مرکز کی جانب سے گزشتہ چار برسوں میں 10,000 کسان پروڈیوسر آرگنائزیشنز (FPOs) کے قیام کی مہم اب رنگ لاتی دکھائی دے رہی ہے۔ یونین زراعتی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک 1,100 ایف پی اوز نے ایک کروڑ روپے سے زیادہ کا کاروبار درج کیا ہے، جو مجموعی ایف پی اوز کا تقریباً 11 فیصد ہے۔ ان میں سے 340 ایف پی اوز ایسے ہیں جن کا کاروبار 10 کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔
’’فنانشل ایکسپریس‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ان ایف پی اوز کی کامیابی میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا کلیدی کردار رہا ہے، جن میں ’’اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس‘‘ (ONDC)، ’’الیکٹرانک نیشنل ایگریکلچر مارکیٹ‘‘ (e-NAM) اور ’’گورنمنٹ ای-مارکیٹ پلیس‘‘ (GeM) شامل ہیں۔ رپورٹ میں ایک سرکاری اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حکومت ان اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے ایف پی اوز کو انعام دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے تاکہ دیگر تنظیمیں بھی ترغیب حاصل کریں اور اپنے کاروباری امکانات کو بڑھا سکیں۔
10,000 ایف پی اوز کے قیام و فروغ کے لیے مرکزی اسکیم کا آغاز وزیر اعظم نریندر مودی نے 29 فروری 2020 کو کیا تھا۔ اس اسکیم کے لیے مالی سال 2027-28 تک 6,865 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ ہر نئے قائم ہونے والے ایف پی او کو پانچ سالہ رہنمائی اور تین سال کے لیے 18 لاکھ روپے کی مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے انتظامی اخراجات سنبھال سکیں۔ حال ہی میں بہار کے بھاگلپور میں پی ایم-کسان کی 19ویں قسط کی تقریب کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے 10,000ویں ایف پی او کا باضابطہ آغاز کیا۔ یہ ایف پی او بہار کے ضلع کھگڑیا میں رجسٹر ہوا ہے اور مکئی، کیلا اور دھان کی پیداوار پر مرکوز ہے۔
ایف پی او کیا ہے؟
کسان پروڈیوسر آرگنائزیشن (FPO) ایک ایسا ادارہ ہے جو کسانوں پر مشتمل ہوتا ہے اور اسے کمپنیز ایکٹ کے تحت یا متعلقہ ریاستوں کے کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹر کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد کسانوں کو اجتماعی طور پر پیداوار اور مارکیٹنگ میں اقتصادی فائدہ فراہم کرنا ہوتا ہے۔ ایف پی اوز کے قیام کی حمایت کے لیے ’’اسمال فارمرز ایگریکلچرل بزنس کنسورشیم‘‘ (SFAC) کو مرکزی وزارت زراعت کے تحت ریاستی حکومتوں کے ساتھ تعاون کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے تمام ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کو بیک وقت تحریری…
انتخابی کمیشن کے اندر فیصلوں سے متعلق اختلافات کی رپورٹ کے بعد دونوں الیکشن کمشنر…
ملک کے کئی حصوں میں بارش اور تیز ہواؤں نے لوگوں کی مشکلات بڑھا دی…
اپوزیشن کی جانب سے نئے نوٹس کا مسودہ تیار، قانونی ماہرین سے کرائی جا رہی…
اپوزیشن نے مارچ میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں گیانیش کمار کو عہدے سے…
پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ شہریوں کے لیے…