قومی

Calcutta High Court Reinstates CRPF Jawan Dismissed: دوسری شادی کے الزام میں برطرف، کلکتہ ہائی کورٹ نے سی آر پی ایف جوان کو پھر کیا بحال، کورٹ کا بڑا فیصلہ

کلکتہ: کلکتہ ہائی کورٹ نے مغربی بنگال کے ضلع پشچم مدناپور میں تعینات سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے ایک جوان کو دوسری شادی کے الزام میں برطرف کیے جانے کے بعد دوبارہ بحال کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ متعلقہ جوان کو محض سنی سنائی باتوں اور شبہات کی بنیاد پر نوکری سے نکالا گیا، جو قانونی طور پر درست نہیں تھا۔ جسٹس اجے کمار گپتا نے اس معاملے کی سماعت کے دوران کہا کہ عدالت اپیل اتھارٹی کے طور پر کام نہیں کر رہی، تاہم اگر کسی فیصلے میں شواہد کی کمی ہو یا وہ قانونی اصولوں کے منافی ہو تو عدالت مداخلت کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس میں محکمانہ کارروائی کے نتائج غیر واضح اور ناکافی شواہد پر مبنی تھے، اس لیے عدالت کو مداخلت کرنا ضروری سمجھا گیا۔

تفصیلات کے مطابق، کرناٹک سے تعلق رکھنے والا یہ جوان گزشتہ 24 برسوں سے سی آر پی ایف میں کانسٹیبل کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا۔ اس پر الزام تھا کہ وہ تریپورہ کی ایک خاتون کے ساتھ فرار ہو گیا اور سنہ 2001 میں اس سے شادی کر لی، جبکہ اس کی پہلی شادی پہلے سے موجود تھی۔ سی آر پی ایف کے قواعد کے مطابق دوسری شادی کرنا ممنوع ہے، جس کے باعث 11 جون 2020 کو اسے ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

تاہم جوان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ اس کی صرف ایک ہی شادی ہوئی ہے، جو 1997 میں انجام پائی تھی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اس کے خلاف لگائے گئے الزامات غلط شناخت اور ریکارڈ میں غلط اندراج کی بنیاد پر عائد کیے گئے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ مبینہ دوسری شادی کے حوالے سے کوئی ٹھوس یا مستند ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔ برطرفی کے بعد کانسٹیبل نے قانونی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کیا۔ اس نے 29 ستمبر 2020 کو بنگلورو میں سی آر پی ایف کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل کے سامنے اپیل دائر کی، تاہم یہ مسترد ہو گئی۔ اس کے بعد 5 مارچ 2021 کو نظرثانی کی درخواست بھی خارج کر دی گئی، جبکہ اسی سال 6 اکتوبر کو ایک اور اپیل بھی ناکام رہی۔

بعد ازاں اس نے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جہاں اس کیس کی تفصیلی سماعت ہوئی۔ عدالت نے پایا کہ محکمانہ کارروائی میں بنیادی شواہد کی کمی تھی اور صرف پولیس رپورٹ اور قیاس آرائیوں کی بنیاد پر اسے قصوروار قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی سرکاری ملازم کے خلاف سخت کارروائی کے لیے ٹھوس اور ناقابل تردید ثبوت ہونا ضروری ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر اس طرح کی کارروائی برقرار رکھی جاتی تو اس سے جوان کی پیشہ ورانہ، ذاتی اور جذباتی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوتے۔ چنانچہ عدالت نے حکم دیا کہ مذکورہ جوان کو فوری طور پر اس کی ملازمت پر بحال کیا جائے۔ یہ فیصلہ نہ صرف اس کیس کے لیے اہم ہے بلکہ مستقبل میں ایسے معاملات کے لیے بھی ایک مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Sleeper Bus Fire Accident: نوئیڈا سے مہوبہ جا رہی سلیپر بس بنی آگ کا گولہ، یمنا ایکسپریس وے پر 9 مسافروں کی جل کر دردناک موت

اتر پردیش کے گریٹر نوئیڈا میں یمنا ایکسپریس وے پر ایک دل دہلا دینے والا…

18 minutes ago

Mirabai Chanu Silver: اب28 سال کا انتظار ختم! میرابائی چانو نے ایشین گیمز میں جیتا تاریخی سلور

ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…

10 hours ago

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

11 hours ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

11 hours ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

12 hours ago