قومی

Nitish Kumar reached the house of martyred BSF jawan Muhammad Imtiaz: وزیراعلیٰ نتیش کمار بی ایس ایف کے شہید جوان محمد امتیاز کے گھر پہنچے، اہل خانہ کو 50 لاکھ روپے کا چیک سونپا

ملک کے لیے شہید ہوئے بی ایس ایف کے جوان محمد امتیاز کے اہل خانہ کو غم کی اس گھڑی میں بہار کی نتیش حکومت نے  50 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا تھا۔ آپریشن سندور کے دوران بی ایس ایف کے سب انسپکٹر محمد امتیاز شہید ہو گئے تھے۔ وہ چھپرہ کے گرکھا تھانہ حلقہ کے نارائن پور گاؤں کے رہنے والے تھے۔ محمد امتیاز کے اہل خانہ کو وزیر اعلیٰ راحت فنڈ سے 29 لاکھ روپے جبکہ ریاستی حکومت کی طرف سے 21 لاکھ روپے دئیے جانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار آج شہید محمد امتیاز کے اہل خانہ سے ملاقات کرنے ان کے گاؤں پہنچے جہاں انہوں نے غمزدہ کنبہ کو تسلی دی۔ وزیراعلیٰ کے ساتھ بہار کے نائب وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری اور وزیر زماں خان بھی موجود تھے۔ زماں خان نے 50 لاکھ کا چیک کنبہ کو سونپا۔ کنبے کی جانب سے کی گئی اپیل کو وزیراعلیٰ نے قبول کرلیا۔ شہید محمد امتیاز کے نام پر ایک اسمارک اور سڑک کو ان کے نام سے منسوب کیے جانے کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔

شہید جوان کا جسد خاکی کل پٹنہ آیا تھا۔ اسٹیٹ ہینگر میں شہید جوان محمد امتیاز کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر حزب مخالف کے رہنما تیجسوی یادو، راجیہ سبھا میں ایم پی سنجے یادو، بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ جیسوال سمیت تمام رہنما پٹنہ ہوائی اڈے پر پہنچے تھے۔ سب نے شہید جوان کو خراج عقیدت پیش کیا۔ یہاں سے جسد خاکی کو گاؤں لے جایا گیا۔ پیر کو ہی شہید جوان کو سپرد خاک کیا گیا۔ اس دوران پورے گاؤں میں غم کا ماحول تھا۔ ہر کوئی محمد امتیاز پر فخر کر رہا تھا۔

واضح رہے کہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سرحد پر پاکستانی فوج کی گولی باری میں بی ایس ایف کے سب انسپکٹر محمد امتیاز شدید طور سے زخمی ہو گئے تھے۔ علاج کے دوران انہوں نے دم توڑ دیا۔ محمد امتیاز نے ملک کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی قربانی دے دی۔ ان کی شہادت کی خبر پہنچتے ہی پورے گاؤں میں ماتم جیسا ماحول ہو گیا۔ شہید امتیاز کے جسد خاکی کو پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی گاؤں لایا گیا۔ جب ان کا جسد خاکی ترنگے میں لپٹا ہوا گاؤں پہنچا تو انہیں دیکھنے کے لیے ہزاروں لوگوں کا ہجوم امڈ پڑا۔ اس دوران سبھی کی آنکھیں نم تھیں۔

شہید امتیاز کی اہلیہ نے بتایا کہ کیسے 20 اپریل کو وہ چھٹی گزار کر ڈیوٹی پر گئے تھے اور پھر واپس نہیں آئے۔ جب ان کا فون بند ملا اور کوئی جواب نہیں آیا تو دل میں خدشہ پیدا ہونے لگا۔ اور جب حقیقت سامنے آئی تو پوری دنیا اجڑ گئی۔ شہید کی اہلیہ نے ریاستی حکومت سے اپیل کی ہے کہ ان کے شوہر کے نام سے ایک اسپتال بنایا جائے، جہاں غریبوں کا مفت علاج ہو سکے۔ یہ ان کے شوہر کی شہادت کو ایک سماجی خدمتگار کی شکل دے گا اور ان کی یادیں ہمیشہ بنی رہیں گی۔ ان کے دو بیٹے ہیں جن کا مستقبل اب حکومت کی مدد پر منحصر ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Adani Ahmedabad Marathon: اڈانی احمد آباد میراتھن کے 10ویں ایڈیشن کی آفیشل جرسی جاری

اڈانی احمد آباد مریاتھن کے 10ویں ایڈیشن کی آفشل جرسی جاری کر دی گئی۔ احمد…

1 hour ago

Saint Trilochan Darshan Das: روحانیت اور یوگا کا تاریخی سنگم، ہریدوار میں سنت تریلوچن درشن داس اور سوامی رام دیو کی جذباتی ملاقات

پتنجلی یوگ پیٹھ پہنچنے پر سوامی رام دیو جی نے انتہائی احترام اور سادگی کے…

2 hours ago

SP Workers Protest in Delhi: اعظم خان کی حمایت میں دہلی میں ایس پی کارکنوں کا احتجاج، کہا- ’سازش کے تحت درج ہوئے 350 مقدمات

احتجاج کے دوران سماج وادی پارٹی کے لیڈران پی ایم کے نام ایک میمورنڈم بھی…

2 hours ago