قومی

علی گڑھ موب لنچنگ سانحہ کو کانگریس لیڈر نے بتایا سماج اورملک پر بدنما داغ، متاثرین کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے پراٹھایا سوال

نئی دہلی: آل انڈیا کانگریس کمیٹی اقلیتی شعبہ کے نیشنل میڈیا انچارج اورتلنگانہ کوآرڈینیٹرسید عدنان اشرف نے کہا کہ علی گڑھ میں پیش آنے والے موب لنچنگ کا واقعہ ملک پرایک بدنما داغ ہے۔ علی گڑھ میں جس طرح ہجوم کے ذریعہ گوشت کے تاجروں کو مارا گیا وہ دہشت گردی سے کم نہیں ہے اورکسی بھی معززشخص کے لئے اس واقعہ کے منظرکودیکھنا بھی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے گوشت کے تاجروں سے بھتہ مانگا اورجب وہ بھتہ وصول کرنے میں ناکام رہے توان کی گاڑی کو آگ لگا دی اورپھر مشتعل ہجوم نے متحد ہوکرنہتے بے قصورلوگوں کوجان لیوا اندازمیں مارا گیا، اس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں ملک کے وزیراعظم نریندرمودی اوروزیرداخلہ امت شاہ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہی اترپردیش میں قانون وانتظام ہے؟ کیا یہ اس ریاست کی حالت ہے، جس میں وزیراعظم کا پارلیمانی حلقہ آتا ہے؟ میں بی جے پی حکومت سے پوچھنا چاہتا ہوں اورجواب مانگنا چاہتا ہوں کہ یہ وہ وقت ہے جب ہندوستان پوری دنیا کواتحاد کا پیغام دے رہا ہے، کیا اس طرح کے مناظرکا سامنے آنا حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث نہیں ہے اورکیا یہ حال اورمستقبل میں وزیراعظم، وزیرداخلہ اورملک کی بی جے پی حکومت کے لیے شرمندگی کی وجہ نہیں بنے گا؟۔ انہوں نے کہا کہ کیا ان غنڈوں پرانتظامیہ کا کوئی کنٹرول نہیں ہے؟؎

عدنان اشرف نے حکومت پر اٹھایا سوال

کانگریس لیڈرعدنان اشرف نے کہا کہ نہ صرف مجھے بلکہ ہرہندوستانی کواب یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ایسے غنڈوں کوبی جے پی حکومت نے مسلمانوں کو لنچنگ کرنے کے لیے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اوران لوگوں کوحکومت کی حمایت حاصل ہے۔ موب لنچنگ کے متاثرین نے واقعہ سے پہلے وہاں موجود بھیڑکوفیکٹری کا بل، لائسنس اورتمام درست دستاویزات دکھائے اس کے بعد بھی انہیں مارنے کی کوشش کی گئی۔ اس سے صاف ظاہرہوتا ہے کہ یہ سب بی جے پی حکومت کی رضامندی سے جان بوجھ کر کیا گیا تھا۔ اس میں حکومت کی ملی بھگت اس لیے بھی زوروں پر نظرآتی ہے کیونکہ ملزمین میں سے ایک کو شکایت کنندہ بنا کر پولس نے دو دن بعد موب لنچنگ کے متاثرین کے خلاف کراس ایف آئی آر درج کرائی تاکہ متاثرین کا مقدمہ کمزور ہو اور ملزمین کے حوصلے بلند ہوں۔

عمران پرتاپ گڑھی سے پارلیمنٹ میں اٹھانے کا مطالبہ

کانگریس مائنارٹی سیل کے نیشنل میڈیا انچارج نے کہا کہ جب تک حکومت ایسے مجرموں کو تحفظ فراہم کرتی رہے گی، تب تک معصوم اقلیتوں پراس طرح کے حملے اور قتل عام نہیں رکیں گے۔ ملک اورریاست کی بی جے پی حکومتوں کو مذہب سے اوپراٹھ کرملک کے آئین کے مطابق ملک کے شہریوں کے ساتھ انصاف کرنا ہوگا اورجب اکثریت اقلیتوں پرظلم کرے گی توآگے بڑھ کرایماندارانہ قانونی کارروائی کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ میں کانگریس کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ اور کانگریس اقلیتی شعبہ کے چیئرمین عمران پرتاپ گڑھی سے درخواست کروں گا کہ وہ اس مسئلہ کو پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں اٹھائیں۔ جلد ہی اقلیتی محکمہ کا ایک وفد علی گڑھ موب لنچنگ کے متاثرین سے ملاقات کرے گا۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Meerut Blue Drum Murder Case: میرٹھ کے نیلے ڈرم قتل معاملے میں عدالت کا بڑا فیصلہ، ساحل اور مسکان کو پھانسی کی سزا

میرٹھ کے مشہور سوربھ راجپوت قتل معاملے میں عدالت نے مسکان رستوگی اور اس کے…

33 minutes ago

UP MLC Elections: اکھلیش یادو کا بڑا داؤ، تو یوگی آدتیہ ناتھ کی دھواں دھار ریلیاں! یوپی کی 11 ایم ایل سی نشستوں پر سیاسی گھمسان

اتر پردیش میں قانون ساز کونسل کے انتخابات اسمبلی الیکشن سے پہلے دونوں جماعتوں کے…

2 hours ago

PM Narendra Modi: لیہہ ایئرپورٹ سے زانسکار تک چمکے گا لداخ، وزیر اعظم نریندر مودی 3,350 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا کریں گے افتتاح

وزیر اعظم نریندر مودی 15 اکتوبر کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے لداخ میں تقریباً 3,350…

2 hours ago