قومی

Celebrating 20 Cohorts of innovation at Nexus: نیکسَس میں اختراع کے بیسویں سنگ میل کا جشن

تحریر: چھایا شرما

نئی دہلی کے امیریکن سینٹر میں توانائی عروج پر تھی جب مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے بانیان ایک سنگ میل کا جشن منانے کے لیے یکجا ہوئے: موقع تھا نیکسس اسٹارٹ اپ ہب کے 20 ویں تربیتی بیچ کی تکمیل کا۔ نئی دہلی کے امریکی سفارت خانہ کے تعاون سے قائم نیکسَس ایک ایسا کلیدی پلیٹ فارم بن چکا ہے جو کاروبار، اختراع اورعلم کے تبادلے کے ذریعے امریکہ۔ہند تعاون کو فروغ دے رہا ہے۔

2017 میں اپنے آغاز سے اب تک نیکسس 245 سے زائد اسٹارٹ اپ کمپنیوں کو ایک جامع اور بھرپور نو ہفتے کے پروگرام کے ذریعے تربیت دے چکا ہے۔ اس پروگرام کے تحت بانیوں کو عملی تربیت، امریکی اورہندوستانی ماہرین کی رہنمائی اور پیشہ ورانہ نیٹ ورکس تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ اس پہل کے  نتائج قابل پیمائش ہیں: نیکسس سے تربیت یافتہ اسٹارٹ اپ کمپنیوں  نے اب تک سرکاری ونجی ذرائع سے 95 ملین ڈالر سے زیادہ کی فنڈنگ حاصل کی ہے۔

کاروباری نتائج سے آگے بڑھ کر نیکسس لوگوں کے درمیان روابط کو مضبوط کرتا ہے اور ایک ایسا مشترکہ اختراعی ماحولیاتی نظام تشکیل دینے میں معاون ہے جو 2025 کے امریکہ۔ہند سربراہانِ مملکت کے مشترکہ بیان میں درج اسٹریٹجک اہداف سے ہم آہنگ ہے، جن میں 21 ویں صدی کے لیے یو ایس۔انڈیا کمپیکٹ (یعنی فوجی شراکت داری، تیز ترتجارت اورٹیکنالوجی کے لیے مواقع میں اضافہ کرنا) بھی شامل ہے۔

کاروبار کے ذریعے روابط کو مضبوط کرنا

نیکسس نے اپنے ابتدائی دنوں سے ہی بازار کے لیے تیار اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے لیے ایک نقطہ آغاز کے طور پر کام کیا ہے۔ساتھ ہی امریکی کاروباری طریقوں اور اشتراکی ماڈلس کی نمایاں طور پر نمائش کی ہے۔ شرکاء امریکی اتالیقوں کے ساتھ قریبی طور پر کام کرتے ہیں، بین الاقوامی کیس اسٹڈیز سے سیکھتے ہیں اور دونوں ممالک کے اختراع پسند رہنماؤں سے طویل مدتی تعلقات قائم کرتے ہیں۔ خیالات کے اس متحرک تبادلے سے تجارتی تعلقات کو گہرائی ملتی ہے اور ہندوستان میں تیزی سے فروغ پاتے اختراعی منظرنامے میں امریکی نقوش وسیع ہوتے جاتے ہیں۔

اسپیس فِلِک کے بانی اندرنارائن چودھری، جو نیکسس کے سابق شرکاء میں شامل ہیں اور دوبارہ قابل استعمال خلائی  گاڑیاں تیار کر رہے ہیں، کہتے ہیں ’’نیکسس میں گزارے وقت نے اسپیس فِلِک کی ترقی اور اختراعی حکمت عملی کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔‘‘اس اسٹارٹ اپ نے نیکسس کے 19 ویں تربیتی بیچ میں حصہ لیا۔ وہ مزید کہتے ہیں ’’ہم نے سیکھا کہ اپنی مصنوعات اورخدمات کوحقیقی دنیا کی ضروریات سے کس طرح ہم آہنگ کریں، تاکہ ہم ان پہلوؤں پرتوجہ مرکوز کرسکیں، جوتعلیمی اداروں سے لے کرنجی سیٹلائٹ آپریٹروں تک مختلف قسم کے صارفین کے لیے بامعنی ہوں۔‘‘

یونیورسٹی شراکت داریاں اور امریکی مہارت

حال ہی میں مکمل ہونے والےتربیتی بیچ کی ایک نمایاں خصوصیت یونیورسٹی آف کنیکٹیکٹ (یوکون) کے ساتھ شراکت داری تھی۔ امریکی سفارت خانے کی گرانٹ سے معاونت یافتہ اس شراکت میں یوکون کے  اساتذہ نے دانشورانہ املاک، کاروباری ماڈل کی تشکیل اور بین الاقوامی سطح پر توسیع جیسے موضوعات پر ماہرانہ  اجلاس کی قیادت کی۔ یوکون کے ساتھ تعاون ایک اسٹارٹ اپ  کمپنی کے لیے امریکہ میں جدید انکیوبیشن کے مواقع کا دروازہ کھولنے کا سبب بنا۔

یہ شراکت داری اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ امریکی جامعات عالمی سطح پر کاروباری تربیت میں بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہی ہیں۔ پروگرام میں شریک ایک فرد  نے بتایا  ’’یوکون کے ذریعے ہمیں جو تعلیمی مہارت حاصل ہوئی، اس نے ہماری منصوبہ بندی کو گہرائی بخشی۔ اس تعاون نے ہمیں صرف مصنوعات کی تیاری سے آگے دیکھنے اور طویل مدتی سوچ اپنانے میں مدد دی۔‘‘

تجربہ گاہ  سے بازار تک خیالات کی رسائی

نیکسس کے 20 ویں تربیتی بیچ نے 15 ایسی اسٹارٹ اپ کمپنیوں  کو یکجا کیا جو روبوٹکس، تشخیص، زراعت، مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ آف تھنگس جیسے شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ ایک بانی نے پروگرام کے دوران ایک اہم صارف  کے ساتھ معاہدہ کیا، جس سے آمدنی میں سات گنا اضافہ ہوا۔ دیگر شرکاء نے بہتر کاروباری نمونوں ، سرمایہ کاروں سے مؤثر رابطے اور زیادہ مرکوز ترقیاتی حکمت عملیوں کی نشاندہی کی۔

اے آئی سے چلنے والے سرجیکل روبوٹس تیار کرنے والے اسٹارٹ اپ سائی چِپ روبوٹکس کے شریک بانی سرون کمار مڈیلا کہتے ہیں ’’ممکنہ شراکت داروں اور سرمایہ کاروں سے قائم ہونے والے روابط نے ایسی شراکت داریوں کی راہ ہموار کی جو ہمارے منصوبوں کو آگے بڑھانے اور مالی وسائل کے حصول کے لیے نہایت اہم ہیں۔‘‘ نیکسس کے 18ویں تربیتی بیچ کے فارغ التحصیل مڈیلا کا کہنا ہے کہ اس پروگرام نے ان کے صحت عامّہ  کے اسٹارٹ اپ کی تکنیکی اور تجارتی سمت کو مضبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

یہ نتائج اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ پروگرام میں حقیقی دنیا میں اطلاق کو کس قدر اہمیت دی جاتی ہے۔ شرکاء انفرادی رہنمائی کے سیشنوں، ہم منصب ساتھیوں کی آراء اور عملی تربیتی ورکشاپوں میں بھرپورشرکت کرتے ہیں۔ زیرآب ڈرونس اورسرجیکل مصنوعی ذہانت سے لے کر پائیدارغذائی پیکجنگ تک، نیکسس کے سابق شرکاء ایسی کمپنیاں قائم کررہے ہیں، جن کی عالمی سطح پرافادیت ہے۔

نیکسس کے فارغ التحصیل افراد نئی دہلی کے امیریکن سینٹرکے اختراعی ماحولیاتی نظام سے جڑے رہتے ہیں۔ امیریکن سینٹرکے آئی ہب کے ذریعے شرکاء کواعزازی رکنیت فراہم کی جاتی ہے جس کے تحت انہیں ڈیجیٹل لائبریریوں، منتخب مواد اورپیشہ ورانہ ترقی کے وسائل تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ یہ سہولیات ہندوستانی کاروباری افراد اور امریکی علمی نظاموں  کے درمیان طویل مدتی روابط کوبرقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

مستقبل کی جانب نگاہ

اب جب کہ نیکسس اپنے 20 ویں تربیتی بیچ کی تکمیل  کا جشن منا رہا ہے، یہ مستقبل کی سمت پیش قدمی بھی جاری رکھے ہوا ہے۔ سابق طلبہ کا پھیلتا ہوا نیٹ ورک، امریکی جامعات کے ساتھ جاری شراکتیں اور اعلیٰ معیار کی تربیت سے وابستگی: یہ سب مل کرنیکسس کو امریکہ۔ہند اختراعی تعاون کوفروغ دینے کے لیے ایک مرکزی پلیٹ فارم بناتے ہیں۔ امریکی  حصے داروں یا سرمایہ دار فریقوں کے لیے نیکسس ہندوستان کے متحرک اسٹارٹ اپ منظرنامے سے مؤثرطورپرجڑنے کا ایک قابل اعتماد ذریعہ ہے۔ ہندوستانی بانیوں کے لیے یہ عالمی سطح پر ترقی اورتوسیع کے نئے مواقع فراہم کرتا ہے۔ نیکسس ماڈل کی بنیاد ایک سادہ لیکن بامعنی خیال پر ہے اور وہ یہ کہ کاروبار اقوام کے درمیان ایک پُل بن سکتا ہے۔ ایک ایسا پُل جو لوگوں اورخیالات کوباہم جوڑتا ہے اورخوشحالی، اعتماد اورطویل مدتی شراکت داری کوفروغ دیتا ہے۔

بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی

Bharat Express

Recent Posts

Zimbabwe vs Australia: آسٹریلیا نے دوسرے ون ڈے میچ میں زمبابوے کو 84 رنز سے دی شکست، سیریز میں 0-2 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کی

ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…

8 minutes ago

Chief Minister Hemant Soren: جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو ای ڈی کیس میں ہائی کورٹ سے راحت نہیں، ٹرائل جاری رہے گا

جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…

40 minutes ago

Nandigram by-election: نندی گرام ضمنی انتخاب، سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی حمایت کے اعلان کے بعد کانگریس امیدوار ملن پردھان گرفتار

ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…

1 hour ago

Kiren Rijiju Praises Bazm-e-Sahafat: مرکزی وزیر کرن رجیجو نے بھارت ایکسپریس کے اردو کانکلیو کی ستائش کی، فیس بک پوسٹ میں لکھا- ’بزم صحافت‘ نے دیا مضبوط پلیٹ فارم

بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے اردو صحافت کانکلیو میں سابق مرکزی وزیرشاہنوازحسین اور سابق…

3 hours ago