قومی

Col Sanjay Julka on Pakistan’s Misinformation Campaign: ہندوستانی کارروائی کے خلاف پاک کے فرضی بیانیہ پر ایوی ایشن ایکسپرٹ کرنل سنجے جولکا کاشاندار تجزیہ

ہندوستان پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی کے بیچ ہندوستانی کی فضائیہ مسلسل پاکستان کو منہ توڑ جواب دے رہی ہے۔ ہندوستان کے بیشتر ڈرون کو پاکستان روکنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوا ہے اور اس ناکامی کو چھپانے کیلئے پاکستان ایک فرضی خبروں کو پھیلانے کی مہم کا سہارا لے رہا ہے۔ پاکستان کے فوجی ترجمان کا بیان کچھ اور ہوتا ہے اور پاکستان کے وزیردفاع کا بیان کچھ اور ۔ غلط بیانیہ کے سہارے پاکستان اپنی عزت خاک میں ملوا رہا ہے۔

اس بیچ ایوی ایشن کے ماہر اور کلب ون ایئر کے سی ای او (ٹیکنیکل) کرنل (ریٹائرڈ) سنجے جولکا، جن کے پاس 38 سال کا فوجی اور ایوی ایشن کا تجربہ ہے، نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فضائیہ کی جدید ٹیکنالوجی اور حکمت عملی نے پاکستان کے دفاع کو بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت کے رافیل جیٹس اور ڈرونز کی اسٹیلتھ صلاحیتیں عالمی معیار کی ہیں، جو ایسی کارروائیوں میں کامیابی کو یقینی بناتی ہیں۔

جولکا، جو ایم ایس سی (ڈیفنس) کے حامل ہیں اور بھارت و بیرون ملک ایئر شوز، سیمینارز، اور کانفرنسز میں فعال ہیں، نے زور دیا کہ پاکستان کے متضاد دعوؤں سے اس کی دفاعی کمزوریاں عیاں ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق، بھارت کی فضائی طاقت اور آپریشنل صلاحیت اسے خطے میں ایک مضبوط پوزیشن دیتی ہے، جبکہ پاکستان کا جھوٹا بیانیہ اس کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچا رہا ہے۔

چھوٹے طیارے کارول

چھوٹے طیارے ہندوستانی علاقائی روابط اور اقتصادی ترقی کے لیے اہم ہیں۔ مثال کے طور پر، رائے گڑھ جیسے شہروں میں ہوائی خدمات کے آغاز سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملا بلکہ صنعتی ترقی اور ہنگامی خدمات میں بھی بہتری آئی۔ تاہم، بھارت میں کاروباری ہوا بازی کو اکثر محض ایک لگژری سروس کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس نے چھوٹے طیاروں کی تعداد کو محدود کر دیا ہے۔ ہندوستان کے پاس 550 چھوٹے طیارے اور ہیلی کاپٹر ہیں، جب کہ ہوائی جہازوں کی تعداد 750 ہے۔ اس کے مقابلے میں، امریکہ کے پاس باقاعدہ طیاروں، ہوائی جہازوں اور بڑے طیاروں کا تناسب بہت بہتر ہے، جو ایک مثالی ایوی ایشن اہرام کی عکاسی کرتا ہے۔
آپریشن پر مبنی ٹیکس
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ موجودہ درآمدی ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے جیسا کہ 2007 میں کیا گیا تھا اور بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں اسے اپنایا گیا ہے۔ اس کے بجائے ہوائی جہاز کے آپریشن کی بنیاد پر ٹیکس کا نیا نظام نافذ کیا جائے۔ اس نئے نظام میں ٹیکس صرف ان پروازوں پر لگایا جائے گا جو ذاتی سہولت یا لگژری کے لیے چلائی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی عوامی خدمات سے متعلق پروازوں جیسے میڈیکل ایمرجنسی، مذہبی سفر، پولیس اور فائر سروسز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ اس طرح کی تبدیلی کے نتیجے میں نہ صرف حکومت کو کوئی ریونیو نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ اس سے صنعت کو کئی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Col Sanjay Julka, CEO of Club One Air

Recent Posts

PM Modi to visit Vaishali: بہار میں این ڈی اے حکومت کا ایک سال مکمل، 21 نومبر کو وزیر اعظم مودی کا ویشالی دورہ ممکن، بڑے جشن کی تیاریاں

وزیر اعظم کے مجوزہ بہار دورے اور پروگرام کی تیاریوں کے سلسلے میں جمعرات کو…

4 minutes ago

Malayalam Actress Arrested for Luring Doctor: علاج کے بہانے ڈاکٹر کو فلیٹ پر بلا کر بے رحمی سے پیٹا، ملیالم اداکارہ سمیت 3 گرفتار

ڈاکٹر کا الزام ہے کہ فلیٹ میں اتولیا سمیت 12 افراد موجود تھے۔ جیسے ہی…

9 minutes ago

Nepal’s Prime Minister Balen Shah Praises PM Modi: نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے پی ایم مودی کی ستائش کی، بھارت کے تعاون پر ادا کیا شکریہ

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جمعرات کے روز بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے…

41 minutes ago