قومی

سی جے پی احتجاج کے دوران وزیراعظم مودی کے خلاف نازیبا الفاظ کے استعمال پرپولیس کی کارروائی، ایف آئی آر درج کرکے مانگی گئی تفصیل

نئی دہلی: دہلی کے جنترمنترپرطلبا احتجاج کے دوران وزیراعظم نریندرمودی کے خلاف مبینہ طورپرنازیبا زبان کے استعمال کے معاملے میں دہلی پولیس نے کارروائی کی ہے۔ پولیس نے وزیراعظم کے خلاف مبینہ توہین آمیزالفاظ کے استعمال اوران ویڈیوزکوسوشل میڈیا پرپھیلانے کے معاملے میں ایف آئی آردرج کی ہے۔ پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 351 (3)، 353 (2) اور356 (2) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس اورانسٹاگرام سے متعلق ویڈیوزہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں، جہاں سے یہ ویڈیوزشیئرکی گئیں اوریہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ ویڈیوزکہاں سے حاصل کی گئیں۔

پولیس نے ایف آئی آردرج کرنے کے بعد کچھ نیوزپورٹلزاورمختلف ایکس ہینڈلزکونوٹس جاری کرکے معلومات طلب کی ہیں۔ پولیس کے مطابق، یہ کارروائی ان شکایات کے بعد کی گئی، جن میں الزام لگایا گیا تھا کہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج کے دوران وزیراعظم نریندرمودی کے خلاف مبینہ طورپرتوہین آمیزاورنازیبا زبان استعمال کی گئی اوراس سے متعلق ویڈیوزسوشل میڈیا پراپ لوڈ کی گئیں۔

دہلی پولیس نے کیا کہا؟

دہلی پولیس کے افسران نے بتایا کہ پولیس کی سوشل میڈیا مانیٹرنگ ٹیم مسلسل آن لائن پلیٹ فارمزپرقابل اعتراض مواد کی نگرانی کررہی ہے۔ جب بھی ایسے مواد کی نشاندہی ہوتی ہے تومتعلقہ سوشل میڈیا کمپنیوں کونوٹس جاری کر کے اسے ہٹانے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ پولیس کے مطابق، ایسے نوٹس کے بعد وزیراعظم کے خلاف مبینہ نازیبا زبان والے کئی پوسٹس اورویڈیوزپہلے ہی ہٹائے جا چکے ہیں۔ افسران نے کہا کہ نگرانی کا عمل مسلسل جاری ہے اور سائبراورسوشل میڈیا ٹیمیں احتجاج سے متعلق آن لائن سرگرمیوں پرنظررکھ رہی ہیں تاکہ ایسے مزید مواد کی نشاندہی کی جا سکے جوقوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوں۔

میٹا افسرکوطلب کیا گیا

اس سے قبل، وزیراعظم نریندرمودی کی 23 جولائی کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کچھ وقت کے لئے ہٹائے جانے کے معاملے پربھی حکومت نے سخت موقف اختیارکیا تھا۔ بعد میں میٹا نے اسے تکنیکی غلطی قراردیتے ہوئے معذرت کی تھی۔ تاہم حکومت نے میٹا کی وضاحت کوناکافی قراردیتے ہوئے کمپنی سے مزید تفصیلی معلومات طلب کیں اوراس سلسلے میں میٹا کے ایک افسرکوطلب کیا گیا۔ اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے سکریٹری ایس کرشنن نے کہا کہ میٹا نے وزیراعظم مودی کی پوسٹ ہٹانے کے معاملے میں اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگی ہے، لیکن حکومت کمپنی کی وضاحت سے مطمئن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ معافی مانگنا اچھی بات ہے، لیکن معاملے کی مکمل وضاحت ضروری ہے۔ حکومت اس معاملے میں مزید معلومات چاہتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Netanyahu Invites PM Modi & Captain Smit: اسرائیل کے یوم آزادی پر پی ایم مودی اور کیپٹن اسمت مچھار کو خصوصی دعوت، نیتن یاہو نے فون پر کی بات

اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…

4 hours ago

PM Modi Public Service Exhibition: گجرات میں وزیر اعظم مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کی نمائش، وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے کیا معائنہ

پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…

4 hours ago