قومی

Calcutta High Court’s big decision regarding Eid-ul-Adha 2026: عیدالاضحیٰ کے موقع پرقربانی سے متعلق کلکتہ ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، کہا- گائے قربانی کا حصہ نہیں، عرضی منسوخ

عیدالاضحیٰ سے پہلے کلکتہ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے عیدالاضحیٰ پرجانوروں کی قربانی پرپابندی عائد کئے جانے کے مغربی بنگال حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی کو خارج کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ گائے کی قربانی تہوارکا حصہ نہیں ہے اورریاست کوہدایت دی کہ وہ دوسرے جانوروں کی قربانی کے لئے چھوٹ دینے پرغورکرے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ گائے کی قربانی کسی مذہبی روایت یا تہوارکا لازمی حصہ نہیں ہے۔ ریاستی حکومت عوامی مفاد میں جانوروں کی قربانی پرپابندی لگا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ عدالت نے کھلے عام یا عوامی مقامات پرجانوروں کے ذبیحہ اورقربانی پرپابندی عائد کرنے کی بھی ہدایت دی۔ اس کی اجازت صرف مخصوص اورمحفوظ مقامات پرہے۔ ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ گائے کی قربانی (بلی) اسلام یا عیدالاضحیٰ کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ اس سے قبل، مغربی بنگال حکومت نے ایسے قوانین نافذ کئے تھے، جن میں جانوروں کے ذبح کرنے سے پہلے سخت طبی معائنے اورحکام سے سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی تھی۔

مندروں میں جانوروں کی قربانی پرپابندی کی عرضی

عدالت نے مندروں میں بڑے پیمانے پرجانوروں کی قربانی پرپابندی لگانے کی درخواستوں کو بھی خارج کردیا، جیسا کہ کالی کی پوجا کے دوران کی جانے والی بلی۔ عدالت نے کہا کہ مذہبی رسومات پرمکمل پابندی نہیں لگائی جا سکتی اوراسے ملک گیرسطح پرسبزی کھلانے کی (ویجیٹیرن بنانے) تحریک کے حصے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا ہے۔

کیا ہے پورا تنازعہ؟

اس پورے تنازعہ میں بنگال حکومت کی طرف سے جاری ایک نوٹیفکیشن ہے۔ اس میں تہوار کے دوران جانوروں کی بلی یا قربانی پرسخت ضابطہ اور شرائط رکھی گئی ہیں۔ عرضی گزاروں نے جانوروں کے ذبیحہ اینیمل سلاٹر کنٹرول ایکٹ 1950 کے تحت کے تہوارکے لئے خصوصی چھوٹ مانگی ہے۔ دوسری جانب، ریاستی اورمرکزی حکومت کے وکلاء نے ان درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے یہ دلیل دی ہے کہ نوٹیفکیشن 1950 کے قانون کے تحت درست ہے۔

بنگال حکومت نے جاری کیا نوٹیفکیشن

بنگال حکومت نے اپنے جو ضوابط نوٹیفکیشن کے ذریعہ جاری کئے ہیں، اس میں ان جانوروں کی قربانی پرپوری طرح پابندی لگائی گئی ہے، جس کے لئے فٹ سرٹیفکیٹ نہیں جاری کئے گئے ہوں۔ اس کے علاوہ عوامی مقامات یا کھلے مقام پرجانوروں کی قربانی پربھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ ساتھ ہی اگرکوئی بھی شخص ان کی خلاف ورزی کرتا ہوا پایا جاتا ہے تواس پرتعزیری کارروائی کی جائے گی۔

 بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Hasan Mahmud Makes History: حسن محمود نے رقم کی تاریخ، ٹیسٹ کرکٹ میں ہیٹ ٹرک لینے والے بنت بنگلہ دیش کے پہلے تیز گیندباز

افغانستان نے اپنے آخری چھ وکٹیں صرف 29 رنز کے اضافے پر گنوا دیں۔ افغانستان…

56 minutes ago

Saurabh Bhardwaj: حکومت سے سوال کرنا ہتک عزت نہیں، عدالت سے پرویش ورما کو جھٹکا، سوربھ بھاردواج کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ خارج

عدالت نے کہا کہ سوربھ بھاردواج کی پوسٹس اور ویڈیوز کو الگ الگ حصوں میں…

59 minutes ago

Jantar Mantar Protest: سی جے پی کے احتجاج پر اقوام متحدہ نے ظاہر کی تشویش، کس معاملے پر کیا گیا تھا احتجاج؟

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے ترجمان تھامین الخیتان نے دہلی میں احتجاج…

2 hours ago

Gurugram Police Release Dhruv Rathee: یوٹیوبر دھرو راٹھی کو گروگرام پولیس نے دیر رات کیا رہا، احتجاج میں شرکت نہ کرنے کی دی ہدایت

دھرو راٹھی گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج میں…

3 hours ago

Union Commerce and Industry Minister Piyush Goyal: ہندوستان کی عالمی تجارتی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے فیصلہ کن اقدامات ضروری: پیوش گوئل

پیوش گوئل نے کہا کہ ہندوستان کا ہدف مالی سال 2026-27 میں ایک ٹریلین ڈالر…

4 hours ago