قومی

CJI BR Gavai’s historic address to the Oxford Union: چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس بی آر گوئی کا آکسفورڈ یونین سے تاریخی خطاب ’’آئینی نمائندگی سے حقیقت تک کا سفر‘‘، ہندوستانی آئین کو کہا ’’خاموش انقلاب‘‘

لندن (10 جون 2025): چیف جسٹس آف انڈیا، جسٹس بی آر گوئی نے آج آکسفورڈ یونین میں ایک بصیرت افروز خطاب میں ہندوستانی آئین کو ایک ’’خاموش انقلاب‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ سماجی انصاف کا جیتا جاگتا جذبہ ہے، جو معاشرے کے کمزور ترین طبقات کے لیے امید، وقار اور مساوات کا استعارہ بن چکا ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا کے خطاب کا عنوان “From Representation to Realization: Embodying the Constitution’s Promise” (نمائندگی سے حقیقت تک: آئین کے وعدے کی مجسم تعبیر) تھا۔ اپنے اس خطاب کے دوران انھوں نے اپنی ذاتی زندگی، دلت پس منظر اور ہندوستان کی آئینی ترقی کو مربوط انداز میں پیش کیا۔ جسٹس گوئی نے کہا کہ ’’ایک وقت جو لوگ ’اچھوت‘ کہلاتے تھے، آج انھی میں سے ایک شخص ہندوستانی عدلیہ کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہو کر یہاں بول رہا ہے۔ یہ ہمارے آئین کا کمال ہے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ہندوستانی آئین نے محض قانون یا حکمرانی کا نظام نہیں دیا، بلکہ ایک ایسا اخلاقی منشور پیش کیا جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہر فرد، خاص طور پر دبے کچلے طبقات، نہ صرف قابل احترام ہیں بلکہ انصاف، نمائندگی اور ترقی کے برابر حق دار بھی ہیں۔

ڈاکٹر امبیڈکر کا وژن اور آئینی نمائندگی کی روح

چیف جسٹس نے آئین سازی میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے تاریخی کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ڈاکٹر امبیڈکر کے نزدیک جمہوریت کی بقا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ طاقت صرف اداروں میں ہی نہیں بلکہ سماجی طبقات میں بھی مساوی طور پر تقسیم نہ ہو۔ انھوں نے یاد دلایا کہ کس طرح ہندوستان کی آئین ساز اسمبلی میں دلت، آدیواسی، خواتین، اقلیتیں اور معذور افراد صرف زیر بحث موضوعات نہیں بلکہ آئین سازی کے عمل کے فعال شرکاء تھے۔ انھوں نے کہا ’’آئینی سازی میں شامل ہونا درحقیقت قومی مستقبل کی تعمیر میں شامل ہونا تھا۔‘‘

عدلیہ کے فیصلے اور توسیعی نمائندگی

جسٹس گوئی نے عدلیہ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح سپریم کورٹ نے تاریخی طور پر نمائندگی کے اصول کو وسعت دی ہے۔ انھوں نے مثال کے طور پر بتایا کہ NALSA بمقابلہ یونین آف انڈیا (2014) میں خواجہ سرا افراد کو شناخت دی گئی، ببیتا پونیا کیس (2020) میں خواتین کو مستقل کمیشن دینے کا حکم دیا گیا اور 2024 اور 2025 کے حالیہ فیصلوں میں معذور افراد کے لیے ’معقول سہولت کاری‘ پر زور دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’نمائندگی کا مطلب صرف موجودگی نہیں، بلکہ مؤثر شرکت ہے۔‘‘

نئی آئینی پیش رفت اور مستقبل کا راستہ

اپنے اس خطاب میں چیف جسٹس بی آر گوئی نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ گزشتہ سال پارلیمنٹ نے خواتین کے لیے سیاسی نشستوں میں کوٹہ مختص کرنے کا آئینی ترمیمی بل منظور کی اور سپریم کورٹ نے درج فہرست ذاتوں کے اندر ذیلی تقسیم کی بھی توثیق کی تاکہ انتہائی پسماندہ طبقات کو ان کا حق بخوبی مل سکے۔ تقریر کا اختتام ایک معنی خیز جملے پر کرتے ہوئے انھوں نے گائتری سپیواک کی مشہور تحریر کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا ہے ’’Subaltern بول سکتے ہیں—اور وہ ہمیشہ سے بول رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ وہ بولتے ہیں یا نہیں، سوال یہ ہے: کیا سماج سننے کے لیے تیار ہے؟‘‘

بھارت ایکسپریس اردو

Ghulam Mohammad

Recent Posts

Chief Minister’s Breakfast Scheme: تمل ناڈو کے اسکولوں میں اب طلبہ کو ملے گا ناشتہ، وزیراعلیٰ وجے نے بھی بچوں کے ساتھ کھایا، ویڈیو وائرل

تمل ناڈو حکومت نے پیروُنتھلایور کامراج ناشتہ اسکیم کے بہتر نفاذ کے لیے حکام کو…

2 hours ago