نئی دہلی : روس کی فیڈرل سکیورٹی سروس (ایف ایس بی) نے میسجنگ پلیٹ فارم ٹیلیگرام کے بانی پاویل دوروف پر دہشت گردانہ سرگرمیوں کو فروغ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف بین الاقوامی گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ ٹیلیگرام نے ایسے مواد کو ہٹانے میں ناکامی دکھائی، جسے مبینہ طور پر روس کے اندر تخریب کاری، دہشت گردی اور سائبر فراڈ کی منصوبہ بندی اور رابطہ کاری کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ایف ایس بی کے مطابق، پاویل دوروف کے خلاف کارروائی اس بنیاد پر کی گئی ہے کہ ٹیلیگرام نے ایسے اکاؤنٹس اور مواد کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی، جنہیں روسی حکام کے مطابق یوکرین کی خصوصی ایجنسیاں اور بعض دہشت گرد و شدت پسند تنظیمیں روس کے اندر تخریب کاری، دہشت گرد حملوں، اجتماعی قتل اور سائبر جرائم کے لیے استعمال کر رہی تھیں۔
روسی سکیورٹی ادارے نے بتایا کہ دوروف کے خلاف بین الاقوامی گرفتاری وارنٹ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ تاہم، اس معاملے پر اب تک نہ تو پاویل دوروف اور نہ ہی ٹیلیگرام کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے۔سال 2013 میں پاویل دوروف کی جانب سے قائم کیا گیا ٹیلیگرام آج دنیا کے سب سے بڑے میسجنگ پلیٹ فارمز میں شمار ہوتا ہے، جس کے دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد فعال صارفین موجود ہیں۔ روس۔یوکرین جنگ کے دوران اطلاعات کے تبادلے میں ٹیلیگرام نے اہم کردار ادا کیا اور اسے دونوں ممالک کے شہریوں اور مختلف اداروں نے بڑے پیمانے پر استعمال کیا۔رپورٹس کے مطابق روس کی یہ کارروائی ٹیلیگرام پر سرکاری کنٹرول بڑھانے کی تازہ کوشش سمجھی جا رہی ہے۔ روسی حکومت طویل عرصے سے اس پلیٹ فارم کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کے متبادل کے طور پر حکومت کی حمایت یافتہ “میکس” (Max) میسجنگ سروس کو فروغ دے رہی ہے۔
روس میں پیدا ہونے والے پاویل دوروف بعد میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور فرانس کی شہریت حاصل کر چکے ہیں۔ ٹیلیگرام کے قیام سے قبل انہوں نے روس کی مقبول سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ وی کونٹاکٹے (VKontakte) کی بنیاد رکھی تھی، تاہم روسی حکام کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد انہوں نے 2014 میں کمپنی میں اپنی باقی ماندہ حصص فروخت کر دیے تھے۔
روس میں درج ہونے والا یہ مقدمہ پاویل دوروف کے لیے قانونی مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ اس وقت فرانس میں بھی ان کے خلاف الگ تحقیقات جاری ہیں۔ فرانسیسی حکام کا الزام ہے کہ ٹیلیگرام نے اپنے پلیٹ فارم پر مجرمانہ سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مطلوبہ سطح پر تعاون بھی نہیں کیا۔دوسری جانب پاویل دوروف ان تمام الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں اور ان کا مؤقف رہا ہے کہ ٹیلیگرام یوزر کی رازداری اور آزادیِ اظہار کے اصولوں پر کاربند ہے اور وہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی حمایت نہیں کرتا۔
بھارت ایکسپریس اردو
پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب بڑھ رہے اپوزیشن کے مارچ کو…
نوبیل انعام کے فاتحین کو دسمبر میں سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں اعزاز سے…
انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے منگل کو صبح 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن…
اداکارہ نے فلم کے ہدایت کار ابھشیک پاٹھک کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا،…
طیارہ بینن سے لاگوس کے لیے معمول کے مشن پر روانہ ہوا تھا، اسی دوران…
انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کے مکر دوار سے مارچ شروع کیا تھا۔…