قومی

Congress has 10 big faces in MP: مدھیہ پردیش میں کانگریس کے پاس ہیں 10 بڑے چہرے، لنگڑا گھوڑا سیدھا جائے گا گھر… بھوپال میں راہل گاندھی کے سخت تیور

کانگریس رہنما راہل گاندھی ان دنوں مدھیہ پردیش کے دورے پر ہیں۔ آج بھوپال میں انہوں نے کانگریس کے ارکانِ اسمبلی اور ضلع صدور کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی۔ اس دوران راہل نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں کانگریس کے پاس قیادت کی کمی نہیں ہے، بلکہ 10 مضبوط چہرے موجود ہیں۔ انہوں نے پارٹی میں نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر سخت موقف اپناتے ہوئے واضح کیا کہ اب کسی بھی قسم کی ڈسپلن شکنی برداشت نہیں کی جائے گی۔

“اب ریس کا گھوڑا ریس میں اور لنگڑا گھر جائے گا”

راہل گاندھی نے طنزیہ لہجے میں کہا کہ “پہلے کانگریس میں ایسا ہوتا تھا کہ بارات کے گھوڑے کو ریس میں اور ریس کے گھوڑے کو بارات میں بھیج دیا جاتا تھا۔ لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔ ریس کا گھوڑا ریس میں جائے گا، بارات کا گھوڑا بارات میں اور لنگڑا گھوڑا سیدھا گھر جائے گا۔”

“ہمارے پاس چہروں کی کوئی کمی نہیں”

میٹنگ کے دوران جب ایک ایم ایل اے نے سوال کیا کہ “کیا مدھیہ پردیش میں کانگریس کے پاس کوئی چہرہ نہیں ہے؟”، تو راہل نے فوری جواب دیا، “کس نے کہا کہ ہمارے پاس چہرہ نہیں ہے؟ ہمارے پاس 10 چہرے ہیں۔” اس موقع پر راہل نے کہا کہ پارٹی میں موجود “سلیپر سیلز” پر نگاہ رکھی جا رہی ہے اور ایسے افراد کو پارٹی سے نکال دیا جائے گا۔

“ضلع صدر صرف نام کا نہیں، کام کا بھی ہونا چاہیے”

راہل گاندھی نے ضلع کانگریس صدور کے کام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جو ضلع صدر کام نہیں کرے گا، اسے فوراً ہٹا دیا جائے گا۔ صرف عہدہ حاصل کر لینا کافی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب لوکل باڈی انتخابات سے لے کر اسمبلی ٹکٹ تک کے فیصلوں میں ضلع صدر کی رپورٹ اہم ہوگی۔

55  نئے اور اہل لیڈران تیار کیے جائیں

راہل نے کہا کہ پارٹی کا ہدف ہے کہ مدھیہ پردیش میں 55 نئے اور اہل لیڈر تیار کیے جائیں۔ اس عمل میں ضلع صدور کا کلیدی کردار ہوگا۔ ہر ضلع میں یہ دیکھا جائے گا کہ کانگریس کے ووٹ بڑھے یا کم ہوئے۔

بی جے پی کے دباؤ میں دے رہے ہیں متنازعہ بیانات

راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کے دباؤ، ذاتی مایوسی یا کچھ خاص حکمت عملی کی وجہ سے بعض کانگریس لیڈر متنازع بیانات دے رہے ہیں، لیکن اب پارٹی ہر سطح پر سخت نگرانی کرے گی اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی بالکل بھی برداشت نہیں کرے گی۔

راہل گاندھی کے اس سخت پیغام سے صاف ظاہر ہے کہ کانگریس اب اپنی تنظیمی کمزوریوں کو دور کرنے اور مضبوط قیادت تیار کرنے کی کوشش میں ہے۔ “ریس، بارات، اور لنگڑے گھوڑے” کی اصطلاحیں انہوں نے اندرونی پارٹی پالیٹکس پر طنز کے طور پر استعمال کیں تاکہ غیر فعال اور غیر موزوں لیڈروں کو واضح پیغام دیا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Dharavi Redevelopment Project: دھاراوی کے لوگوں کے لیے بڑی شروعات، 10,432 نئے مکانات کی تعمیر شروع، اڈانی گروپ نے کیا بھومی پوجن

اڈانی گروپ نے ممبئی کے ماٹونگا میں دھاراوی بازآبادکاری منصوبے کے تحت 10,432 بازآبادکاری مکانات…

7 hours ago

INDIA Alliance Big Rally Plan: ووٹ چوری کے معاملے پر انڈیا اتحاد کی بڑی تیاری، دسمبر میں رام لیلا میدان سے طاقت دکھانے کا منصوبہ

دسمبر کے پہلے ہفتے میں دہلی میں بڑی ریلی منعقد کرنے کی تیاری، ملک بھر…

8 hours ago

INDIA Alliance Massive Protest Against Vote Chori: ووٹ چوری کا معاملہ، سڑک سے سپریم کورٹ تک عوامی سیلاب، کب کیا ہوا؟ جانیے مکمل ٹائم لائن

ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کے خلاف انڈیا اتحاد کا دہلی میں زبردست احتجاج،…

8 hours ago