ایک وسیع عوامی مہم شروع کرے گی۔ان کے مطابق یہ مہم صرف دہلی یا ریاستی دارالحکومتوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ضلع اور بلاک سطح تک چلائی جائے گی۔ کانگریس کارکن عوام کے درمیان جا کر ان کے مسائل سنیں گے اور انہیں قومی سطح پر اجاگر کریں گے۔
مہنگائی اور روزگار کے مسائل پر تشویش
وینوگوپال نے کہا کہ پٹرول، ڈیزل اور گھریلو گیس کی بڑھتی قیمتوں نے عام خاندانوں کا بجٹ بُری طرح متاثر کیا ہے۔ بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان روزگار کے بحران سے دوچار ہیں اور مسابقتی امتحانات میں بے ضابطگیوں نے ان کے مستقبل کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
نیٹ اور دیگر امتحانات کا معاملہ
کانگریس نے نیٹ (NEET) اور دیگر امتحانات سے متعلق تنازعات کا بھی ذکر کیا۔ پارٹی کا الزام ہے کہ تعلیمی نظام سے جڑے سنگین معاملات میں حکومت اخلاقی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔اسی تناظر میں کانگریس نے ایک بار پھر مرکزی وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ دہرایا۔
نامزدگی مسترد ہونے پر اعتراض
اجلاس میں مدھیہ پردیش سے کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن کے نامزدگی فارم مسترد کیے جانے کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف نہ کوئی ایف آئی آر درج ہے، نہ کوئی مجرمانہ مقدمہ اور نہ ہی چارج شیٹ، اس کے باوجود تکنیکی بنیادوں پر ان کا نامزدگی فارم مسترد کر دیا گیا۔ دوسری جانب جھارکھنڈ میں بی جے پی حمایت یافتہ امیدوار پریمل ناتھوانی کے نامزدگی فارم کی منظوری پر بھی پارٹی نے سوالات اٹھائے ہیں۔
دوہرے معیار کا الزام
کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ انتخابی عمل میں دوہرے معیار اپنائے جا رہے ہیں۔ پارٹی نے اس معاملے کو قانونی اور سیاسی دونوں سطحوں پر چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کے سی وینوگوپال نے اسے جمہوری اداروں کی غیر جانبداری سے جڑا ایک سنگین مسئلہ قرار دیا۔
عوامی مسائل کو سیاسی ایجنڈا بنانے کی کوشش
کانگریس قیادت کا ماننا ہے کہ ملک اس وقت دوہری مشکلات سے دوچار ہے۔ ایک طرف عوام مہنگائی اور بے روزگاری سے پریشان ہیں، تو دوسری طرف جمہوری اداروں کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اسی لیے پارٹی عوام کے درمیان جا کر ان مسائل کو قومی مباحثے کا حصہ بنانے کی حکمتِ عملی پر کام کر رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں کانگریس اپنی ملک گیر مہم کا تفصیلی خاکہ پیش کرے گی۔ پارٹی کا مقصد صرف احتجاج کرنا نہیں بلکہ عام شہریوں، نوجوانوں، طلبہ اور بے روزگار افراد کے مسائل کو براہِ راست سیاسی ایجنڈے کا حصہ بنانا ہے۔ کانگریس اسے اپنی آئندہ سیاسی حکمتِ عملی کا ایک اہم ستون قرار دے رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ شری کلکی دھام کی تعمیر کے لیے انہوں نے…
یوزڑ کو ہونے والی پریشانی کم کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے سرکاری شعبے کے…
اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے صرف 5 ماہ میں پیدا ہونے والا کچرا…
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…