نئی دہلی: الیکشن کمیشن نے ملک بھر کی پانچ اسمبلی اور ایک لوک سبھا نشست پر ضمنی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کردیا ہے۔ کمیشن کے مطابق تین ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں واقع ان چھ نشستوں کے لیے 6 اکتوبر 2026 کو ووٹ ڈالے جائیں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 9 اکتوبر کو ہوگی۔ منتخب نمائندوں کے استعفے کے بعد یہ تمام نشستیں خالی ہوئی تھیں، جنہیں اب ضمنی انتخابات کے ذریعے پُر کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی انتخابات کے لیے نامزدگی کا عمل 9 ستمبر سے شروع ہوگا۔ امیدوار 16 ستمبر تک اپنے نامزدگی کے کاغذات داخل کر سکیں گے۔ نامزدگی کے کاغذات کی جانچ پڑتال 17 ستمبر کو ہوگی، جبکہ امیدوار 19 ستمبر تک اپنی امیدواری واپس لے سکیں گے۔ انتخابی شیڈول کے اعلان کے ساتھ ہی ان تمام حلقوں میں سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہونے کی توقع ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں امیدواروں کے انتخاب اور انتخابی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہوں گی۔
ان پانچ اسمبلی نشستوں پر ہوگا ضمنی انتخاب
الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق پانچ اسمبلی نشستوں کے لیے ضمنی انتخابات کرائے جائیں گے۔ ان میں تمل ناڈو کی مدورنتکم اور دھراپورم، پڈوچیری کی تھٹانچاودی، مغربی بنگال کی ریجی نگر اور نندی گرام اسمبلی نشستیں شامل ہیں۔ ان حلقوں میں موجودہ نمائندوں کے استعفے کے بعد نشستیں خالی ہوئی تھیں۔ اب ان حلقوں کے ووٹرز نئے نمائندوں کے انتخاب کے لیے 6 اکتوبر کو اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے۔
نوگاؤں لوک سبھا نشست پر بھی ضمنی انتخاب
اسمبلی نشستوں کے علاوہ آسام کی نوگاؤں لوک سبھا نشست پر بھی ضمنی انتخاب ہوگا۔ یہ نشست رکن پارلیمنٹ پردیوت بوردولوی کے استعفے کے بعد خالی ہوئی ہے۔ اس طرح لوک سبھا کی اس ایک نشست سمیت مجموعی طور پر چھ نشستوں پر ضمنی انتخابات کرائے جا رہے ہیں۔ ووٹنگ کے بعد تمام نشستوں کے نتائج 9 اکتوبر کو ووٹوں کی گنتی کے ذریعے سامنے آئیں گے۔
تمل ناڈو میں مدورنتکم اسمبلی نشست کے رکن مرگتھم کمارویل اور دھراپورم نشست کی رکن پی. ستیہ بھاما نے استعفیٰ دیا تھا۔ مغربی بنگال میں ریجی نگر کے رکن اسمبلی ہمایوں کبیر اور نندی گرام کے رکن اسمبلی سوویندو ادھیکاری کے استعفے کے بعد یہ نشستیں خالی ہوئیں۔ اسی طرح پڈوچیری میں این. رنگاسامی کے استعفے کے بعد تھٹانچاودی اسمبلی نشست خالی ہوئی۔ ان تمام خالی نشستوں پر اب الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات کا اعلان کیا ہے۔
ووٹر لسٹ کے SIR پر بھی اٹھ رہے سوالات
دوسری جانب ملک کی کئی ریاستوں میں ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کو لے کر تنازع بھی جاری ہے۔ سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے اس عمل کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔ قریشی نے SIR کے تحت ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں نام ہٹائے جانے پر تنقید کی اور غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت کے مقصد پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اس مہم کے تحت ووٹر لسٹ سے تقریباً 14 سے 15 کروڑ لوگوں کے نام ہٹانے جیسے انتہائی مشکل کام کو مکمل کرنے پر الیکشن کمیشن مبارکباد کا مستحق ہے۔ ضمنی انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی اب متعلقہ حلقوں میں سیاسی مقابلہ تیز ہونے کی توقع ہے۔ امیدواروں کی نامزدگی، کاغذات کی جانچ اور انتخابی مہم کے بعد 6 اکتوبر کو ووٹنگ ہوگی، جبکہ 9 اکتوبر کو نتائج سامنے آئیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
28 سے 30 ستمبر تک ہونے والی ہڑتال پانچ روزہ بینکنگ ہفتے سمیت کئی مطالبات…
لولی پروفیشنل یونیورسٹی کے باہر احتجاج نے اختیار کی پُرتشدد شکل، طلبہ نے نعرے بازی…
بھارت منڈپم میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اشوک سنگھل…
ہندوستان نے وراٹ کوہلی اور کپتان شبھمن گل کی شاندار سنچریوں کی بدولت اتوار کو…
گجرات کے کچھ میں واقع کھاوڑا رینیوایبل انرجی پارک کو ملا الگ پن کوڈ اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو کانگریس پر حملہ تیز کرتے ہوئے سابق…