قومی

Modi Govt Action on CBSE Chairman and Secretary: سی بی ایس ای کے چیئرمین اورسکریٹری کے تبادلہ سے کتنا رکے گا ہنگامہ؟ محکمہ تعلیم کی جانچ پر سب کی نظریں مرکوز

نئی دہلی: سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کے مسائل سے متعلق مودی حکومت نے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ سی بی ایس ای کے چیئرمین راہل سنگھ اورسکریٹری ہمانشوگپتا کا تبادلہ کردیا گیا ہے۔ یہ اقدام سی بی ایس ای کے “آن-اسکرین مارکنگ” (اوایس ایم) سسٹم میں وسیع پیمانے پرمبینہ بے ضابطگیوں کے بعد کیا گیا ہے۔ حالانکہ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس کارروائی کے بعد کیا سی بی ایس ای میں ہونے والی بے ضابطگیاں ختم ہوجائیں گی۔

آن-اسکرین مارکنگ سے متعلق انکوائری کمیٹی کی بھی تشکیل

سی بی ایس ای نے آن-اسکرین مارکنگ کے عمل میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ یہ کمیٹی اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرے گی۔ صلاحیت سازی کمیشن (سی بی سی) کی چیئرپرسن ایس رادھا چوہان کوسونپی گئی ہے۔ وہ ضرورت پڑنے پردوسرے محکموں کے افسران کی مدد لے سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، کیپسٹی بلڈنگ کمیشن کوکمیٹی کوسیکرٹریل مدد فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔  اس کمیٹی کواپنی تحقیقات مکمل کرکے ایک ماہ کے اندراپنی رپورٹ ڈپارٹمنٹ آف پرسنل اینڈ ٹریننگ (ڈی اوپی ٹی) کوپیش کرنی ہوگی۔ آن اسکرین مارکنگ کے تحت، طلباء کی جوابی شیٹس کوسکین کیا جاتا ہے اورکمپیوٹراسکرین پرچیک کیا جاتا ہے۔ سی بی ایس ای کا دعویٰ ہے کہ یہ فوری اورمنصفانہ جانچ کویقینی بناتا ہے، لیکن اس نظام کے نفاذ کے بعد سے طلباء اوروالدین نے متعدد شکایات اٹھائی ہیں۔

طلباء اوروالدین کا کیا ہے الزام؟

طلباء اوروالدین کا الزام ہے کہ نتائج کوڈیجیٹل طورپرچیک کرنے کے بعد دوبارہ جانچ کے عمل کے دوران انہیں درست اورواضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ کچھ طلباء کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی بہترین تحریرکے مقابلے میں بہت کم نمبرحاصل کئے ہیں، جبکہ دوسرا یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ان کے نتیجے میں جوکاپی جانچ کی گئی، وہ ان کی نہیں تھی۔ اس کے علاوہ کاپیوں کی خراب اسکیننگ، کمپیوٹرکی تصدیق کے دوران تکنیکی خرابیوں، مارکس اپ لوڈ کرنے میں غلطیوں اورڈیجیٹل طریقہ کارمیں خامیوں کا پتہ لگانے میں دشواری کے حوالے سے شکایات سامنے آئی ہیں۔

محکمہ تعلیم کی جانچ پر سب کی نظریں مرکوز

تمام نظریں محکمہ تعلیم کی تحقیقات پرلگی ہوئی ہیں۔ تلنگانہ کانگریس لیڈرشیام موہن ریڈی نے بھی اس معاملے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ملک بھرمیں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔ جبکہ سی بی ایس ای نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل شفاف تھا، محکمہ تعلیم کی تحقیقات کے نتائج اہم ہوں گے۔ طلبہ یونینوں نے خبردارکیا ہے کہ جب تک ہرمتاثرہ طالب علم کو انصاف نہیں مل جاتا وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

 بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Modi’s Focus on Water Education: پانی کے تحفظ پر مودی حکومت کا بڑا زور، اسکولوں کے نصاب میں شامل ہوں گے آبی انتظام سے متعلق موضوعات

نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…

5 hours ago

UDMA Day 2026: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اُڈما ڈے 2026 کا انعقاد 10 اکتوبر سے، یونانی طب، ادویہ سازی، تحقیق، تعلیم اور صحت سے وابستہ نمائندگان کی شرکت

میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…

5 hours ago

INDIA Alliance Protest: ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا ملک گیر احتجاج، پٹنہ میں تیجسوی کا مارچ، لکھنؤ اور بنگلورو میں بھی مظاہرے

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…

6 hours ago