قومی

Explainer: کوچنگ مافیا، روزگار کا بحران اور ٹوٹتے خواب… مودی حکومت میں کہاں پہنچا بھارت کا تعلیمی نظام؟

ملک کے تقریباً ہر بڑے شہر سے لے کر چھوٹے قصبوں تک کوچنگ اداروں کا جال پھیل چکا ہے۔ سرکاری ملازمت کی تیاری کے نام پر طلبہ اور ان کے والدین سے بھاری فیس وصول کی جاتی ہے۔ کئی نوجوان برسوں تک ایک امتحان سے دوسرے امتحان کی تیاری کرتے رہتے ہیں، لیکن خالی آسامیوں کی محدود تعداد اور امتحانات میں تاخیر، منسوخی یا تنازعات ان کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیتے ہیں۔

تعلیم سے زیادہ کوچنگ پر انحصار کیوں؟

مودی حکومت نے نئی تعلیمی پالیسی اور تعلیم میں ٹیکنالوجی کے استعمال سمیت متعدد اصلاحات کا اعلان کیا، لیکن ناقدین کا سوال ہے کہ اگر اسکول اور کالج کی تعلیم ہی طلبہ کو مسابقتی امتحانات کے لیے تیار نہیں کر پا رہی تو کوچنگ صنعت پر انحصار کیوں مسلسل بڑھ رہا ہے؟ کوچنگ کا بڑھتا کاروبار صرف تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی عدم مساوات کا بھی مسئلہ ہے۔ دولت مند خاندان اپنے بچوں کو مہنگی کوچنگ، رہائش اور اضافی سہولیات فراہم کرسکتے ہیں، جبکہ غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ محدود وسائل کے ساتھ اسی دوڑ میں شامل ہونے پر مجبور ہیں۔

سرکاری نوکریوں کی دوڑ اور نوجوانوں کی مایوسی

ملک میں سرکاری ملازمت آج بھی کروڑوں نوجوانوں کے لیے محفوظ مستقبل کی علامت ہے۔ لیکن لاکھوں امیدواروں کے مقابلے میں محدود آسامیاں نوجوانوں کے لیے شدید مقابلے کا سبب بن رہی ہیں۔ امتحانات کے انعقاد میں تاخیر، پرچے لیک ہونے کے الزامات اور بھرتی کے عمل میں طویل انتظار نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ یہ سوال اب مودی حکومت سے بھی کیا جا رہا ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد نوجوانوں کے لیے مناسب روزگار کے مواقع کہاں ہیں؟ حکومت کی جانب سے اسکل ڈیولپمنٹ، اسٹارٹ اپ اور روزگار کے متعدد منصوبوں کا اعلان ضرور کیا گیا، لیکن ڈگری حاصل کرنے والے نوجوانوں کی بڑی تعداد کے لیے مستقل اور باعزت روزگار اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

حکومت کے دعوے اور زمینی حقیقت

مودی حکومت نے بھارت کو نوجوانوں کی طاقت اور دنیا کی تیسری بڑی معیشت بنانے کا ہدف پیش کیا ہے۔ لیکن اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم، سستی اعلیٰ تعلیم اور مناسب روزگار نہیں ملتا تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ ترقی کے اس ماڈل میں نوجوانوں کا مستقبل کہاں ہے؟ تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات، اساتذہ کی کمی، سرکاری اسکولوں کی صورتحال اور اعلیٰ تعلیم کے بڑھتے اخراجات بھی حکومت کے سامنے بڑے چیلنج ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ صرف نئی پالیسیوں اور بڑے اعلانات سے تعلیمی نظام تبدیل نہیں ہوگا، بلکہ اسکول سے لے کر یونیورسٹی اور تعلیم سے روزگار تک پورے نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ تعلیم کسی بھی ملک کے مستقبل کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر نوجوان برسوں تک مہنگی کوچنگ کے باوجود ایک محدود تعداد میں سرکاری ملازمتوں کے لیے جدوجہد کرتے رہیں تو یہ صرف نوجوانوں کا بحران نہیں بلکہ ملک کے تعلیمی اور روزگار کے نظام کے لیے بھی ایک بڑا سوال ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Netanyahu Invites PM Modi & Captain Smit: اسرائیل کے یوم آزادی پر پی ایم مودی اور کیپٹن اسمت مچھار کو خصوصی دعوت، نیتن یاہو نے فون پر کی بات

اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…

6 hours ago

PM Modi Public Service Exhibition: گجرات میں وزیر اعظم مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کی نمائش، وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے کیا معائنہ

پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…

6 hours ago