نئی دہلی: مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے جمعرات کو راجیہ سبھا میں بجٹ 2026-27 کا دفاع کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ مرکز کے فنڈز کوئی مفت کی رقم کا ذخیرہ نہیں ہیں بلکہ یہ ہر ہندوستانی شہری کی محنت کی کمائی ہیں، جنہیں محض سیاسی دباؤ یا مصنوعی ڈیڈ لائن پوری کرنے کے لیے ضائع نہیں کیا جا سکتا۔ اپوزیشن ارکان کی جانب سے مختلف ریاستوں کو فنڈ جاری کرنے پر اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت عوامی رقم کو بے دریغ خرچ کرنے سے انکار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا: ’’مرکز کے فنڈز کوئی مفت کی رقم نہیں ہیں، بلکہ یہ ہر شہری کی محنت کی کمائی ہیں۔ ہم کسی مصنوعی ڈیڈ لائن یا سیاسی مطالبے کو پورا کرنے کے لیے عوامی پیسے کو ضائع نہیں کریں گے۔ ایک نہایت شفاف طریقہ کار موجود ہے اور ہم اسی کے مطابق کام کرتے ہیں۔‘‘ درمیانی طبقے کے حوالے سے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے نرملا سیتارمن نے کہا کہ درمیانی طبقہ دباؤ کا شکار نہیں بلکہ مسلسل پھیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’بجٹ ماضی کو فراموش نہیں کرتا، بلکہ نازک حالات اور دوہرے ہندسی افراطِ زر کے دنوں کو یاد رکھتا ہے۔ معیشت صرف اشرافیہ کے لیے نہیں ہے، بلکہ درمیانی طبقے کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔‘‘
ٹیکس دہندگان کی تعداد میں تاریخی اضافہ
انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2013-14 میں انکم ٹیکس دہندگان کی تعداد 5.26 کروڑ تھی جو 2024-25 میں بڑھ کر 12.13 کروڑ ہو گئی۔ اس طرح گزشتہ 11 برسوں میں ٹیکس دہندگان کی تعداد دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے اور سالانہ اوسط شرح نمو 7.9 فیصد رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ ملک میں درمیانی طبقے کی سب سے بڑی ساختی توسیع کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ بجٹ 2026 میں 16 نئے منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ 4 موجودہ اسکیموں کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں اور ارکانِ پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ اپنی اپنی ریاستی حکومتوں کو ان اسکیموں میں سرگرم شرکت کے لیے آمادہ کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکے۔
افراط زر تاریخی کم ترین سطح پر
مہنگائی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے نرملا سیتارمن نے کہا کہ افراطِ زر اس وقت تاریخی کم ترین سطح پر ہے جبکہ اقتصادی ترقی کی رفتار برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں اور استحکام کے باعث مہنگائی کو قابو میں رکھا گیا ہے اور ملک میں اس وقت کوئی افراطِ زر کا بحران نہیں ہے۔ پارلیمنٹ میں بے روزگاری سے متعلق سوالات پر وزیر خزانہ نے کہا کہ 2017-18 میں بے روزگاری کی شرح 5.6 فیصد تھی جو 2023-24 میں گھٹ کر 3.2 فیصد رہ گئی۔ ان کے مطابق ملک کی لیبر مارکیٹ اس وقت ساختی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز (MSMEs) کے لیے ’’چیمپئن ایم ایس ایم ایز‘‘ تیار کر رہی ہے تاکہ درمیانی درجے کی صنعتوں کو مزید وسعت دی جا سکے، جبکہ چھوٹی، مائیکرو اور نینو صنعتوں کی ترقی کو بھی بھرپور تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے…
پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…
گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…
دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…
کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں…
حکام کے مطابق، سڑکوں کے کئی حصے اب بھی متاثر ہیں، جس کی وجہ سے…