نئی دہلی: ایسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سیول رائٹس (اے پی سی آر) کی تازہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ’’آئی لَو محمد‘‘ مہم کے بعد ملک بھرمیں مجموعی طورپر4,505 مسلمانوں پرپولیس کے ذریعہ مقدمات درج کئے گئے اور265 افراد کوگرفتارکیا گیا ہے، جن میں صرف بریلی شہرسے ہی 89 گرفتاریاں شامل ہیں۔
پولیس کارروائی سے مسلمانوں میں خوف وہراس کا ماحول
رپورٹ کے مطابق، محض 30 دنوں میں 23 شہروں میں 45 ایف آئی آردرج کی گئیں— یہ تمام کے تمام مسلمانوں کے خلاف ہی درج ہوئیں۔ اے پی سی آرٹیم کے مطابق، ابھی بھی بریلی کے بارادری علاقے میں پولیس کی بھاری تعیناتی کے باعث حالات کشیدہ ہیں اورمزید گرفتاریوں کے سبب لوگوں میں خوف وہراس کا ماحول ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بریلی میونسپل کارپوریشن نے مسلمانوں کے 27 مکانات کو’’غیر قانونی‘‘ قراردے کرنوٹس دیئے ہیں اوربلڈوزرکارروائی کے ذریعہ خوف پیدا کیا گیا۔
پولیس کے خلاف لگایا گیا یہ بڑا الزام
اے پی سی آرکے نیشنل سکریٹری ندیم خان نے کہا، ’’بریلی میں قانون نے ایک الگ چہرہ دکھایا، جیسے پورا شہرپولیس اسٹیٹ بن گیا ہو۔‘‘ فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے بتایا کہ ایف آئی آرمیں سنگین دفعات 132 اور302 جیسی دفعات لگائی گئیں، حالانکہ کوئی جانی نقصان یا تشدد کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ وکلاء کے مطابق انتظامیہ کومیمورنڈم دینا ایک آئینی حق ہے، مگریہاں اسے جرم بنا دیا گیا۔
انتظامیہ کی طرف سے یکطرفہ کارروائی پر سوال
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بریلی کی انتظامیہ نے درجنوں دکانیں اورشادی ہال بغیرکسی نوٹس کے سیل کردیئے گئے۔ حالانکہ یہ معاملہ وقف ٹریبونل کورٹ میں زیرسماعت ہے۔ اے پی سی آرنے اس پوری کارروائی کو’’اجتماعی سزا اورمذہبی تشخص کومجرمانہ رنگ دینے‘‘ کی نئی مثال قراردیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
اس پہل کا آغاز اس مقصد سے کیا گیا کہ پی او پی سے بنی…
وائرل ویڈیو میں خاتون سیٹی گنڈکی ندی پر بنے ایک پل پر کھڑی نظر آ…
گنیش مورتیوں کے وسرجن پر سختی کی ایک بڑی وجہ ان کی تیاری اور سجاوٹ…
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی شہری نے بتایا…
رپورٹس کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ ایران قطر کے رابطے میں ہے اور…
ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اندرونی تنازع پر جیتن رام مانجھی نے کہا کہ…