قومی

Two Resolutions, One Stand: ’’ایف سی آر اے بل اور نیٹ کے خلاف دو قراردادیں، ایک موقف‘‘ مرکزی حکومت کو تمل ناڈو سے دوہرے جھٹکے کا سامنا

چنئی: تمل ناڈو قانون ساز اسمبلی نے منگل کو مرکز کو دو واضح سیاسی پیغامات دیتے ہوئے مجوزہ فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ترمیمی بل 2026 اور ریاست میں میڈیکل داخلوں کے لیے قومی اہلیتی و داخلہ امتحان (نیٹ) کے خلاف متفقہ قراردادیں منظور کرلیں۔ دونوں قراردادوں پر حکمراں جماعت کے ساتھ اپوزیشن جماعتوں نے بھی تمل ناڈو کے مفادات، ریاستی حقوق، سماجی انصاف اور تعلیم تک مساوی رسائی جیسے معاملات پر اتفاق کیا۔ ایف سی آر اے سے متعلق قرارداد میں مرکزی حکومت سے موجودہ شکل میں مجوزہ قانون واپس لینے اور ریاستی حکومتوں سمیت تمام متعلقہ فریقوں سے وسیع مشاورت کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ نیٹ سے متعلق قرارداد میں تمل ناڈو میں انڈرگریجویٹ میڈیکل داخلوں کے لیے مشترکہ داخلہ امتحان ختم کرنے کی خاطر متعلقہ مرکزی قوانین میں ترمیم کا مطالبہ کیا گیا۔

تعلیمی اور فلاحی اداروں پر اثرات کا خدشہ

تمل ناڈو کے وزیر راجمومن نے ایف سی آر اے سے متعلق قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ ترمیمی بل سے غیر ملکی عطیات حاصل کرنے والے اقلیتی اداروں سمیت تعلیمی ادارے، اسپتال، بزرگوں کی دیکھ بھال کے مراکز اور دیگر فلاحی تنظیمیں متاثر ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف سی آر اے رجسٹریشن منسوخ ہونے یا اس کی تجدید نہ ہونے کی صورت میں اداروں کے خلاف مجوزہ اقدامات پر تشویش ہے۔ وزیر نے زور دیا کہ ضابطہ جاتی کارروائی آئینی اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ راجموہن نے ان شقوں پر بھی اعتراض کیا جن کے تحت کسی فلاحی تنظیم کی ایف سی آر اے رجسٹریشن منسوخ، تجدید سے انکار، ختم یا رضاکارانہ طور پر واپس کیے جانے کی صورت میں حکومت اس کے اثاثوں کو اپنے قبضے میں لے کر ان کا انتظام، تصرف یا فروخت کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی ادارے کے خلاف کوئی الزام نہیں ہے تو ایف سی آر اے کے تحت اسے حکومت کے حوالے نہیں کیا جانا چاہیے اور ایسے اداروں کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ وزیر نے واضح کیا کہ ریاستی حکومت قومی سلامتی یا غیر ملکی عطیات کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ضابطہ سازی کی مخالف نہیں ہے، تاہم جائز تعلیمی، طبی، مذہبی اور سماجی فلاحی اداروں کے حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ اسمبلی کی قرارداد میں ایف سی آر اے ترمیمی بل کو موجودہ شکل میں واپس لینے کے ساتھ ریاستی حکومتوں، مذہبی، فلاحی، تعلیمی، طبی اور سماجی تنظیموں سمیت تمام متعلقہ فریقوں سے جامع مشاورت کا مطالبہ کیا گیا۔ تمل ناڈو نے قدرتی انصاف، تناسب، جائیداد کے حقوق، جائز توقعات اور وفاقیت کے اصولوں پر مبنی حفاظتی اقدامات کی بھی ضرورت پر زور دیا۔ ساتھ ہی غیر ملکی عطیات کی وصولی اور استعمال میں شفافیت اور جواب دہی کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا۔

ڈی ایم کے نے بھی بل واپس لینے کا مطالبہ کیا

ڈی ایم کے کے راجیہ سبھا رکن پی ولسن نے کہا کہ ان کی جماعت مجوزہ ترمیمی بل کی مکمل طور پر مخالف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کرکے اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔ ولسن کے مطابق اگر حکومت بل واپس لینے پر غور نہیں کرتی تو اسے مزید جانچ کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی اس سلسلے میں تفصیلی رپورٹ تیار کرکے وزیر داخلہ کو پیش کرے گی۔ تمل ناڈو اسمبلی نے دوسری اہم قرارداد نیٹ کے خلاف منظور کی۔ ریاستی وزیر صحت کے ارون راج نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ نیٹ سماجی انصاف، مساوات اور ریاستی حقوق کے خلاف ہے۔ قرارداد میں انڈرگریجویٹ میڈیکل داخلوں کے لیے تمل ناڈو میں نیٹ ختم کرنے کی خاطر متعلقہ مرکزی قوانین میں ترمیم کا مطالبہ کیا گیا۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ دیہی اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلبہ، خصوصاً تمل میڈیم اسکولوں کے طلبہ، مہنگی کوچنگ پر بڑھتے انحصار کی وجہ سے نقصان میں رہتے ہیں۔ تمل ناڈو حکومت نے موقف اختیار کیا کہ 12 سال کی اسکولی تعلیم کے بعد ایک اضافی مسابقتی امتحان طلبہ پر غیر ضروری دباؤ ڈالتا ہے۔ حکومت نے انڈرگریجویٹ میڈیکل کورسز میں داخلے کے لیے بارہویں جماعت کے امتحانات کے نمبروں کو بنیاد بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔ نیٹ کے خلاف قرارداد کو ڈی ایم کے، اے آئی اے ڈی ایم کے، کانگریس، پی ایم کے، ڈی ایم ڈی کے، بائیں بازو کی جماعتوں اور دیگر چھوٹی جماعتوں کی حمایت حاصل ہوئی۔

بی جے پی کے واحد رکن نے واک آؤٹ کیا

اسمبلی میں بی جے پی کے واحد رکن ایم بھوجاراجن نے نیٹ ختم کرنے کی قرارداد کی مخالفت کی اور بعد میں ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ طلبہ کے لیے مواقع فراہم کرتا ہے اور ریاستی حکومت کو امتحان ختم کرنے کے بجائے طلبہ کے لیے بہتر کوچنگ سہولیات فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ غریب اور دیہی طلبہ کو مہنگے نجی کوچنگ مراکز پر انحصار سے بچانے کے لیے حکومت کو خصوصی منصوبہ شروع کرنا چاہیے۔ تمل ناڈو کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر اے آئی اے ڈی ایم کے نے بھی نیٹ کے خلاف اسمبلی قرارداد کی حمایت کی۔ اے آئی اے ڈی ایم کے رکن او ایس مانیان نے کہا کہ ان کی جماعت نیٹ مخالف پالیسی پر قائم ہے۔ ڈی ایم کے کے رکن متھوراجا نے بھی قرارداد کی حمایت کی۔ دونوں جماعتیں عام طور پر ریاستی سیاست میں ایک دوسرے کی سیاسی حریف ہیں، تاہم نیٹ کے معاملے پر دونوں نے ایک موقف اختیار کیا۔

کمل ہاسن نے سیاسی اتحاد کو سراہا

کمل ہاسن نے بھی دونوں قراردادوں کی متفقہ منظوری کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف نظریات رکھنے والی سیاسی جماعتوں کا تمل ناڈو کے مفادات کے معاملے پر ایک ساتھ آنا خوش آئند ہے۔ ہاسن نے نیٹ کے مکمل خاتمے اور مرکزی حکومت کے مجوزہ ایف سی آر اے ترمیمی بل کو واپس لینے کے مطالبے والی قراردادوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تمل ناڈو کی فلاح کے لیے سیاسی اتحاد کا یہ رجحان جاری رہنا چاہیے۔ تمل ناڈو اسمبلی کی دونوں قراردادیں مرکز اور ریاست کے تعلقات سے متعلق جاری سیاسی بحث کے پس منظر میں سامنے آئی ہیں۔ ایف سی آر اے کے معاملے میں ریاست کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی اور غیر ملکی عطیات کے استعمال میں جواب دہی ضروری ہے، لیکن جائز اداروں کو معمولی تکنیکی یا ضابطہ جاتی معاملات کی بنیاد پر سخت کارروائی سے تحفظ بھی ملنا چاہیے۔ دوسری جانب نیٹ کے معاملے میں ریاستی حکومت طویل عرصے سے زیادہ خودمختاری کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ بارہویں جماعت کا امتحان طلبہ کی صلاحیت جانچنے کا زیادہ منصفانہ ذریعہ ہوسکتا ہے اور اس سے نجی کوچنگ پر انحصار کم ہوگا۔ بی جے پی نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹ ملک بھر میں میڈیکل داخلوں کے لیے ایک مشترکہ معیار فراہم کرتا ہے اور دیہی و سرکاری اسکولوں کے طلبہ کو بھی مقابلے کا موقع دیتا ہے۔ تمل ناڈو اسمبلی کی تازہ کارروائی نے ایف سی آر اے اور نیٹ، دونوں معاملات کو ایک مرتبہ پھر مرکز اور ریاست کے درمیان سیاسی و آئینی بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

World Rhino Day 2026: ورلڈ رائنو ڈے پر پی ایم مودی کا بڑا اعلان، ’پروجیکٹ رائنو‘ شروع، آسام میں دنیا کے 80 فیصد گینڈے

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…

3 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز میں بھارت کا ڈنکا، خواتین ٹیم نے جیتا گولڈ میڈل، وزیر داخلہ امت شاہ نے دی مبارکباد

بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…

4 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: ’مکسڈ مارشل آرٹس میں بھارت کا تاریخی کمال…‘، وزیر اعظم نریندر مودی نے سچیکا تاریال کو دی مبارکباد

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…

5 hours ago