قومی

CCI raids six paper mills: سی سی آئی نے این سی ای آر ٹی کی سپلائی سے منسلک مبینہ قیمتوں کے تعین کی تحقیقات کے سلسلے میں چھ کاغذی کارخانوں پر چھاپے مارے

ہندوستان  کی کاغذی صنعت دنیا کی کل پیداوار کا تقریباً پانچ فیصد حصہ رکھتی ہے اور اس کا سالانہ تخمینہ شدہ کاروبار 11 ارب امریکی ڈالر کے آس پاس ہے، جیسا کہ انڈین پیپر مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔

ستیہ انڈسٹریز، سلورٹن پلپ اور چڈھا پیپرز کے دفاتر پر چھاپے

ذرائع کے مطابق سی سی آئی نے منگل سے مہاراشٹر (مغربی بھارت) اور پنجاب، اتر پردیش اور نئی دہلی (شمالی بھارت) میں اچانک چھاپے مارنے شروع کیے۔ ان ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ستیہ انڈسٹریز، سلورٹن پلپ اور چڈھا پیپرز کے دفاتر پر چھاپے مارے گئے، جب کہ ایک اور ذریعے نے بتایا کہ شریانس انڈسٹریز کا دفتر بھی تلاشی کے عمل میں شامل تھا۔

ذرائع نے دیگر کمپنیوں کے نام ظاہر نہیں کیے

ستیہ انڈسٹریز کے چیف فنانشل آفیسر راچت ناگپال نے رائٹرز سے فون پر بات کرتے ہوئے سی سی آئی کے چھاپوں کی تصدیق کی اور بتایا کہ کمپنی نے تفتیش کاروں کے ساتھ مکمل تعاون کیا ہے۔ سلورٹن پلپ کے ایک عہدیدار نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ چڈھا پیپرز اور شریانس انڈسٹریز نے رائٹرز کی جانب سے بھیجے گئے سوالات کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔ سی سی آئی مبینہ کارٹیل سازی یا چھاپوں سے متعلق کسی بھی معاملے کی تفصیلات عوامی طور پر ظاہر نہیں کرتی اور پورے عمل کو خفیہ رکھتی ہے۔ اس ادارے نے بھی رائٹرز کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ مبینہ گٹھ جوڑ کا یہ معاملہ گزشتہ سال اس وقت سامنے آیا جب حکومت کے نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) نے شکایت درج کرائی تھی۔ یہ ادارہ اسکولوں کے لیے درسی کتابوں اور دیگر تعلیمی مواد کی تیاری کے لیے ملوں سے کاغذ خریدتا ہے۔ کونسل نے بھی اس معاملے پر کسی تبصرے سے گریز کیا۔

کیس کا آغاز خود ڈینٹسو نے سی سی آئی کو مبینہ گٹھ جوڑ کی اطلاع دے کر کیا

یہ چھاپے اس وقت آئے ہیں جب مارچ میں ایک اسی نوعیت کے ہائی پروفائل کیس کے تحت عالمی اشتہاری ایجنسیوں جیسے گروپ ایم، انٹرپبلک، پبلِسِس اور ڈینٹسو پر مبینہ قیمتوں کے گٹھ جوڑ کی تحقیقات کے لیے اسی طرح کی کارروائی کی گئی تھی۔ یہ تفتیش ابھی جاری ہے اور مکمل ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔اس کیس کا آغاز خود ڈینٹسو نے سی سی آئی کو مبینہ گٹھ جوڑ کی اطلاع دے کر کیا تھا، جس کے بعد اس نے رائٹرز کو بتایا کہ کمپنی نے سخت آڈٹ اور نگرانی کے نظام نافذ کیے ہیں۔ دیگر کمپنیوں نے ان الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔عام طور پر ایسی چھاپہ ماری کے دوران افسران دستاویزات اور موبائل فون کا ڈیٹا ضبط کرتے ہیں اور کمپنی کے اہلکاروں سے تفتیش کرتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Census 2027 Centre Amends Rules: مردم شماری کے قواعد میں ترمیم، پرائیویٹ اسکولوں کے عملے پر کیا پڑے گا اثر؟

مرکزی حکومت نے مردم شماری کے قواعد 1990 میں ترمیم کرکے نجی اسکولوں کے اساتذہ…

21 minutes ago

India-Maldives Relations: ہندوستان نے مالدیپ کی 30 ارب روپے کی کرنسی سویپ سہولت میں توسیع کی درخواست کو دی منظوری

ہندوستان نے مالدیپ حکومت کی 30 ارب روپے کی کرنسی سویپ سہولت میں توسیع کی…

33 minutes ago

Preeti Shekhar Slams Prashant Kishor: ’اپنی اوقات میں رہیے پرشانت کشور‘، بی جے پی کی جنرل سکریٹری پریتی شیکھر کا پی کے پر سخت حملہ

وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری سے متعلق بیان پر بہار کی سیاست گرم، ڈاکٹر پریتی شیکھر…

52 minutes ago

Mamata Banerjee’s statement: ابھجیت دیپکے کو حراست میں لیے جانے پر ممتا بنرجی بولیں، ’گھبراؤ مت، ابھی دیدی آپ کے ساتھ ہے‘

ممتا بنرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ’’دہلی پولیس…

2 hours ago