قومی

Central Bureau of Investigation: ملک میں 661 کروڑ روپے کے سرکاری فنڈ گھپلے میں سی بی آئی کی بڑی کارروائی، بینک اور افسران کی ملی بھگت کے سنگین الزامات

نئی دہلی: ملک میں 661 کروڑ روپے کے مبینہ سرکاری فنڈ گھپلے نے ہلچل مچا دی ہے، جس میں آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک اور اے یو اسمال فنانس بینک سے جڑے معاملات پر مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے دہلی-این سی آر، چندی گڑھ اور پنچکولہ سمیت متعدد مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے ہیں۔ اس کارروائی کے دوران اہم دستاویزات، ڈیجیٹل شواہد اور جائیداد سے متعلق ریکارڈ برآمد کیے گئے ہیں، جنہیں تفتیش کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔سی بی آئی کے مطابق یہ معاملہ تقریباً 661 کروڑ روپے کے سرکاری فنڈ کے مبینہ غلط استعمال اور منظم مالی بے ضابطگیوں سے متعلق ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ سرکاری رقم کو قواعد و ضوابط کے خلاف مختلف بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیا گیا، جس کے بعد اسے مزید متعدد اکاؤنٹس کے ذریعے گھما پھرا کر مبینہ طور پر ذاتی اور غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس پورے نیٹ ورک میں سرکاری افسران اور بینک اہلکاروں کی ملی بھگت کے سنگین شکوک سامنے آئے ہیں، جس نے کیس کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس مبینہ گھپلے میں ہریانہ کیڈر کے بعض سینئر افسران کے نام شامل ہیں، جبکہ ایک نجی کنسلٹنسی کمپنی اور اس کے ڈائریکٹر کے کردار کو بھی مشکوک پایا گیا ہے۔ سی بی آئی کے مطابق نوئیڈا میں قائم ایک کمپنی کے اکاؤنٹ میں مبینہ طور پر بڑی رقم منتقل کی گئی، جس کے بعد وہ رقم کمپنی کے ڈائریکٹر کے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کر دی گئی۔ اس مالی لین دین کے سلسلے نے تفتیشی اداروں کو ایک وسیع نیٹ ورک کی طرف متوجہ کیا ہے۔چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران سی بی آئی نے متعدد ڈیجیٹل آلات، کمپیوٹر ریکارڈ، موبائل فونز اور اہم فائلیں ضبط کی ہیں۔ ان شواہد کی بنیاد پر تفتیش کار اب پورے مالیاتی نیٹ ورک کو جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ اس مبینہ گھپلے میں کون کون سے افراد براہ راست یا بالواسطہ طور پر ملوث ہیں۔یہ تحقیقات ابتدائی طور پر ہریانہ اسٹیٹ وِجیلنس اینڈ اینٹی کرپشن بیورو اور چندی گڑھ اکنامک آفینس وِنگ میں درج مقدمات کی بنیاد پر شروع ہوئیں، جنہیں بعد ازاں سی بی آئی نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔

کیس کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سی بی آئی نے پنچکولہ کی خصوصی عدالت میں پہلی چارج شیٹ بھی داخل کر دی ہے، جب کہ مزید گرفتاریاں اور انکشافات متوقع ہیں۔سی بی آئی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور آنے والے دنوں میں اس مبینہ گھپلے میں مزید بڑے نام سامنے آ سکتے ہیں۔ اس کیس نے نہ صرف بینکنگ نظام بلکہ سرکاری فنڈز کی نگرانی اور انتظامی شفافیت پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

On This Day Cricket: بھارت 52 سال بعد بنا ونڈے کا عالمی چمپئن، پہلی بار ٹرافی اٹھاکر رقم کی تاریخ

 ہندوستانی ٹیم نے سال 2025 میں آج ہی کے دن 52 سال سے چلے آرہے…

3 minutes ago

Jhunjhunu Tragedy: وزیر اعظم مودی نے جھنجھنو حادثے پر کیا افسوس کا اظہارِ، کیسے پیش آیا اتنا بڑا حادثہ؟

وزیر اعظم دفتر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وزیر اعظم کا…

8 minutes ago

Ram Mandir Donation Theft Case: سپریم کورٹ نے نگرانی ختم کی، مجسٹریٹ کو قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت

نئی دہلی: ایودھیا کے رام مندرمیں مبینہ طورپرچڑھاوا چوری اورمالی بے ضابطگیوں کے معاملے میں…

39 minutes ago

Reliance Share Price: ریلائنس نے 45 منٹ میں کمائے 1.29 لاکھ کروڑ روپے،پہلے منافع میں رقم کی تاریخ، اب شیئر بازار میں مچائی دھوم

ریلائنس انڈسٹریز کے شیئرز میں زبردست تیزی کے نتیجے میں کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں…

1 hour ago