نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے مصطفیٰ آباد میں پیش آئے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کے گاؤں، غیر مجاز کالونیوں اور بحالی کالونیوں میں جہاں دہلی کی 70 فیصد سے زیادہ آبادی رہتی ہے، عمارتوں کے نقشے منظور نہیں ہوتے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ عمارتوں کے نقشوں سے متعلق قوانین میں بنیادی ترمیم کی جائے تاکہ لوگوں کو نقشے منظور کرانے میں آسانی ہو اور وہ قانون کے مطابق اپنا گھر بنا سکیں۔ انھوں نے کہا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ 1977 میں جن کالونیوں کی منظوری دی گئی تھی، ان میں بھی آج تک عمارتوں کے تعمیراتی نقشے منظور نہیں ہوتے۔ انھوں نے مزید کہا کہ چوں کہ دہلی ملک کی راجدھانی ہے اور اس کی آبادی دن بہ دن بڑھ رہی ہے، اس لیے بلڈنگ کنسٹرکشن قانون میں ایسی ترامیم کی جانی چاہئیں تاکہ لوگوں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور انھیں آسانی سے عمارت کی تعمیر کی اجازت مل سکے۔ اسی طرح دہلی میں غیر مجاز تعمیرات کو روکا جاسکتا ہے، ورنہ غیر مجاز تعمیرات جاری رہیں گی۔
کانگریس لیڈر دیویندر یادو نے مصطفیٰ آباد میں چار منزلہ عمارت گرنے سے 11 لوگوں کی موت کے لیے براہ راست بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انھوں نے کہا کہ اس دلخراش حادثے میں جان و مال دونوں کا نقصان ہوا ہے۔ اس کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کرائی جائے اور غیر مجاز تعمیرات کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے دردناک حادثات کو روکا جاسکے۔ واضح رہے کہ مصطفی آباد میں عمارت گرنے سے 11 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ مصطفی آباد میں 2015 میں بی جے پی ایم ایل اےتھا، 2020 میں عام آدمی پارٹی اور 2025 میں ایک بار پھر بی جے پی ایم ایل اے ہے، جن کی حفاظت میں غیر مجاز تعمیرات اچھی خاصی تعداد میں جاری ہیں۔
بی جے پی اور عام آدمی پارٹی غیر مجاز تعمیرات کی ذمہ دار ہیں کیونکہ بی جے پی دہلی میونسپل کارپوریشن میں 15 سال تک اقتدار میں رہی، جب کہ عام آدمی پارٹی گزشتہ تین سال سے کارپوریشن میں اقتدار میں ہے:دیویندر یادو
دیویندر یادو نے مزید کہا کہ دہلی میں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری غیر مجاز تعمیرات کے لیے بی جے پی اور عام آدمی پارٹی ذمہ دار ہیں، کیوں کہ دہلی میونسپل کارپوریشن میں 15 سال تک بی جے پی کا بدعنوان راج تھا اور عام آدمی پارٹی گزشتہ 3 سالوں سے کارپوریشن میں اقتدار میں ہے۔ کارپوریشن کے افسران نے غیر مجاز تعمیرات کے نام پر عوام سے پیسہ لوٹا ہے اور بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے لیڈروں کی جیبیں بھری ہوئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی دہلی میں گزشتہ 12 سالوں سے عام آدمی پارٹی کی حکومت تھی اور اس وقت بی جے پی کی ریکھا گپتا کی حکومت ہے۔ بی جے پی اور اے اے پی قواعد کی دھجیاں اڑا کر دہلی میں غیر مجاز تعمیرات کی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ بی جے پی اور اے اے پی کے میونسپل کونسلر دہلی میں تعمیر ہونے والے گھر کے ہر لینٹر پر غیر مجاز رقم بٹورنے کے لیے لینٹر مافیا کے نام سے جانے جاتے ہیں اور یہ بدعنوانی میونسپل افسران کی ملی بھگت سے ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بلڈنگ بائی لاز کے نام پر افسران بھاری رشوت طلب کرتے ہیں جس کی وجہ سے دہلی میں غیر مجاز تعمیرات بڑھ رہی ہیں۔
شری دیویندر یادو نے کہا کہ راجدھانی دہلی سیسمک زون-4 میں واقع ہے، جس کے مطابق دہلی ایک زیادہ خطرہ والا علاقہ ہے اور یہاں زلزلے کی شدت عام طور پر 5-6 کے درمیان ہوتی ہے لیکن بعض اوقات 7-8 کی شدت کا زلزلہ بھی آ سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دہلی میں بڑے پیمانے پر غیر مجاز تعمیرات کی وجہ سے دہلی کھوکھلی ہو گئی ہے اور اگر بہت زیادہ شدت کا زلزلہ آتا ہے تو دہلی کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ انھوں نے کہا کہ دہلی میں غیر مجاز تعمیرات کو روکنے کے لیے دہلی میونسپل کارپوریشن اور دہلی حکومت کے افسران کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔
مرنے والوں کو فی کس 10 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 2 لاکھ روپے کا معاوضہ فوری طور پر دیا جائے: دیویندر یادو
کانگریس لیڈر دیویندر یادو نے متاثرہ خاندانوں کو فوری معاوضہ دیے جانے کا بھی مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ وزیراعظم نے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے لیے فی کس 2 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم دیویندر یادو نے کہا کہ مرنے والوں کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے کا معاوضہ آج کی مہنگائی کو دیکھتے ہوئے کچھ نہیں ہے، اس لیے مرنے والوں کے لواحقین کے لیے 10 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 2 لاکھ روپے فوری طور پر معاوضے کے طور پر دیے جائیں۔
دیویندر یادو نے کہا کہ ہر سال کارپوریشن کے اہلکار خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کرتے ہیں لیکن کچھ نہیں ہوتا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی خستہ حال عمارت کے گرنے سے لوگوں کی موت ہوئی ہو۔ ابھی جنوری میں بروری میں ایک 5 منزلہ زیر تعمیر عمارت گر گئی تھی جس میں 5 افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوئے تھے۔ پچھلے 12 سالوں میں بڑی تعداد میں بی جے پی اور آپ ایم ایل اے اور کونسلروں کی حمایت سے غیر مجاز تعمیرات ہوئی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
غیر تعاون کرنے والے مکینوں کے لیے ٹرانزٹ کرایہ کم کرنے کا فیصلہ، رضاکارانہ طور…
پی ایم مودی نے کہا کہ ستمبر کا مہینہ سوءِ تغذیہ کے خلاف جنگ کے…
غزہ میں تقریباً تین سال سے جاری جنگ کی وجہ سے بڑا حصہ ملبے میں…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ 3 اکتوبر کو بھوپال میں نئے فوجداری قوانین…
عامر خان اور کرینہ کپور کی آخری آن اسکرین جوڑی 2022 میں ریلیز ہونے والی…
لولی پروفیشنل یونیورسٹی (LPU) فگواڑہ میں اتوار کی شام ایک بار پھر ہنگامے کی صورتحال…