اتوار کی رات دیر گئے مدھیہ پردیش کے مہو شہر میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہندوستان کی جیت کے جشن کے دوران تشدد پھوٹ پڑا، جس سے علاقے میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔ اس واقعے میں چار افراد زخمی ہوئے اور تین کار سمیت کئی دو پہیہ گاڑیوں اور مسلمانوں کی دوکانوں کو آگ لگا دی گئی۔البتہ اس پورے واقعے پر شہر کے قاضی محمد زبیر نے بڑا بیان دے دیا ہے۔شہر قاضی نے کہا کہ مسجد کے سامنے جلوس نکالنے کی ممانعت تھی، پھر بھی ایسا کیا گیا، مسجد کے قریب فساد ہوا اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ دوسری طرف سے شروع ہوا، دونوں طرف سے پتھراؤ ہوا، کوئی بھی بے گناہ نہیں، مسلمانوں کی دکانیں اور گاڑیاں بھی جلا دی گئیں، انتظامیہ بھی لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہی تھی، شاید انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ بھارت- نیوزی لینڈ کے درمیان مقابلے کے بعد بھی ایسی صورت حال ہو سکتی ہے،پاکستان کے خلاف میچ میں انتظامیہ کو شک تھا لیکن فائنل نیوزی لینڈ کے خلاف تھا اس لئے انتطامیہ بھی اس کو بہت زیادہ سنجیدگی سے نہیں لے رہی تھی۔ قاضی شہر نے کہا کہ تراویح کی نماز مکمل کرکے زیادہ تر لوگ نکل چکے تھے، آخری بیچ نکل رہا تھا،اسی دوران دوسری طرف سے کسی پٹاخہ بم مسجد کے اندر پھینک دیا جس کی وجہ سے حالات کشیدہ ہونے لگے،ہم نے بات چیت کے ذریعے حالات پرامن کرنے کی کوشش کرنے کیلئے میٹنگ شروع تب تک حالات زیادہ خراب ہوگئے۔لیکن میری اپیل ہے کہ امن بحال کیا جائے اور مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
واضح رہے کہ پولیس نے تشدد کے سلسلے میں اب تک 13 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اندور کے کلکٹر آشیش سنگھ نے کہا کہ حالات اب قابو میں ہیں۔ پولیس نے تال محلہ، سیوا مارگ، پٹی بازار، مانیک چوک اور جامع مسجد کے علاقوں میں پیش آنے والے پانچ واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔کلکٹر نے کہاکہ تشدد کی اطلاع ملنے پر، پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور امن بحال کیا۔ کچھ ملزمان کے خلاف قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ لوگوں کے بیانات اور ویڈیوز کی بنیاد پر مزید ایف آئی آر درج کی جائیں گی۔مہو پولیس اسٹیشن کے سربراہ راہل شرما نے بتایا کہ جلوس کے دوران پٹاخے پھوڑنے اور نعرے بازی پر جھگڑا شروع ہوا جو پتھراؤ اور آتش زنی میں بدل گیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور موبائل ویڈیوز کی جانچ کی جا رہی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق جلوس جب جامع مسجد کے قریب پہنچا تو وہاں پتھراؤ شروع ہو گیا جس کے بعد حالات قابو سے باہر ہو گئے۔
فی الحال کلکٹر نے افواہیں نہ پھیلانے کی اپیل کی ہےاور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا یقین دلایا۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس نمیش اگروال نے کہا کہ تحقیقات سے پتہ چلے گا کہ اس کے لیے کون ذمہ دار ہے۔ اس وقت علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
کمپنی نے کہا کہ ڈیٹا سینٹرز کے لیے جامع رسک پلاننگ انتہائی اہم ہوگی، جس…
بھارت کی وزارتِ خارجہ (MEA) نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے حملے کی سخت مذمت…
وزارت خارجہ نے کہا کہ خطے میں جہازوں پر حملوں کے مسلسل واقعات بھارت کے…
پی ایم او نے ’ایکس‘ پر لکھا، ’بھارت سے آبی حکمرانی کا ایک ایسا ماڈل…
مظفر نگر کے طالب کو میرٹھ کی ذاکر کالونی میں قتل کیا گیا، بیوی علمہ…
ہرمن پریت نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ کے ذریعے تمام…