قومی

Chief Justice BR Gavai in Nalasar Convocation: چیف جسٹس بی آر گوئی کا نالسار یونیورسٹی کی تقسیم اسناد تقریب میں بصیرت افروز خطاب، کہا- قانون صرف پیشہ نہیں، عوامی خدمت ہے

 حیدرآباد: نالسار یونیورسٹی آف لاء کے 22 ویں کانووکیشن کے موقع پر چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوئی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور نئی نسل کے وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانون کا شعبہ محض پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس عوامی خدمت ہے۔ اُن کا یہ خطاب نہ صرف قانونی میدان میں اترنے والے نوجوانوں کے لیے رہنمائی سے بھرپور تھا بلکہ زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بھی گہری بصیرت فراہم کرتا ہے۔

وکالت آسان نہیں، لیکن باعث فخر ضرور ہے

چیف جسٹس گوئی نے کہا کہ وکالت کا راستہ ہمیشہ ہموار نہیں ہوتا۔ یہ پیشہ صبر، مستقل مزاجی اور اپنے اوپر اعتماد کا تقاضا کرتا ہے۔ آپ کو بار بار خود کو عدالت، مؤکل اور برادری کے سامنے ثابت کرنا پڑے گا۔ انہوں نے نوجوان وکلاء کو مشورہ دیا کہ ابتدائی جدوجہد سے نہ گھبرائیں، اور خود کو تنہا محسوس کرنے کی صورت میں اپنے آس پاس برادری بنائیں، مشورہ لیں اور ذہنی صحت کا خاص خیال رکھیں۔

تعلیم کی بنیاد مضبوط رکھیں

چیف جسٹس نے زور دیا کہ نوجوان صرف نئے رجحانات جیسے AI اور ڈیجیٹل قوانین پر نہ بھاگیں، بلکہ آئینی، فوجداری، دیوانی اور ضابطہ قوانین پر اپنی گرفت مضبوط کریں۔

قانونی نظام میں اصلاح کی ضرورت

انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ملک کے عدالتی نظام کو کئی سنگین چیلنجز درپیش ہیں، جن میں برسوں سے زیر سماعت مقدمات اور غلط طور پر قید افراد شامل ہیں۔ یہ نظام اپنی اصلاح صرف اسی وقت کر سکتا ہے جب ہم جیسے لوگ اس میں ایمانداری، ہمدردی اور جذبۂ خدمت لے کر آئیں۔

بیرون ملک تعلیم پر حقیقت پسندانہ نظریہ اپنائیں

چیف جسٹس نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ اگر وہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بغیر اسکالرشپ کے بڑی رقم کا قرض لینا دانشمندی نہیں۔ صرف فیشن یا دباؤ میں آ کر ماسٹرز کا فیصلہ نہ کریں، بلکہ اس کے فوائد، اخراجات اور واپسی پر مواقع کو اچھی طرح جانچ لیں۔

زندگی کے پانچ ستون بیان کیے

آخر میں انہوں نے طلبہ کو ایک بہتر زندگی کے لیے پانچ اہم اصولوں پر عمل کرنے کی ترغیب دی:

خاندانی و دوستی کے رشتے قائم رکھنا

کتابوں سے جڑے رہنا

صحت کا خیال رکھنا

تخیل کی پرورش کرنا

اپنی فطرت کے مطابق زندگی گزارنا

انہوں نے کہا کہ کبھی کبھی زندگی میں کچھ نہ کرنا بھی کافی ہوتا ہے۔ ہر وقت خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ چیف جسٹس گوائی کا یہ خطاب نالسار جیسے اعلیٰ ادارے کے لیے ایک یادگار موقع بن گیا، جس نے نہ صرف قانون کے طالبعلموں کو بلکہ اساتذہ اور حاضرین کو بھی گہرے فکری نقش دیے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Adani Foundation Story: مشرقی اترپردیش میں سماجی تبدیلی کی نئی عبارت لکھ رہا ہے اڈانی فاؤنڈیشن

ملک بھر میں اڈانی فاؤنڈیشن 19 سے زائد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں…

55 minutes ago

The Signature Award 2026: نودیپ سنگھ کو سپلائر ڈیولپمنٹ میں نمایاں خدمات کے لیے ’دی سگنیچر ایوارڈ 2026‘ سے نوازا گیا

نودیپ سنگھ نے اپنے ہاسپیٹیلٹی کیریئر کا آغاز ہندوستان سے کیا۔ امرتسر سے لندن تک…

3 hours ago