قومی

Independence Day 2026: کتے سے سبق اور سکندر کا پچھتاوا،  یوم آزادی پر سی ایم ڈی اپیندر رائے نے بتایا زندگی میں سادگی کی اصل اہمیت

نئی دہلی  : بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک میں منعقدہ یومِ آزادی کی تقریب کے دوران سی ایم ڈی اپیندر رائے نے یونانی فلسفی ڈایوجینیز اور سکندرِ اعظم کے تاریخی مکالمے کی مثال پیش کرتے ہوئے ادارے کے ساتھیوں کو سادگی، عاجزی اور زندگی کے حقیقی مفہوم کا سبق دیا۔ انہوں نے کہا کہ انسان کے لیے تکبر سے نجات ہی اس کا سب سے بڑا زیور ہے۔اپنے خطاب میں سی ایم ڈی اپیندر رائے نے بتایا کہ پوری دنیا فتح کرنے کا خواب دیکھنے والا سکندرِ اعظم جب موت کے بستر پر تھا تو اس نے اپنے طبیب سے کہا کہ اس کی آدھی سلطنت لے لو، لیکن اسے صرف ایک سانس کی مہلت دے دو تاکہ وہ اپنی ماں سے مل سکے۔ طبیب نے صاف جواب دیا کہ پوری سلطنت دے کر بھی ایک اضافی سانس نہیں خریدی جاسکتی۔اپیندر رائے نے کہا کہ اسی لمحے سکندر کو یونانی فلسفی ڈایوجینیز کی وہ بات یاد آئی، جس نے زندگی کی حقیقت اور دنیاوی خواہشات کی بے ثباتی کو سمجھنے کا راستہ دکھایا تھا۔

کتے سے سیکھا سادگی کا سبق

سی ایم ڈی نے ڈایوجینیز سے متعلق ایک معروف واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب سکندر ان سے ملنے پہنچا تو فلسفی دھوپ سینک رہے تھے۔ ڈایوجینیز اپنی سادہ زندگی اور دنیاوی آسائشوں سے بے نیازی کے لیے مشہور تھے۔انہوں نے بتایا کہ ایک موقع پر ڈایوجینیز نے ایک کتے کو براہِ راست دریا سے پانی پیتے دیکھا۔ اس منظر سے انہیں احساس ہوا کہ پانی پینے کے لیے کسی برتن کی بھی ضرورت نہیں۔ انہوں نے اپنا بھیک مانگنے کا پیالہ بھی پھینک دیا اور سادگی کو اپنی زندگی کا آخری استاد مان لیا۔

اپیندر رائے نے کہا کہ یہ واقعہ انسان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ زندگی کی حقیقی خوشی غیر ضروری خواہشات اور ظاہری آسائشوں میں نہیں بلکہ سادگی اور ضرورت کے مطابق زندگی گزارنے میں ہے۔

تکبر نہیں، عاجزی اصل طاقت

سی ایم ڈی نے کہا کہ ہر انسان میں خامیاں ہوتی ہیں اور اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنا ہی انسان کو بہتر بناتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جھکنا یا عاجزی اختیار کرنا کسی کمزوری کی علامت نہیں بلکہ یہ ان لوگوں کی خوبی ہے جو فکری اور اخلاقی اعتبار سے بہت مضبوط ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انسان کو اپنی کامیابیوں پر غرور کرنے کے بجائے دوسروں کے احترام اور اپنی اصلاح پر توجہ دینی چاہیے۔ تکبر انسان کو دوسروں سے دور کرتا ہے، جبکہ عاجزی اسے لوگوں کے قریب لاتی ہے۔

بات رکھنے کا بھی ایک سلیقہ ہوتا ہے

اپیندر رائے نے گفتگو کے انداز اور دوسروں کی اصلاح کے طریقے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے معروف شاعر وسیم بریلوی کا شعر پیش کرتے ہوئے کہا:

’کون سی بات کہاں کیسے کہی جاتی ہے،
کہنے کا سلیقہ ہو تو ہر بات سنی جاتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ کسی شخص کو سب کے سامنے شرمندہ یا بے عزت کرنے کے بجائے اسے احترام اور نرمی کے ساتھ اپنی غلطی کا احساس دلانا چاہیے۔ درست بات بھی اگر نامناسب انداز میں کہی جائے تو اس کا اثر کم ہوسکتا ہے، جبکہ محبت اور احترام کے ساتھ کہی گئی بات زیادہ آسانی سے دل میں اترتی ہے۔

خوف اور تکبر کو ترک کرنے کی اپیل

اپنے خطاب کے اختتام پر سی ایم ڈی اپیندر رائے نے تمام ساتھیوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اندر موجود خوف اور تکبر کو ترک کریں، دوسروں کا احترام کریں اور اپنی ذمہ داریوں کو ایمانداری کے ساتھ ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ ایک بہتر معاشرے کی تعمیر صرف بڑے عہدوں یا بڑی کامیابیوں سے نہیں ہوتی بلکہ ہر فرد کے چھوٹے مگر مثبت کردار سے ہوتی ہے۔ انسان اگر سادگی، عاجزی، احترام اور خدمت کو اپنی زندگی کا حصہ بنالے تو وہ نہ صرف خود بہتر زندگی گزار سکتا ہے بلکہ معاشرے کی تعمیر میں بھی ایک بیدار اور ذمہ دار اکائی کے طور پر اپنا مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

2 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

3 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

3 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

4 hours ago