نئی دہلی: لوک سبھا کے اجلاس میں خواتین ریزرویشن بل پر بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن، خصوصاً کانگریس اور انڈیا اتحاد کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن مختلف بہانوں کے ذریعے خواتین ریزرویشن کی مخالفت کر رہی ہے اور درحقیقت وہ اس قانون کے نفاذ کے بجائے اس کے بنیادی تصور کے خلاف ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے ایوان میں آئین کے 131ویں ترمیمی بل 2026، حدبندی بل 2026 اور یونین اسٹیٹ لاء (ترمیمی) بل 2026 پر ہوئی بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے حدبندی کی مخالفت دراصل درج فہرست ذاتوں (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے لیے مخصوص نشستوں میں اضافے کی مخالفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافے کے ساتھ نمائندگی کو متوازن بنانے کے لیے حدبندی ناگزیر ہے۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ اس اہم بحث میں 56 خواتین اراکین پارلیمنٹ نے حصہ لیا اور کسی نے بھی براہ راست خواتین ریزرویشن بل کی مخالفت نہیں کی۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ انڈیا اتحاد کی جماعتیں ”اگر مگر“ اور ”کنتُو پرنتُو“ کے ذریعے اس کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔ ان کے مطابق 2029 کے لوک سبھا انتخابات خواتین ریزرویشن کے موضوع پر ہی لڑے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں 127 سے زیادہ ایسے پارلیمانی حلقے ہیں جہاں ووٹروں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جو جمہوری نمائندگی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ امت شاہ نے الزام لگایا کہ کانگریس نے تقریباً 50 سال تک ملک کو حدبندی سے محروم رکھا، جس کے باعث عوام کو مناسب نمائندگی نہیں مل سکی۔ اپوزیشن کو چیلنج دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن سنجیدہ ہے تو وہ بل کی حمایت کرے، حکومت ہر ریاست میں نشستوں میں 50 فیصد تک اضافہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اپوزیشن اس بل کی حمایت نہیں کرے گی تو ملک کی خواتین یہ دیکھ رہی ہیں کہ ان کے حقوق کی راہ میں کون رکاوٹ بن رہا ہے، اور آئندہ انتخابات میں وہ اس کا حساب ضرور لیں گی۔
امت شاہ نے قانون ساز اداروں میں خواتین کی شمولیت بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت خواتین کو مناسب نمائندگی دینے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ وہ حکومت کے ہر اقدام کی مخالفت کرتی آئی ہے، چاہے وہ عوامی مفاد میں ہی کیوں نہ ہو۔ ریزرویشن کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ بھارتی آئین مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ریزرویشن پیدائشی حق کی بنیاد پر دیا جاتا ہے اور اسے کسی بھی طریقے سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق کچھ جماعتیں خوشامد کی سیاست کے تحت مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کی بات کرتی ہیں، جو آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔
امت شاہ نے کانگریس کو او بی سی مخالف جماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے ماضی میں ذات پر مبنی مردم شماری کی مخالفت کی تھی اور اب سیاسی فائدے کے لیے خود کو او بی سی کا حامی ظاہر کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے کبھی کسی او بی سی رہنما کو وزیر اعظم نہیں بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت میں او بی سی طبقے کی بھرپور نمائندگی ہے اور 27 وزراء اسی برادری سے تعلق رکھتے ہیں، جو کابینہ کا تقریباً 40 فیصد بنتا ہے۔ مزید برآں، حکومت نے او بی سی کمیشن کو آئینی درجہ دے کر اس طبقے کو مضبوط بنانے کا کام کیا ہے۔ بحث کے اختتام پر ایوان میں حکمراں جماعت نے امت شاہ کے بیانات کی بھرپور حمایت کی، جبکہ اپوزیشن نے اپنے تحفظات برقرار رکھے۔ یہ بحث اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خواتین ریزرویشن اور حدبندی کا معاملہ آنے والے وقت میں ملکی سیاست کا ایک اہم موضوع بنا رہے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…