چین نے ایک غیر جوہری ہائیڈروجن بم کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جو دنیا بھر میں فوجی ماہرین اور دفاعی تجزیہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ اس ہتھیار کے تجربے کی خبر نے بھارت کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات اور فوجی مقابلہ آرائی طویل عرصے سے جاری ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ غیر جوہری ہائیڈروجن بم کیا ہے؟ دراصل یہ ہتھیار روایتی جوہری ہائیڈروجن بم سے مختلف ہے، کیونکہ اس میں جوہری مواد جیسے یورینیم یا پلوٹونیم کا استعمال نہیں ہوتا۔ اس کے بجائے، یہ جدید کیمیائی اور تھرموڈائنامک عمل کے ذریعے شدید توانائی پیدا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس بم سے پیدا ہونے والی آگ کا گولہ 1,000 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت تک جا سکتا ہے اور یہ روایتی دھماکہ خیز مواد (جیسے ٹی این ٹی) سے 15 گنا زیادہ وقت تک جلتا ہے، جو اسے انتہائی تباہ کن بناتا ہے۔
چین کا دعویٰ اور تیاری
چین کی سرکاری کمپنی “چائنا شپ بلڈنگ انڈسٹری کارپوریشن” نے اس ہتھیار کو تیار کیا ہے۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار جدید فوجی ٹیکنالوجی میں ایک بڑی کامیابی ہے اور اس کا مقصد ملکی دفاع کو مضبوط کرنا ہے۔ چونکہ یہ غیر جوہری ہے، اس لیے اس پر بین الاقوامی جوہری ہتھیاروں کے معاہدوں کی پابندیاں نافذ نہیں ہوتیں، جس سے چین کو اسے تیار کرنے اور استعمال کرنے میں زیادہ آزادی ملتی ہے۔
بھارت کے لیے ممکنہ خطرہ
بھارت اور چین کے درمیان لداخ اور دیگر سرحدی علاقوں میں کشیدگی کو دیکھتے ہوئے، اس ہتھیار کا تجربہ بھارت کے لیے تشویشناک ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی تباہ کن صلاحیت اور رینج بھارتی فوجی تنصیبات اور سرحدی ڈھانچے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ خاص طور پر، اگر اسے جنگی حالات میں استعمال کیا گیا تو یہ بھارت کے دفاعی نظام پر بھاری دباؤ ڈال سکتا ہے۔ بھارتی فوج اور وزارت دفاع نے ابھی تک اس پر سرکاری بیان جاری نہیں کیا، لیکن ذرائع کے مطابق، اس پیش رفت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔اس تجربے کے بعد عالمی برادری کی طرف سے مخلوط ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ ممالک نے اسے خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے والی پیش رفت قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا۔ امریکہ، روس اور دیگر بڑی طاقتوں کے تجزیہ کار اس ہتھیار کی تکنیکی صلاحیتوں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس کے ممکنہ اثرات کا اندازہ لگایا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس۔
وزیر اعظم مودی نے اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کی 138ویں…
پپو یادو نے کہا کہ سیلاب جیسی سنگین صورتحال میں انتظامیہ کی ذمہ داری ہے…
اکھلیش نے کہا کہ فارم-7 کے ذریعے گاؤں گاؤں اپوزیشن ووٹروں کے نام حذف کرانے…
وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے موقع پر جاری بھارتیہ جنتا پارٹی کے ’سیوا…
زیرِ تعمیر سڑک کے معائنے کے دوران وزیر پرویش ورما اور آپ رکنِ اسمبلی جرنیل…
نیپال میں 24 ستمبر سے ملک کے کئی حصوں میں مسلسل بارش ہو رہی ہے،…