کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت اور حکمرانی کے ریکارڈ کی تعریف کی ہے۔ کینیڈین وزیر اعظم نے پی ایم مودی کے مسلسل کام کرنے کے انداز اور عام لوگوں تک ترقی کے فوائد پہنچانے پر ان کی توجہ کو نمایاں کیا۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے اوٹاوا اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط اور گہرا کرنے کی کوششوں کا بھی اشارہ دیا۔آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں واقع لووی انسٹی ٹیوٹ تھنک ٹینک میں خطاب کرتے ہوئے کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک منفرد اور انتہائی منظم لیڈر قرار دیا، جو نہایت مصروف سیاسی شیڈول کے باوجود مسلسل سرگرم رہتے ہیں۔
وزیر اعظم مودی کے ساتھ اپنی حالیہ گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے کارنی نے کہا،“دیکھیے، وہ ایک غیر معمولی شخصیت ہیں۔ میں کہوں گا کہ تقریباً 25 سال ہو گئے ہیں اور انہوں نے ایک دن کی بھی چھٹی نہیں لی۔ گزشتہ پچیس برسوں سے وہ یا تو گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے ہیں یا بھارت کے وزیر اعظم، اور اس عرصے میں انہوں نے ایک دن بھی آرام نہیں کیا۔” انہوں نے کہا کہ پی ایم مودی کی سیاسی رسائی بہت وسیع ہے۔ وہ ہر ہفتے انتخابی مہم یا عوامی رابطے کے پروگراموں میں جاتے ہیں اور ان کی ریلیوں میں اکثر ڈھائی لاکھ تک لوگ شریک ہوتے ہیں۔ کارنی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وزیر اعظم مودی پورے ملک میں بڑے پیمانے پر عوامی حمایت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔کینیڈا کے وزیر اعظم نے کہا کہ مودی کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران انہیں بھارت میں جاری اقتصادی اصلاحات اور ڈیجیٹل تبدیلی کے پس منظر میں موجود حکمرانی کے وژن کو سمجھنے کا موقع ملا۔ خاص طور پر ان اقدامات کو جو سرکاری فوائد کو براہِ راست عام لوگوں تک پہنچانے پر مرکوز ہیں۔ کارنی کے مطابق، “وہ ایسے رہنما ہیں جو نتائج دینے پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں، چاہے وہ دیہی علاقوں کے گھرانے ہوں یا سڑکوں پر زندگی گزارنے والے عام لوگ۔” انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں مالیاتی اور تکنیکی اصلاحات کا مقصد ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر کے نظام کو مضبوط بنانا اور سرکاری اخراجات میں ہونے والی بدعنوانی یا لیکیج کو کم کرنا تھا۔
ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم، یو پی آئی
کارنی نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم، یو پی آئی اور دیگر اقدامات کے پیچھے اصل مقصد یہ تھا کہ پیسہ ریئل ٹائم میں براہِ راست عوام تک پہنچ سکے اور کروڑوں لوگوں کو باقاعدہ معیشت کا حصہ بنایا جا سکے۔انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ وزیر اعظم مودی عالمی سفارت کاری کے اعلیٰ ترین سطح پر کام کرنے کے باوجود زمینی حقائق اور عام شہریوں کے مسائل کو نظر انداز نہیں کرتے۔ کارنی نے کہا،“ایک طرف وہ عالمی سطح پر ابھرتے ہوئے بھارت کی قیادت کر رہے ہیں، جو نہایت مثبت بات ہے، اور دوسری طرف وہ مسلسل عام لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔”
اسٹریٹجک نقطۂ نظر آج کی بدلتی ہوئی عالمی سیاست کو سمجھنے میں اہم ثابت ہو رہا ہے
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ بھارت کا طویل عرصے سے قائم اسٹریٹجک نقطۂ نظر آج کی بدلتی ہوئی عالمی سیاست کو سمجھنے میں اہم ثابت ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق بھارت نے کئی ایسے جغرافیائی و سیاسی رجحانات کو پہلے ہی بھانپ لیا تھا جو اب عالمی نظام کو نئی شکل دے رہے ہیں۔ بدلتی عالمی صورتحال کے بارے میں کارنی نے کہا، “ان کا شاید یہی جواب ہوگا کہ آپ کو یہ سمجھنے میں اتنا وقت کیوں لگا۔ آخرکار 1947 میں آزادی کے بعد سے بھارت غیر وابستہ پالیسی پر عمل کرتا رہا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ کینیڈا اور بھارت کے درمیان نئی ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ خاص طور پر مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں دونوں ممالک مشترکہ طور پر کام کر سکتے ہیں، کیونکہ اس شعبے میں مضبوط اور لچکدار نظام کی ضرورت ہے۔ کارنی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ گزشتہ برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں کچھ سنجیدہ چیلنجز سامنے آئے، تاہم دونوں حکومتیں تعلقات کو دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا،“گزشتہ 11 مہینوں میں بھارت کے ساتھ اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کے میدان میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ابھی بھی بہت کچھ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔”
بھارت ایکسپریس اردو۔
اس شلوک کا مفہوم ہے کہ جس شخص کا ذہن تذبذب سے پاک، جو نظم…
وورا کا الزام ہے کہ 2011 میں ان کی معلومات کے بغیر مبینہ طور پر…
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…
آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…