قومی

Jamat-E-Islami Hind: آسام میں مسلمانوں کو بے گھر اور  مکانوں کو بلڈوز کرنے کی کارروائی کو فوری طور سے بند کیا جائے: ملک معتصم خان

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے آسام میں بڑے پیمانے پر مکانات گرانے اور لوگوں کو بے گھر کرنے کی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فرقہ پرستی قرار دیا ہے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک ہزاروں بنگالی نژاد مسلم خاندان بے گھر ہو گئے ہیں اور ان کی مساجد ، مدارس اور دیگر سماجی اداروں کو بھی مسمار کر دیا گیا ہے۔

متاثرین کے ساتھ  یکجہتی کا اظہار

میڈیا کے لیے جاری ایک بیان میں جماعت اسلامی کے نائب امیر ملک معتصم خان نے کہا کہ فیلڈ سروے رپورٹس کے مطابق جون اور جولائی 2025 کے دوران صرف ضلع گوالپارہ میں تقریباً 4000 مکانات منہدم کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل پنچ رتنا، کرشاپکھری، بندر متھا اور انگتھی ہارا گورن نگر میں بھی بڑے پیمانے پر انہدامی کارروائیاں ہوئیں ہیں۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق حالیہ دنوں میں گوالپارہ، دھوبڑی اور نالباری اضلاع میں مجموعی طور پر 8000 سے زائد خاندان ان کارروائیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ آسام حکومت کی اس جارحیت سے مساجد اور دینی مدارس بھی محفوظ نہیں رہے ہیں۔ان کارروائیوں میں اب تک 20 سے زائد مساجد، 40 سے زائد مکتب اور دینی مدارس اور کئی عیدگاہوں کو نقصان پہنچایا گیا یا ان کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ شدید بارش کی وجہ سے پہلے ہی دریا کے کٹاؤ اور انتظامی غفلت کا شکار  کمزور طبقے کے مسلمانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ہم آسام حکومت کی ان تمام کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہیں اور متاثرین کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کر تے ہیں۔

فرقہ وارانہ تعصب اور غیر آئینی طرز عمل

ملک معتصم خان نے کہا کہ یہ کارروائیاں انسانیت، آئین اور منصفانہ طریقہ کار کے تمام اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ وہ خاندان جو گزشتہ 70 سے 80 برسوں سے ان زمینوں پر آباد ہیں اور جن کے پاس ووٹر آئی ڈی، آدھار کارڈ اور دیگر دستاویزات پہلےسے موجود ہیں انہیں بغیر کسی نوٹس کے بلڈوزر سے اکھاڑ پھینکا جا رہا ہے۔ مسلم اکثریتی بستیوں کو لگاتار نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والی برادریوں کی بستیوں کو دانستہ طور سے چھوڑ دینا فرقہ وارانہ تعصب کو ظاہر کرتا ہے جو کسی جمہوری ملک میں ناقابل قبول ہے۔ ملک معتصم نے کہا کہ ریاست میں خاص زمین اور پٹے کی زمینوں سے اجتماعی بے دخلی میں شدید قانونی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔مسلمانوں کو زمین سے بے دخل کرنے کے بعد اس زمین کو صنعتی و نجی کاروباریوں کو سونپا جا رہا ہے، جبکہ مقامی کسانوں کو آباد کرنے کے بجائے ان کو زمینوں سے محروم کیا جا رہا ہے ۔

 زمینیں چھین کر سرمایہ داروں کو دی جارہی ہیں

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند حکومت سے مطالبہ کرتی ہے آسام میں  آباد بستیوں کے خلاف جاری انہدامی اور بے دخلی کی کارروائیوں کو فوری طور پر روکا جائے۔ متاثرین کو انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کی جائے، جس میں اناج، بچوں کی خوراک، طبی امداد، ترپال، صاف پانی اور صفائی ستھرائی کے انتظامات شامل ہوں۔ یہ امدادی کام ضلعی انتظامیہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے ذریعے کیا جائے۔تمام متاثرہ خاندانوں کی مقررہ وقت میں بازآبادکاری کی جائے اور ان کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔  جن لوگوں کے پاس زمینیں نہیں ہیں کو سرکاری زمین پر بسانے کو ترجیح دی جائے۔ ایک اختیاراتی عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے جو ان انہدامی کارروائیوں کی قانونی حیثیت، فرقہ وارانہ امتیاز اور دیگر الزامات کی منصفانہ تحقیق کرے اور اپنی رپورٹ شائع کرے۔ منہدم کی گئی مساجد، مکاتب، مدارس اور عیدگاہوں کی بحالی کے لیے مقامی مسلم آبادی کو اعتماد میں لیکر ان کو تعاون فراہم کیا جائے۔ تمام قانونی تقاضوں کی سختی سے پاسداری کی جائے۔ متبادل بندوبست کے بعد ہی بے دخلی اور تمام عدالتی احکامات پر عمل درآمد کیا جائے۔

جمہوریت اور آئین کو بحال کیا جائے

ملک معتصم خان نے مزید کہاکہ ہم آسام کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور قومی انسانی حقوق کمیشن، اقلیتی کمیشن اور متعلقہ پارلیمانی کمیٹیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری فیکٹ فائنڈنگ مشن تشکیل دیں اور انصاف کو یقینی بنائیں۔ جب بلڈوزر حکومت کی پہچان بن جائے تو جمہوریت اور آئینی اقدار پس پشت چلے جاتے ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ بازآبادکاری، آئین و قانون کی حکمرانی اور انسانی بنیادوں پر حکومت کرے نہ کہ کمزور شہریوں کو اجتماعی سزا دے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Entertainment News: گزشتہ ایک دہائی میں فن کی جگہ آہستہ آہستہ تفریح لے رہی ہے: ربی شیرگل

ربی شیرگل کے گیتوں میں پنجابی موسیقی کے ساتھ راک، صوفی اور لوک موسیقی کا…

37 minutes ago

CEC Suspension Plea: سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو معطل کرنے کا عبوری حکم دینے سے کیا انکار

گیانیش کمار کی معطلی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن…

1 hour ago

PM Modi welcomed Swiss President: پی ایم مودی اور سوئس صدر گائے پارملن کے درمیان حیدرآباد ہاؤس میں اہم ملاقات

صدر پارملین کا راشٹرپتی بھون کے احاطے میں رسمی استقبال کیا گیا۔ صدر دروپدی مرمو…

1 hour ago

INDIA Alliance:ملک اور یوپی کا مسلمان تمہاری ذاتی جاگیر نہیں، انڈیا اتحاد پر برسے اسدالدین اویسی

اپوزیشن پر حملہ کرتے ہوئے اویسی نے کہا، سماج وادی پارٹی کے لوگوں اور تمہارے…

2 hours ago

RBI MPC’s three-day meeting begins: آر بی آئی کی ایم پی سی کی 3 روزہ میٹنگ شروع، 7 اکتوبر کو شرح سود پر ہوگا فیصلہ

اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی،…

3 hours ago